پاکستان مسلم لیگ ن نے جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے حکومت کے خلاف آزادی مارچ کی حمایت کرتے ہوئے اس میں بھرپور شرکت کا اعلان کردیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام(جے یو آئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف سے ملاقات کے لیے ماڈل ٹاؤن پہنچے جہاں ملاقات میں لانگ مارچ میں مسلم لیگ ن کی شرکت کے حوالے سے بات چیت کو حتمی شکل دی گئی اور مسلم لیگ نے مولانا کو اپنی بھرپور حمایت کی یقین دہانی کرائی۔ مزید پڑھیں: پاکستان فروری 2020 تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہی رہے گا ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے جو ہمیں لانگ مارچ میں بھرپور سپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ہم اس پر ان کے شکر گزار ہیں اور 31 اکتوبر کو عوام لاکھوں کی تعداد میں اسلام آباد میں داخل ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام جماعتوں کے قائدین اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور آئندہ اقدامات کے فیصلے بی مشترکہ طور پر کرنا چاہیں گے۔ جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ نے کہا کہ ہم بار بار کہہ چکے ہیں کہ یہ حکومت ناجائز بھی ہے اور نااہل بھی ہے اور ان کے لب و لہجے اور زبان سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کس طرح وہ ایک طرف ہم سے مذاکرات کے لیے کمیٹیاں تشکیل دے رہے ہیں اور دوسری طرف ہمیں گالیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ تضحیک، گالیاں، مذاکرات اور سنجیدگی کبھی بھی اکٹھا نہیں ہو سکتے اور اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو پہلے استعفیٰ دے جس کے بعد اگلے اقدامات کے لیے ہم مذاکرات کر سکتے ہیں کیونکہ استعفے کے بغیر مذاکرات کرنا ہمارے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اس موقع پر مسلم لیگ ن کے قائد شہباز شریف نےحکومتی کارکردگی کو بدترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اداروں نے عمران خان کی حمایت اس لیے کی کیونکہ انہیں امید تھی کہ ملک ترقی کرے گا لیکن وزیر اعظم ناکام ہو گئے۔ یہ بھی پڑھیں: حکومت نے مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے سے نمٹنے کی تیاری کرلی انہوں نے کہا کہ اداروں کی جتنی حمایت اس حکومت کو ملی، اگر اس کی 25فیصد حمایت کسی اور حکومت کو مل جاتی، تو ملک ترقی کی شاہراہ پر دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرتا۔ شہباز شریف نے کہا کہ کراچی سے پشاور تک عوام کہہ رہے ہیں کہ حکومت کو گھر جانا چاہیے اور نئے انتخابات ہونے چاہئیں اور ہم بھی اپنے قائد نواز شریف کی ہدایت کے مطابق 31اکتوبر کو اسلام آباد میں جلسہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی معاشی صورتحال تباہی کے دہانوں تک پہنچ چکی ہے، بے روزگاری سرمایہ کاری ختم ہو چکی ہے، مہنگائی عروج پر اور علاج عام آدمی کے لیے ناپید ہو گیا ہے اور حکومت نے ادویہ قیمتیں اتنی بڑھا دی ہیں عوام سسک رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے صدر نے کہا کہ ملک کی معاشی صورتحال اس وقت بدترین سطح پر ہے اور ورلڈ بینک نے پاکستان بارے کہا کہ گروتھ 2.4 تک آ چکی ہے۔ مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمٰن نے مذاکرات کی پیشکش مسترد کردی اس موقع پر شہباز شریف نے واضح کیا کہ 27اکتوبر کو یوم سیاہ ہے اور بھارتی ظلم، زیادتی اور بربریت کا سامنا کرنے والے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ جو دہشت گردی ہو رہی ہے، اس کے لیے ہم پوری طرح یکسو ہیں اور اس دن پوری قوم کے ساتھ مل کر ہم کشمیر کی آزادی کے لیے بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ اپنی آواز اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بار بار کہتی ہے کہ ہمیں معیشت خراب حالت میں ملی لیکن جب تحریک انصاف کی کی حکومت آئی تو معیشت کی بہت اچھی حالت تھی اور اگر آج بھی شفاف الیکشن کے نتیجے میں مسلم لیگ ن اور اپوزیشن کو قوم کی دوبارہ خدمت کا موقع ملے تو 6 مہینے میں معیشت کو پاؤں پر کھڑا کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس ملک سے بیماری، غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے دن رات محنت کریں گے۔ یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے 27اکتوبر کو حکومت کے خلاف اسلام آباد میں لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا تاہم 27 اکتوبر کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کے خلاف حکومت کی جانب سے یوم سیاہ منائے جانے کے پیش نظر انہوں نے تاریخ کو تبدیل کرتے ہوئے 31اکتوبر کو لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ یہ بھی پڑھیں: 'مولانا فضل الرحمٰن کی مکمل حمایت کرتے ہیں' مولانا فضل الرحمٰن مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف سے ملاقات کے بعد اسبق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کے گھر جائیں گے اور ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو بھی کریں گے۔ مولانا فضل الرحمٰن حکومت کے خلاف آزادی مارچ کے سلسلے میں تاجروں سے بھی ملاقات کریں گے۔

شہباز شریف بھی آزادی مارچ کے حامی

پاکستان مسلم لیگ ن نے جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے حکومت کے خلاف آزادی مارچ کی حمایت کرتے ہوئے اس میں بھرپور شرکت کا اعلان کردیا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام(جے یو آئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف سے ملاقات کے لیے ماڈل ٹاؤن پہنچے جہاں ملاقات میں لانگ مارچ میں مسلم لیگ ن کی شرکت کے حوالے سے بات چیت کو حتمی شکل دی گئی اور مسلم لیگ نے مولانا کو اپنی بھرپور حمایت کی یقین دہانی کرائی۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے جو ہمیں لانگ مارچ میں بھرپور سپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ہم اس پر ان کے شکر گزار ہیں اور 31 اکتوبر کو عوام لاکھوں کی تعداد میں اسلام آباد میں داخل ہوں گے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم تمام جماعتوں کے قائدین اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور آئندہ اقدامات کے فیصلے بی مشترکہ طور پر کرنا چاہیں گے۔

جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ نے کہا کہ ہم بار بار کہہ چکے ہیں کہ یہ حکومت ناجائز بھی ہے اور نااہل بھی ہے اور ان کے لب و لہجے اور زبان سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کس طرح وہ ایک طرف ہم سے مذاکرات کے لیے کمیٹیاں تشکیل دے رہے ہیں اور دوسری طرف ہمیں گالیاں دے رہے ہیں۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ تضحیک، گالیاں، مذاکرات اور سنجیدگی کبھی بھی اکٹھا نہیں ہو سکتے اور اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو پہلے استعفیٰ دے جس کے بعد اگلے اقدامات کے لیے ہم مذاکرات کر سکتے ہیں کیونکہ استعفے کے بغیر مذاکرات کرنا ہمارے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔

اس موقع پر مسلم لیگ ن کے قائد شہباز شریف نےحکومتی کارکردگی کو بدترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اداروں نے عمران خان کی حمایت اس لیے کی کیونکہ انہیں امید تھی کہ ملک ترقی کرے گا لیکن وزیر اعظم ناکام ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ اداروں کی جتنی حمایت اس حکومت کو ملی، اگر اس کی 25فیصد حمایت کسی اور حکومت کو مل جاتی، تو ملک ترقی کی شاہراہ پر دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرتا۔

شہباز شریف نے کہا کہ کراچی سے پشاور تک عوام کہہ رہے ہیں کہ حکومت کو گھر جانا چاہیے اور نئے انتخابات ہونے چاہئیں اور ہم بھی اپنے قائد نواز شریف کی ہدایت کے مطابق 31اکتوبر کو اسلام آباد میں جلسہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی معاشی صورتحال تباہی کے دہانوں تک پہنچ چکی ہے، بے روزگاری سرمایہ کاری ختم ہو چکی ہے، مہنگائی عروج پر اور علاج عام آدمی کے لیے ناپید ہو گیا ہے اور حکومت نے ادویہ قیمتیں اتنی بڑھا دی ہیں عوام سسک رہے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے صدر نے کہا کہ ملک کی معاشی صورتحال اس وقت بدترین سطح پر ہے اور ورلڈ بینک نے پاکستان بارے کہا کہ گروتھ 2.4 تک آ چکی ہے۔

اس موقع پر شہباز شریف نے واضح کیا کہ 27اکتوبر کو یوم سیاہ ہے اور بھارتی ظلم، زیادتی اور بربریت کا سامنا کرنے والے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ جو دہشت گردی ہو رہی ہے، اس کے لیے ہم پوری طرح یکسو ہیں اور اس دن پوری قوم کے ساتھ مل کر ہم کشمیر کی آزادی کے لیے بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ اپنی آواز اٹھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بار بار کہتی ہے کہ ہمیں معیشت خراب حالت میں ملی لیکن جب تحریک انصاف کی کی حکومت آئی تو معیشت کی بہت اچھی حالت تھی اور اگر آج بھی شفاف الیکشن کے نتیجے میں مسلم لیگ ن اور اپوزیشن کو قوم کی دوبارہ خدمت کا موقع ملے تو 6 مہینے میں معیشت کو پاؤں پر کھڑا کر دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس ملک سے بیماری، غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے دن رات محنت کریں گے۔

یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے 27اکتوبر کو حکومت کے خلاف اسلام آباد میں لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا تاہم 27 اکتوبر کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کے خلاف حکومت کی جانب سے یوم سیاہ منائے جانے کے پیش نظر انہوں نے تاریخ کو تبدیل کرتے ہوئے 31اکتوبر کو لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف سے ملاقات کے بعد اسبق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کے گھر جائیں گے اور ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو بھی کریں گے۔

مولانا فضل الرحمٰن حکومت کے خلاف آزادی مارچ کے سلسلے میں تاجروں سے بھی ملاقات کریں گے۔

x

Check Also

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ہر آنے والا دن ایک نئی کہانی سامنے لارہا ہے فردوس عاشق اعوان وفاقی حکومت کی ترجمان ہیں اور اُن کی کہی گئی ہر بات وزیر اعظم کی مرضی یا پالیسی کے مطابق ہوتی ہے مگر عمران خان کے ہی ایک وزیر فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں فردوس عاشق کے اس بیان کو جہا لت قرار دے دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عثمان بزدار پر تنقید وزیر اعظم پر تنقید کے برابر ہے گوکہ فردوس عاشق اعوان نے اسے فواد چوہدری کا بچپنا قرار دیا ہے مگر پنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی پی ٹی آئی کی صفوں میں سب کچھ صحیح نہیں لگ رہا اور پنجاب کے متعلق فواد چوہدری کے بیانات پر جہانگیر ترین کی خاموشی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، اطلاعات یہ ہی ہیں کہ پرویز الہی کی خوشنودی کے لیے انھیں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدار وزیر اعلی رہیں مگر فواد چوہدری کو مشیر اعلی بناکر زیادہ تر اختیارات دیئے جاسکتے ہیں جن سے پرویز الہی کی اچھی دوستی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پرویز الہی اپنا وزن کہاں ڈالتے ہیں کیا مسلم لیگ نون کی مدد سے وزیر اعلی بننا چاہیں گے یا فواد چوہدری کو بطور مشیر اعلی موقع دیں گے۔ پنجاب اسمبلی کے بیس ارکان نے جن کا پی ٹی آئی سے تعلق ہے ایک الگ گروپ بنالیا ہے جو کہ واضح اشارہ ہے کہ یہ بیس ارکان پارٹی سے ہٹ کر بھی ایک ساتھ ہیں۔ دوسری طرف مقتدر حلقے اس بات پر ناراض ہیں کہ کچھ وفاقی اور صوبائی وزراء بار بار ہمارا نام اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ جیسے سب کچھ ہمارے حکم پر ہوتا ہے گزشتہ دنوں ایک وفاقی وزیر کے اس طرح کے بیانات سامنے آئے تھے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم وفاقی حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہیں اور ہم نے نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ ہر دور حکومت میں حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر رہ کر تعاون کیا ہے لہذا ایسا کوئی بھی پروپیگنڈا کہ ہم وفاقی حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر پہلی دفعہ آئے ہیں بالکل غلط ہے اور اس سلسلے میں قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنان کے بعد اب سیاسی کارکنان بھی ناراض ہوتے جارہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے غیر سیاسی دوستوں کی حکومت میں بے جا مداخلت اُن کی برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہے، وزیر اعظم عمران خان کو اس سلسلے میں جلد بڑے فیصلے کرنا ہونگے ورنہ ناراضیوں میں اضافہ ہوجائے گا جو کہ اُن کی حکومت کے لیے بہتر نہیں۔ ان سیاسی کارکنان کا کہنا ہے کہ پہلے تو ہم سے کرپشن کے خلاف آوازیں اٹھوائی گئیں اور بیانیہ کو اتنا پھیلایا گیا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے حق میں بات کرنے والا ہر فرد چاہے وہ صحافی ہی کیوں نہ ہو بدترین کرپٹ نظر آیا اور اب وزیر اعظم کے دیرینہ دوست اور مشیر نعیم الحق نے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیا کہ اگر اپوزیشن ایک اشارہ بھی کرے تو ہم دوستی کے لیے تیار ہیں۔ حکومت کے انداز میں یہ تبدیلی ان کارکنان کے لیے انتہائی حیران کُن ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ یا تو عمران خان اُس وقت غلط تھے یا پھر آج غلط ہیں۔

عمران کی پریشانیوں میں ہر روز اضافہ

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے ...

%d bloggers like this: