چیئرمین کی مکمل سپورٹ ہے، یہ مختصر مدت کی کپتانی نہیں، اظہر علی

کپتانی مختصر مدت کیلئے نہیں ملی

قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے نئے کپتان  اظہر علی نے کہا ہے کہ کپتانی کو مثبت انداز میں قبول کیا ہے، بورڈ اور چیئرمین کی مکمل سپورٹ ہے کہ یہ مختصر مدت کی کپتانی نہیں، ٹیم سلیکشن میں رائے شامل ہوگی۔

ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی ملنے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے اظہر علی نے کہا کہ پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، ٹیسٹ چیمپئن شپ میرے لیے چیلنج ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرفراز کو میری مکمل حمایت حاصل ہے، ٹیسٹ ٹیم کے حوالے سے میری سرفراز احمد سے بات ہوئی ہے۔

اظہر علی نے کہا کہ ہمارا ٹارگٹ رینکنگ میں ساتویں نمبر سے اوپر جانا ہے، ٹیسٹ چیمپئن شپ سخت چیلنج ہے لیکن ہم اچھا کھیلیں گے ،میرا ٹارگٹ ہے کہ پاکستان کو ایسے کھلاڑی ملیں جو لمبےعرصے تک کھیل سکیں، جیتنا بھی اہم ہے لیکن ایک کلچر کو بنانا بھی بہت ضروری ہے ۔

ٹیسٹ ٹیم کی قیادت ملنےسے متعلق ایک سوال پر اظہر علی نے کہا کہ کپتانی کے حوالے سے مجھ سے کل بات کی گئی، کپتانی قبول کرنا میرے لیے مشکل نہیں تھا، کوشش کروں گا کہ کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹ پر زیادہ فوکس کریں، کوشش کروں گا کہ بہتر فیصلے کرسکوں۔

فاسٹ بولنگ اٹیک کے بارے میں انہوں نے کہا کہ عامر اور وہاب اچھے بولر ہیں، وہ اب دستیاب نہیں، اُن کے نہ ہونے سے فرق تو پڑے گا۔

اظہر علی کا کہنا تھا کہ ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کا ایک ہونا آسان ہے، اس سے ٹیم کو فائدہ ہوگا، مصباح الحق کے ساتھ بہت کرکٹ کھیلا ہوں اچھی انڈر اسٹینڈنگ ہے، بورڈ کی طرف سے سپورٹ ہے کہ کپتانی کم وقت کےلیےنہیں ہے۔

دورہ آسٹریلیا سے متعلق ایک سوال پر اظہر علی نے کہا کہ آسٹریلیا کا دورہ سخت ہے، اچھا کھیلنے کی پوری کوشش کریں گے، آسٹریلیا میں ریکارڈ اچھا نہیں، کھلاڑیوں سےکہوں گا  کہ اٹیکنگ کرکٹ کھیلیں، نئےکھلاڑی اور نیا سیٹ اپ بلاخوف کھیلتا ہے۔

x

Check Also

مکی آرتھر سری لنکن ٹیم کے ہیڈ کوچ؟

پاکستان ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر کو سری لنکن ٹیم کا ہیڈ کوچ ...

%d bloggers like this: