ووٹر اور کاروباری طبقہ حکومت کے معاشی پروگرام کی تکلیف سے دوچار

ہر طبقہ حکومت کے معاشی پروگرام سےپریشان

 امریکی اخبار نے پاکستان کی معاشی صورتحال پر لکھا کہ ووٹرز اور کاروباری طبقہ حکومت کے معاشی پروگرام کی تکلیف سے دوچار ہے اور متوسط طبقے کا شخص مر رہا ہے، ایک سال قبل کے مقابلے میں 89؍ فیصد گھریلو صارفین خریداری کے بارے میں کم پراعتماد ہیں ۔ 

سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ حکومت کے دوسرے سال کے اختتام تک 20؍ لاکھ ورکرز ملازمت سے محروم اور 80 ؍ لاکھ غربت کی لپیٹ میں آجائیں گے۔ 

حکومت کا مؤقف ہے کہ اقتصادی بنیادوں میں بہتری نظرآرہی ہے ، ٹیکس میں 16فیصد اضافہ ہوا، روپیہ بھی مستحکم ہوا ہے جبکہ وزیر مملکت حماد اظہر کا کہنا ہےکہ ایک بار معیشت مستحکم ہوجانے کے بعد ہم ترقی کے مرحلے کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔

تفصیلات کےمطابق امریکا کے معتبر اخبار’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے پاکستان کی معاشی صورتحال پر اپنے تجزیئے میں لکھا کہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا فرد مر رہا ہے۔ 

ٹیکس ادائیگی مہم اپنے قائد کی سیاسی بنیاد کو ختم کررہی ہے۔رائے دہندگان اور کاروبار عمران خان کے معاشی پروگرام کی تکلیف سے دوچار ہوگئے۔

شرح سود دوگنی کردی گئی یعنی تیرہ فی صد سے زائد جو ایشیاءمیں سب سے زیادہ ہے۔ روپے کی قدر میں کمی ہوگئی ۔ 

عمران خان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک سال میں مہنگائی تین گنا یعنی گیارہ فی صد ہوگئی اورمعاشی نمو نصف سے بھی کم ہوکر دو عشاریہ چار رہ گئی۔ ماہرین سوال کرتے ہیں کہ کیا معیشت کو دوبارہ بہتری کی راہ پرلانے کی حکمت عملی موجود ہے؟ 

رواں برس جنوری اور ستمبر کے درمیان ، شہری علاقوں میں غذائی اشیاءکی مہنگائی کی شرح تین سے 15 فی صدتک بڑھ گئی۔ 

رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کاروں کی فروخت 39 فیصد ، موٹرسائیکل کی فروخت میں 17 فیصد کمی ہوئی ۔سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا کے اندازے کے مطابق عمران خان کے اقتدار کے دوسرے سال کے اختتام تک ، 20 لاکھ ورکرز اپنی ملازمت سے محروم ہوچکے ہوں گے اور 80 لاکھ تک غربت کی لپیٹ میں آجائیں گے۔انہوں نے2011ء میں عرب ممالک میں عوامی بغاوت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپ پاکستان میں عرب اسپرنگ پید ا کررہے ہیں۔ 

یہ بم پھٹنے کا منتظر ہے۔حکومت امیروں سے ٹیکس کی بجائے چھوٹے تاجروں کو نشانہ بنارہی ہے۔

حالیہ سیاسی پولنگ سے پتہ چلتا ہے کہ اب تک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت عمران خان کے مساوی ہے اور یکساں کامیابی کا امکان ہے ۔ 

بڑے کاروبار بھی سست روی سے دوچار ہیں۔ ان پر زیادہ جارحانہ ٹیکس بھی لگایا جارہا ہے ، اور بہت سے لوگوں کو سرکاری بدعنوانی مہم میں گھسیٹنے پر تشویش ہے۔

اگست کے ایک بین الاقوامی سروے سے پتا چلا ہے کہ ایک سال قبل کے مقابلے میں 89 فی صد گھریلو خریداری کے بارے میں کم پراعتماد ہیں۔ 

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے رواں ماہ وزیر اعظم کو شکایت کے لئے خط لکھا تھا کہ اقتدارسنبھالنے کے 13 ماہ گزر جانے کے بعد بھی معیشت میں کوئی صحت مند علامت نہیں دکھائی دی ۔مرکزی بینک کے ماہانہ سروے کے مطابق ، کاروباری اعتماد منفی برقرار ہے۔ 

راولپنڈی کے ایک دکا ندار کا کہنا تھا کہ متوسط طبقے کا شخص مر رہا ہے۔ خوراک کی قیمتوں اور بجلی کے بلوں میںا ضافہ ہوا ہے۔ 

لوگوں کے پاس خریداری کی سکت نہیں،یہاں آنے کے لئے پیسہ نہیں بچا ۔ اخبار کے مطابق ایک سال قبل انتخابی مہم کے دوران ، سابق کرکٹ اسٹار عمران خان ایک کروڑملازمتیں پیدا کرنے ، کم لاگت والی رہائش اور بہتر صحت اور تعلیم کی خدمات کی فراہمی کا وعدہ کرتے ہوئے وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان ہوئے ۔

اب عمران خان خود اس حمایت کو جانچ رہے ہیں معاشی سادگی کے منصوبوں کی وجہ سے وہ متوسط طبقے پر زیادہ ٹیکس لگانے پر مجبور ہیں جبکہ معیشت تیزی سے سست ہو رہی ہے۔

اقتصادی مسائل نے وزیر اعظم عمران خان کی انتخابی مہم کے وعدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت میں مشکلات پیدا کردی ہیں۔ عمران خان جب اگست 2018 میں وزیر اعظم بنے تو انہیں تجارت اور بجٹ خسارے اور غیر ملکی کرنسی کے ذخائر میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔ 

اس نے معیشت کو بریک لگادی اور پھر مئی میں ہچکچاتے ہوئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پاس بیل آؤٹ پیکیج یعنی 22واں آئی ایم ایف پروگرام کےلئے گئے جس نے مزید اقدامات کا مطالبہ کیا۔

عمران حکومت کا کہنا ہے کہ ا نہوں غیر ملکی قرضوں میں پاکستان کو ادائیگی کے ڈیفالٹ کے خطرے سے بچایا ہے ، اور ان کی اصلاحات سے پاکستان کو ترقی ملے گی۔ منصوبہ یہ ہے کہ قرض لینے اور درآمدات پر مبنی غیر مستحکم نمو کی جگہ برآمدات اور وسیع ٹیکس کی بنیاد کے ذریعہ چلنے والی معیشت ہو جو ملازمتیں پیدا کرسکے اور ایک فلاحی ریاست کو فنڈ فراہم کرسکے۔تاہم ، ان دو مراحل کے مابین معاشی مشکلات آئی ہیں۔ 

عمران خان وہ کام انجام دینے کی کوشش کر رہے ہیں جو کسی بھی پاکستانی حکومت ، فوجی یا سویلین سے نہیں ہو پایایعنی کہ لوگ ٹیکس ادا کریں بیس کروڑ80لاکھ آبادی میں صرف ایک فی صد انکم ٹیکس ادا کرتی ہے۔

چھوٹے ریٹیلرز اس ماہ ہڑتال پر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں جب تک کہ حکام سے بات چیت حکومتی مطالبوں میں نرمی کا باعث نہ بنے کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ ان کو خوف ہے کہ انسپکٹرز انھیں بلیک میل کریں گے اگر وہ ٹیکس نیٹ میں داخل ہوں گے ، حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود کہ وہ بدنام زمانہ کرپٹ ٹیکس نظام میں بدعنوانی کے خاتمے کے لئے کوشاں ہیں۔

عمران خان جزوی طور پر متوسط طبقے کی حمایت سے اقتدار میں آئے جو پہلے سے موجودسیاسی جماعتوں کے مقابلے میں بہتر خدمات کا مطالبہ کرتی تھیں۔

یہاں تک کہ نچلے متوسط طبقہ بھی اکثر نجی اسکولنگ اور صحت کی دیکھ بھال پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔ پہلے سال میں بہت سے معاشی اہداف کے حصول میں ناکامی پر حکومت کا کہنا ہے کہ اب اس کو اقتصادی ترقی کی بحالی کے لئے درکار اقتصادی بنیادوں میں بہتری نظر آ رہی ہے۔ 

آئی ایم ایف نے کہا کہ ہم نے اچھے آثار دیکھے ہیں۔

پچھلے تین مہینوں میں ، تجارتی اور بجٹ خسارے دونوں میں ایک تہائی اضافہ ہوا ، ٹیکس کی وصولی میں 16 فیصد اضافہ ہوا ، جبکہ روپیہ اب مستحکم ہے۔ بڑی برآمدات کے حجم میں ٹھوس نمو آرہی ہے۔ 

وزیر مملکت حماد اظہر کا کہنا ہے کہ معیشت تیزی سے شرح سے مستحکم ہورہی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ ایک بار معیشت مستحکم ہو جانے کے بعد ، ہم ترقی کے مرحلے کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ 

رواں ماہ دو درجن ٹائکون نے اپنے تحفظات آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے سامنے رکھے ۔اجلاس میں شریک افراد کے مطابق ، جنرل باجوہ نے انہیں بتایا کہ وہ حکومت اور اس کی پالیسیوں کے پیچھے کھڑے ہیں۔ 

حزب اختلاف کے سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ فوج نے عمران خان کو اقتدار میں لانے میں مدد کی ، تاہم اس الزام کی ان کی پارٹی اور فوج انکار کرتی ہے۔ 

x

Check Also

میڈیکل بورڈ نواز شریف کے پلیٹیلیٹس میں کمی کی وجوہات جاننے میں تاحال ناکام

نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست

لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای ...

%d bloggers like this: