لکھاری جو پہلے ناول سے کروڑ پتی بن گیا

لکھاری جو پہلے ناول سے کروڑ پتی بن گیا

تحریر: محمد بلال غوری

نوبیل انعام برائے ادب کی ’’بے ادبی‘‘ پر کڑھ رہا تھا کہ سمندر پار آباد ایک پاکستانی دوست نے پوچھا ’’آپ اسٹیفن کنگ کب بن رہے ہیں؟‘‘بس کیا بتاؤں، کیسے دل کے پھپھولے جل اُٹھے۔ دفعتاً انشاءللہ خان کا شعر یاد آیا ؎

نہ چھیڑ اے نکہتِ بادِ بہاری راہ لگ اپنی

تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

بیرونِ ملک مقیم دوست دراصل اس مشہور زمانہ امریکی لکھاری کا حوالہ دے رہے تھے جنہیں ان کے پہلے ناول نے ہی کروڑ پتی بنا دیا۔

اسٹیفن کنگ جو کبھی ’’کنگلا‘‘ ہوا کرتا تھا، اسے پہلے ناول سے دو لاکھ ڈالر ملے اور اس کی زندگی سنور گئی۔

آج اسٹیفن کنگ کی دولت کا تخمینہ 400ملین ڈالر لگایا جاتا ہے۔ اسٹیفن کنگ بچپن میں دو بجے تک اسکول میں پڑھنے کے بعد تین بجے سے رات گیارہ تک فیکٹری میں مزدوری کیا کرتا تھا۔

ایک زمانے میں بارہ گھنٹے لانڈری پر کپڑے دھویا کرتا تھا، اس نے پیٹرول پمپ پر ملازمت کی اور پچیس سینٹ فی بوری کے حساب سے آلو کے کھیت میں کام کیا مگر آج اس کی ایک کتاب پر اسے ایک ملین ڈالر سے زیادہ رقم ایڈوانس ملتی ہے اور اس کی کتابوں کی 400ملین کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔

اسٹیفن کنگ کی کہانیوں پر بیشمار فلمیں بنیں جن میں سے سب سے مشہور فلم شا شنک ری ڈیمپپشن ہے جس میں مورگن فری مین نے مرکزی کردار ادا کیا۔

اسٹیفن کنگ 21ستمبر 1947ء کو پورٹ لینڈ میں پیدا ہوا۔ وہ بہت چھوٹا تھا کہ اس کے والدین میں علیحدگی ہو گئی۔

اسٹیفن نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بطور ٹیچر کیریئر کا آغاز کیا، جلد ہی اس نے Tabitha Spruceسے شادی کرلی، اخراجات بڑھ رہے تھے، تنخواہ بہت کم تھی اس لئے لانڈری میں پارٹ ٹائم کام کرنا شروع کر دیا۔

ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے اسٹیفن بتاتا ہے کہ اس کے دو بچے تھے اور وہ اور اس کی بیوی دونوں کالج سے نئے نئے نکلے تھے۔ اس کی بیوی ٹیبی ایک ریسٹورنٹ پر جاب کرتی تھی جہاں شام کی شفٹ میں وہ بھی کام کرنے جاتا تھا۔

اس زمانے میں وہ بالغوں کے رسالوں کے لئے کہانیاں لکھ کر اپنے قلم سے تھوڑا بہت کمانے لگا تھا۔

اسٹیفن کی ماں کچھ کچھ بیمار رہنے لگی تھی۔ ایک روز جب وہ اپنے بچوں کو لے کر ماں سے ملنے گیا تو اس کی ننھی بیٹی کا جسم بخار سے تپ رہا تھا۔

اسے اور اس کی بیوی کو علم تھا کہ اسے اینٹی بایوٹک کی ضرورت ہے مگر ان کے پاس دوا خریدنے کے پیسے نہیں تھے۔ وہ واپس گھر پہنچے تو ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والا ایک لفافہ ان کا منتظر تھا۔

وہ بے ساختہ دعا کرنے لگا کہ یہ گیس یا بجلی وغیرہ کا بل نہ ہو کیونکہ بلوں کے علاوہ اسے ڈاک میں کچھ موصول نہیں ہوتا تھا۔ کوئی اسے خط کیوں لکھتا، سب اسے بھول چکے تھے۔ اس نے لفافہ کھولا تو ایک افسانے کے معاوضے کے طور پر اسے پانچ سو ڈالر کا چیک دکھائی دیا۔

جن دنوں کنگ نے اپنا پہلا ناول ’’کیری‘‘ لکھنا شروع کیا وہ لانڈری پر کام کرتا تھا۔ ان کے گھر میں فون نہیں تھا کیونکہ وہ بل ادا نہیں کر سکتے تھے۔ اسٹیفن نے پہلے ناول کے چند صفحات ہی لکھے مگر پھر یہ سوچ کر ڈسٹ بن میں پھینک دیئے، اس کی بیوی نے صفائی کرتے وقت ٹوکری میں یہ صفحات دیکھے اور ترتیب سے اس کی میز پر رکھ دیئے۔

ٹبیتھا نے ایک بار پھر اس کی ہمت بندھائی اور اسے اعتماد دیا کہ وہ ایک اچھا ناول لکھ سکتا ہے۔

اسٹیفن نے پہلا ناول مکمل کیا تو کالج کے زمانے کے دوست بل تھامسن کے ذریعے ایک پبلشر کو بھجوا دیا اور پھر بھول گیا کیونکہ اسے توقع ہی نہ تھی کہ یہ ناول قبول کر لیا جائے گا۔

ایک دن بچوں کو پڑھاتے وقت بتایا گیا کہ اس کی بیوی کی ٹیلیفون کال ہے۔ اس نے سوچا شاید کوئی بری خبر ہوگی مگر ٹبیتھا نے بتایا کہ اس کا ناول بک گیا ہے اور اسے رائلٹی کے طور پر ڈھائی ہزار ڈالر دیئے جائیں گے۔

اس زمانے میں بھی کتاب شائع ہونے کے بعد ہلکے کاغذ پر سستی کتابیں زیادہ تعداد میں شائع کی جاتی تھیں تاکہ کم استطاعت رکھنے والے افراد بھی یہ کتاب خرید سکیں۔

ان سستی کتابوں کو پیپر بیک ایڈیشن کہا جاتا۔ ٹبیتھا نے پوچھا کہ اگر وہ پیپر بیک ایڈیشن کے حقوق بیچ دے تو اسے کتنی رقم مل سکتی ہے۔

سننے میں آ رہا تھا کہ ماریو پوزو کو ناول گاڈ فادر کے پیپر بیک ایڈیشن کے چار لاکھ ڈالر ملے تھے لیکن اسے یقین نہیں تھا کہ اتنی رقم ملنا تو کجا اس کا ناول پیپر بیک ایڈیشن میں چھپے گا بھی یا نہیں۔

ایک اتوار ٹبیتھا بچوں کو لے کر اپنے ماں باپ کے گھر گئی ہوئی تھی اسٹیفن گھر پر اکیلا تھا۔ فون کی گھنٹی بجی۔ بل تھامسن نے فون کیا تھا۔کیا تم بیٹھے ہوئے ہو؟ بل نے پوچھا۔نہیں! فون کچن کی دیوار پر نصب ہے اور میں دروازے میں کھڑا ہوں، کیا مجھے بیٹھنے کی ضرورت ہے؟ اسٹیفن نے جواب دیا۔ہاں ضرورت پڑ سکتی ہے۔ پیپر بیک ایڈیشن کے حقوق چار لاکھ ڈالر میں فروخت ہوئے ہیں۔ بل نے بتایا۔

اسٹیفن پر سکتہ طاری ہو گیا۔ وہ بات کرنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ بل نے ہنستے ہوئے پوچھا کہ کیا وہ فون پر موجود ہے۔

اسٹیفن کو یقین نہیں آیا کہ اس نے ٹھیک سے سنا ہے۔ اس لئے اس نے تصدیق کرنے کیلئے ایک بار پھر پوچھا، کیا تم نے چالیس ہزار ڈالر کہا ہے؟بل تھامسن نے کہا، چالیس ہزار نہیں چار لاکھ ڈالر۔ اور معاہدے کے مطابق دو لاکھ ڈالر تمہارے ہیں۔ مبارک ہو۔

اسٹیفن کی ماں اس کے اچھے دن دیکھنے سے پہلے ہی کینسر کے ہاتھوں موت کی بازی ہار چکی تھی مگر اسٹیفن اب کنگ بن چکا تھا،King of Thrils and Chills۔

اس نے نئے ناول لکھنے کیلئے Richard Bachmanکا قلمی نام رکھ لیا کیونکہ اس کا خیال تھا کہ لوگ ایک ہی مصنف کے قلم سے ایک ہی سال میں دوسری کتاب کو پسند نہیں کریں گے۔ ہمارے ہاں لوگ اسٹیفن کنگ کیوں نہیں بنتے، اس حوالے سے آئندہ کالم میں بات ہوگی۔

x

Check Also

بڑے بڑے دانشوروں کی تحریروں سے گزرتے اور بڑے بڑے میڈیا ماہرین کی گفتگو سنتے ہوئے کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے اور اختلاف کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اخبار یا ٹیلی وژن چینل سے وابستہ حضرات کی اکثریت سے مطالعے، تحقیق اور غور و فکر کی توقع رکھنا دل شکنی کا باعث ہو سکتا ہے کیونکہ ان لوگوں کو فرصت کم کم نصیب ہوتی ہے۔ ویسے بھی معاشرے میں ان کو اتنی پذیرائی اور شہرت مل جاتی ہے کہ وہ کتاب سے خاصی حد تک بے نیاز ہو جاتے ہیں اور عام طور پر شہرت کے تکبر کا شکار ہو جاتے ہیں، البتہ کچھ حضرات کتاب سے تعلق نبھاتے ہیں اور غور و فکر کے لئے بھی وقت نکالتے ہیں۔ عام طور پر لیڈروں کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس طرح لیڈران کی زندگی کو ذاتی اور عوامی شعبوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے اور بہت سی شرعی قباحتوں کو ذاتی زندگی کے خانے میں ڈال کر جائز اور ناجائز کی بحث سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ بادشاہتوں اور خاندانی آمریتوں میں ایسا ہی ہوتا ہے کیونکہ ان معاشروں میں حکمرانوں کی جانب انگلی اٹھانے کی جسارت گردن زدنی کا باعث بھی بن سکتی ہے لیکن جمہوری یا نیم جمہوری نظام میں حکمرانوں کی ذاتی زندگی پر تصور موجود ہی نہیں ہوتا۔ حکمران ہر فعل کیلئے عوام کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے حتیٰ کہ اگر اقتدار کا تاج پہننے سے قبل بھی اس نے کوئی غلط کام کیا ہے تو اقتدار میں آنے کے بعد اس کا بھی احتساب کیا جاتا ہے۔ حکمران یا لیڈر قوم کا رول ماڈل ہوتا ہے اور اس کی ہر حرکت، ہر پالیسی اور ہر اقدام قوم کو کسی نہ کسی طرح متاثر کرتا ہے۔ ہم نے گزشتہ 72برسوں میں یہاں اسی طرح کا کلچر پروان چڑھتے دیکھا ہے جس قسم کی حکمران کی شخصیت تھی، ہم نے قومی عادات، سماجی رویے حتیٰ کہ لباس کو بھی حکمرانوں کی شخصیت سے متاثر ہوتے دیکھا ہے۔ تفصیل میں جائے بغیر آپ خود غور کریں کہ ایوب خان، بھٹو، ضیاء الحق، بینظیر اور نواز شریف کے ادوار اور پھر جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں ہمارا معاشرہ کس طرح حاکموں کی شخصیتوں سے متاثر ہوتا رہا اور ان کی ذاتی زندگیوں کی پرچھائیں ہر طرف نظر آتی رہیں، اگر ضیاء الحق کے دور میں مساجد میں حاضری بڑھی اور شلوار قمیص واسکٹ کا رواج پروان چڑھا تو جنرل مشرف کے دور میں انگریزی لباس، نائو نوش اور رقص و سرور کی خوب حوصلہ افزائی ہوئی۔ کرپٹ حکمرانوں کے دور میں اوپر سے لے کر نیچے تک کرپشن نے رواج پایا اور ایماندار حاکموں کے دور میں کرپشن محتاط رہی۔ سیاست اور جمہوریت کا پہلا اصول ہی Transparency یعنی شفافیت ہے جس کا مطلب ہوتا ہے اندر باہر کا واضح ہونا، ذاتی اور سیاسی زندگی کا بے نقاب ہونا۔ اسی سے آزادیٔ اظہار کے چشمے پھوٹتے ہیں اور اسی سے احتساب یا جوابدہی کا سورج طلوع ہوتا ہے۔ کسی لیڈر کے حوالے سے کسی بات کو ذاتی کہہ کر اسے ڈھال یا پردہ فراہم کرنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ میرے مشاہدے کے مطابق سیاستدان اور لیڈر کے لئے سب سے اہم اور قیمتی شے اس کا ووٹ بینک، سیاسی حمایت اور پھر اسی حوالے سے اس کی پارٹی اور کارکن ہوتے ہیں۔ لیڈر ان شعبوں کو بچانے، محفوظ رکھنے اور مضبوط بنانے کے لئے ہمہ وقت سوچتا اور کام کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ان کے لئے بڑی سے بڑی قربانی بھی دے سکتا ہے۔ سینکڑوں مثالیں واضح کرتی ہیں کہ کس طرح لیڈر اور حکمران نے محض اپنے ان سیاسی اثاثوں کو بچانے کے لئے اقتدار چھوڑ دیا حتیٰ کہ جان بھی دے دی۔ بھٹو صاحب جب جیل میں پڑے موت کا انتظار کر رہے تھے تو بیشک وہ تاریخ میں سرخرو ہونے کا خواب دیکھ رہے تھے، تاریخ میں سرخرو ہونے کیلئے ہی مستحکم ووٹ بینک اور پارٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیاقت علی خان قائداعظم کے ساتھی، تحریک پاکستان کے بڑے کارکن اور مقبول سیاسی لیڈر تھے۔ ملک و قوم کے لئے ان کا ایثار ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہیں دن دہاڑے شہید کر دیا گیا۔ ان کے مقابلے میں بھٹو صاحب نہ تحریک پاکستان کے لیڈر تھے اور نہ ہی قائداعظم کے ساتھی بلکہ آمریت کی پیداوار تھے، پھر کیا وجہ ہے کہ موت کے بعد بھٹو صاحب لیاقت علی خان کے مقابلے میں زیادہ مقبول و موثر لیڈر بن کر ابھرے۔ بہت سی وجوہ ہوں گی لیکن میرے نزدیک اس صورتحال کی بڑی وجہ بھٹو صاحب کی سیاسی پارٹی، ووٹ بینک اور سیاسی کارکن تھے جبکہ لیاقت علی خان کو ان کی شہادت کے بعد ان کی پارٹی نے کوئی اہمیت نہ دی۔ لیاقت علی خان کے صاحبزادگان چھوٹے تھے، اگر وہ جوان ہوکر سیاست میں قدم رکھتے اور اپنے باپ کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانا چاہتے تو انہیں مایوسی ہوتی۔ اس کے برعکس طویل جلا وطنی اور پابندیوں کے باوجود بینظیر کو اپنے باپ کی پارٹی، کارکن اور ووٹ بینک ورثے میں ملے اور ان کے دوبار وزیراعظم بننے کا ذریعہ بنے۔ اس پسِ منظر میں اگر آپ حکومتی وزراء اور سیاسی عہدیداران کے تبصرے پڑھیں تو وہ سیاسی بلوغت سے تہی لگتے ہیں، جن صاحبانِ مناصب کو یہ اصرار ہے کہ میاں نواز شریف واپس نہیں آئیں گے، انہیں فرصت کے چند لمحات نکال کر سوچنا چاہئے کہ میاں صاحب کی سیاسی زندگی 37برسوں پر محیط ہے، انہوں نے سیاست کے میدان میں محنت اور سرمایہ کاری کی ہے، گمنامی سے نکل کر ناموری کے لبِ بام پہ آئے ہیں، ان کی پارٹی، ووٹ بینک اور وفادار کارکن ان کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں، مریم اسی وراثت کی امین ہے اس لئے شفایاب ہو کر وہ ہر صورت واپس آئیں گے اور محض جیل کے ڈر سے زندگی بھر کا سرمایہ ضائع نہیں کریں گے۔ سیاستدان کے لئے جیل عارضی شے ہوتی ہے جس کی دیواریں گرتے دیر نہیں لگتی۔ پسند ناپسند سے بالاتر یہ میری ذاتی رائے ہے جس سے آپ کو اختلاف بھی ہو سکتا ہے۔

سیاست کے دو رُخ

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود بڑے بڑے دانشوروں کی تحریروں سے گزرتے اور بڑے بڑے میڈیا ...

%d bloggers like this: