مولانا کا ’خفیہ منصوبہ‘

مولانا کا ’خفیہ منصوبہ‘

تحریر: مظہر عباس

مولانافضل الرحمن نے تاحال اپناخفیہ ’منصوبہ‘شیئرنہیں کیا لیکن جوانھوں نے پیرکودکھایا ہےوہ بالکل غیرمثالی ہے اورحکومت اوردیگرحلقوں کیلئےایک پیغام بھی ہے۔

اس سے اپوزیشن جماعتوں کے اندربھی تشویش پیدا ہوئی ہے انھوں نے تاحال شرکت کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ مولاناکیا کرناچاہتے ہیں؟ ہم نے کارکنان کا’فلیگ مارچ کبھی کبھار ہی دیکھاہےلیکن مولانا نے پشاور میں اپنے کارکنان سے’گارڈ آف آنر‘ بھی لیا جس سے واضح طور پر پتہ لگتا ہے کہ وہ 31 اکتوبر کو ’آزادی مارچ‘ کے نام پر اسلام آباد آرہے ہیں۔

خطرے کے بارے میں جانتے ہوئے بھی انھوں نے اسلام آباد کی جانب ’اب نہیں تو کبھی نہیں‘ مارچ کا فیصلہ کیا۔ غالباً جس بات کا اندازہ انھوں نے غلط لگایا وہ یہ ہے کہ ان کے حریف وزیراعظم عمران خان کسی بھی حالت میں ہاریں گے نہیں۔ اگراُن کی حکومت کا تختہ الٹ جاتا ہے۔

اس کے برعکس وہ زیادہ خطرناک ہوسکتے ہیں اور ان کی ساری حکومت کی گزشتہ 13ماہ کی کارکردگی سے توجہ ہٹ جائے گی اور اگر مولانا ناکام ہوتے ہیں تواپوزیشن کی اکثریت کے باوجودچیئرمین سینٹ کےخلاف عدم اعتماد کےووٹ کے دفاع کےبعد یہ پی ٹی آئی کیلئے ایک اور بڑی کامیابی ہوگی۔ لہذا مولانا کی سیاست کیا ہے اور وہ کیوں اتنی جلدی میں نظر آرہے ہیں جب حکومت کو آئےصرف 13ماہ ہی ہوئے ہیں۔

حتیٰ کہ انھوں نےاپوزیشن کی جانب سے مارچ کو نومبر کے وسط یا اس کےآخری ہفتے میں کرنے کی درخواست کو بھی نظرانداز کردیا ہے۔ وہ 31اکتوبر اور 31نومبرکےدرمیان کیا حاصل کرناچاہتے ہیں؟ انھوں نے منصوبےکا پارٹ ٹو اور پارٹ تھری کی جانب بھی اشارہ کیا جس کے بارے میں جے یو آئی(ف) کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پارٹی رہنماؤں کی گرفتاری کی صورت میں اس کو نافذ کیاجائے گا۔

مولانا نے اپنی تنظیم کو پورے پاکستان میں متحرک کردیا ہے ایسا صرف آزادی مارچ کے لیے نہیں بلکہ مارچ کے پلان کے بعد کے منصوبے کیلئے بھی کیا گیا ہے۔ ’’ اگرحالات بےقابو ہو گئے تو مسجد اور مدرسےکی جانب سے آپ کو1977کی جھلک بھی نظر آسکتی ہے اور ہم اس سب کیلئے تیار ہیں،‘ پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا۔

وہ جے یو آئی کے زیرانتظام ’مساجد اور مدارس کو دباؤ ڈالنےکیلئے استعمال کریں گے اور جے یوآئی کےنچلے کیڈرکو کام سونپ دیا گیا ہے۔ مولانا کا ماننا ہے کہ عالمی سطح پر آنےوالی سیاسی تبدیلیوں کے باعث اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی میں تبدیلی آئی ہے۔

وہ اب مذہبی جماعتوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اور پہلے ہی جہادی تنظیموں کو چھوڑ چکے ہیں۔

x

Check Also

بڑے بڑے دانشوروں کی تحریروں سے گزرتے اور بڑے بڑے میڈیا ماہرین کی گفتگو سنتے ہوئے کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے اور اختلاف کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اخبار یا ٹیلی وژن چینل سے وابستہ حضرات کی اکثریت سے مطالعے، تحقیق اور غور و فکر کی توقع رکھنا دل شکنی کا باعث ہو سکتا ہے کیونکہ ان لوگوں کو فرصت کم کم نصیب ہوتی ہے۔ ویسے بھی معاشرے میں ان کو اتنی پذیرائی اور شہرت مل جاتی ہے کہ وہ کتاب سے خاصی حد تک بے نیاز ہو جاتے ہیں اور عام طور پر شہرت کے تکبر کا شکار ہو جاتے ہیں، البتہ کچھ حضرات کتاب سے تعلق نبھاتے ہیں اور غور و فکر کے لئے بھی وقت نکالتے ہیں۔ عام طور پر لیڈروں کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس طرح لیڈران کی زندگی کو ذاتی اور عوامی شعبوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے اور بہت سی شرعی قباحتوں کو ذاتی زندگی کے خانے میں ڈال کر جائز اور ناجائز کی بحث سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ بادشاہتوں اور خاندانی آمریتوں میں ایسا ہی ہوتا ہے کیونکہ ان معاشروں میں حکمرانوں کی جانب انگلی اٹھانے کی جسارت گردن زدنی کا باعث بھی بن سکتی ہے لیکن جمہوری یا نیم جمہوری نظام میں حکمرانوں کی ذاتی زندگی پر تصور موجود ہی نہیں ہوتا۔ حکمران ہر فعل کیلئے عوام کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے حتیٰ کہ اگر اقتدار کا تاج پہننے سے قبل بھی اس نے کوئی غلط کام کیا ہے تو اقتدار میں آنے کے بعد اس کا بھی احتساب کیا جاتا ہے۔ حکمران یا لیڈر قوم کا رول ماڈل ہوتا ہے اور اس کی ہر حرکت، ہر پالیسی اور ہر اقدام قوم کو کسی نہ کسی طرح متاثر کرتا ہے۔ ہم نے گزشتہ 72برسوں میں یہاں اسی طرح کا کلچر پروان چڑھتے دیکھا ہے جس قسم کی حکمران کی شخصیت تھی، ہم نے قومی عادات، سماجی رویے حتیٰ کہ لباس کو بھی حکمرانوں کی شخصیت سے متاثر ہوتے دیکھا ہے۔ تفصیل میں جائے بغیر آپ خود غور کریں کہ ایوب خان، بھٹو، ضیاء الحق، بینظیر اور نواز شریف کے ادوار اور پھر جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں ہمارا معاشرہ کس طرح حاکموں کی شخصیتوں سے متاثر ہوتا رہا اور ان کی ذاتی زندگیوں کی پرچھائیں ہر طرف نظر آتی رہیں، اگر ضیاء الحق کے دور میں مساجد میں حاضری بڑھی اور شلوار قمیص واسکٹ کا رواج پروان چڑھا تو جنرل مشرف کے دور میں انگریزی لباس، نائو نوش اور رقص و سرور کی خوب حوصلہ افزائی ہوئی۔ کرپٹ حکمرانوں کے دور میں اوپر سے لے کر نیچے تک کرپشن نے رواج پایا اور ایماندار حاکموں کے دور میں کرپشن محتاط رہی۔ سیاست اور جمہوریت کا پہلا اصول ہی Transparency یعنی شفافیت ہے جس کا مطلب ہوتا ہے اندر باہر کا واضح ہونا، ذاتی اور سیاسی زندگی کا بے نقاب ہونا۔ اسی سے آزادیٔ اظہار کے چشمے پھوٹتے ہیں اور اسی سے احتساب یا جوابدہی کا سورج طلوع ہوتا ہے۔ کسی لیڈر کے حوالے سے کسی بات کو ذاتی کہہ کر اسے ڈھال یا پردہ فراہم کرنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ میرے مشاہدے کے مطابق سیاستدان اور لیڈر کے لئے سب سے اہم اور قیمتی شے اس کا ووٹ بینک، سیاسی حمایت اور پھر اسی حوالے سے اس کی پارٹی اور کارکن ہوتے ہیں۔ لیڈر ان شعبوں کو بچانے، محفوظ رکھنے اور مضبوط بنانے کے لئے ہمہ وقت سوچتا اور کام کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ان کے لئے بڑی سے بڑی قربانی بھی دے سکتا ہے۔ سینکڑوں مثالیں واضح کرتی ہیں کہ کس طرح لیڈر اور حکمران نے محض اپنے ان سیاسی اثاثوں کو بچانے کے لئے اقتدار چھوڑ دیا حتیٰ کہ جان بھی دے دی۔ بھٹو صاحب جب جیل میں پڑے موت کا انتظار کر رہے تھے تو بیشک وہ تاریخ میں سرخرو ہونے کا خواب دیکھ رہے تھے، تاریخ میں سرخرو ہونے کیلئے ہی مستحکم ووٹ بینک اور پارٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیاقت علی خان قائداعظم کے ساتھی، تحریک پاکستان کے بڑے کارکن اور مقبول سیاسی لیڈر تھے۔ ملک و قوم کے لئے ان کا ایثار ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہیں دن دہاڑے شہید کر دیا گیا۔ ان کے مقابلے میں بھٹو صاحب نہ تحریک پاکستان کے لیڈر تھے اور نہ ہی قائداعظم کے ساتھی بلکہ آمریت کی پیداوار تھے، پھر کیا وجہ ہے کہ موت کے بعد بھٹو صاحب لیاقت علی خان کے مقابلے میں زیادہ مقبول و موثر لیڈر بن کر ابھرے۔ بہت سی وجوہ ہوں گی لیکن میرے نزدیک اس صورتحال کی بڑی وجہ بھٹو صاحب کی سیاسی پارٹی، ووٹ بینک اور سیاسی کارکن تھے جبکہ لیاقت علی خان کو ان کی شہادت کے بعد ان کی پارٹی نے کوئی اہمیت نہ دی۔ لیاقت علی خان کے صاحبزادگان چھوٹے تھے، اگر وہ جوان ہوکر سیاست میں قدم رکھتے اور اپنے باپ کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانا چاہتے تو انہیں مایوسی ہوتی۔ اس کے برعکس طویل جلا وطنی اور پابندیوں کے باوجود بینظیر کو اپنے باپ کی پارٹی، کارکن اور ووٹ بینک ورثے میں ملے اور ان کے دوبار وزیراعظم بننے کا ذریعہ بنے۔ اس پسِ منظر میں اگر آپ حکومتی وزراء اور سیاسی عہدیداران کے تبصرے پڑھیں تو وہ سیاسی بلوغت سے تہی لگتے ہیں، جن صاحبانِ مناصب کو یہ اصرار ہے کہ میاں نواز شریف واپس نہیں آئیں گے، انہیں فرصت کے چند لمحات نکال کر سوچنا چاہئے کہ میاں صاحب کی سیاسی زندگی 37برسوں پر محیط ہے، انہوں نے سیاست کے میدان میں محنت اور سرمایہ کاری کی ہے، گمنامی سے نکل کر ناموری کے لبِ بام پہ آئے ہیں، ان کی پارٹی، ووٹ بینک اور وفادار کارکن ان کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں، مریم اسی وراثت کی امین ہے اس لئے شفایاب ہو کر وہ ہر صورت واپس آئیں گے اور محض جیل کے ڈر سے زندگی بھر کا سرمایہ ضائع نہیں کریں گے۔ سیاستدان کے لئے جیل عارضی شے ہوتی ہے جس کی دیواریں گرتے دیر نہیں لگتی۔ پسند ناپسند سے بالاتر یہ میری ذاتی رائے ہے جس سے آپ کو اختلاف بھی ہو سکتا ہے۔

سیاست کے دو رُخ

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود بڑے بڑے دانشوروں کی تحریروں سے گزرتے اور بڑے بڑے میڈیا ...

%d bloggers like this: