حکومت عدلیہ کو تابعدار بنانا چاہتی ہے، جسٹس قاضی فائر عیسیٰ

جسٹس قاضی فائر عیسیٰ نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت، عدالت عظمیٰ کے جج پر بے نامی جائیدادوں کا الزام عائد کر کے بدنام کر نے لیے صریح جھوٹ کا سہارا لے رہی ہے جبکہ ان کے خلاف ریفرنس میں ایسا کوئی الزام بھی موجود نہیں۔ ریفرنس کے خلاف دائر درخواست میں جواب الجواب میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ’حکومت نے پہلے انہیں ہدف بنایا، جب اس سے کام نہ نکلا تو ان کے اہلِ خانہ کو ہدف بنانے کی حد پر آگئی اور انہیں خطرات سے دوچار کردیا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد ججز کو تابعدار بنانا ہے جس پر عمل نہ کرنے والے ججز اور ان کے اہلِ خانہ کی نگرانی شروع کردی گئی، غیر قانونی ذرائع سے ان کے اہلِ خانہ کی معلومات حاصل کر کے انہیں بدنام اور ہدف بنا کر خطرے میں ڈال دیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دھوکہ دہی، فریب اور غلبے کے ذریعے حکومتی ٹیم عدلیہ کی آزادی سلب کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے اوپر اپنی خود مختار اہلیہ اور بچوں کے اثاثے اور منی ٹریل دینے کی کوئی ذمہ داری نہیں کیوں کہ پاکستانی قانون صرف رشتے کے سبب خاندان کے مختلف اراکین کی شناخت نہیں مانگتا۔ اپنے وکیل منیر اے ملک کے ذریعے جمع کروائے گئے 2 جوابات میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وفاقی حکومت کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا۔ اپنے جواب میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ بے نامی قانون کے تحت کسی کی بھی بے نامی ملکیت ثابت کرنے کے لیے متعدد جانچ کرنی پڑتی ہیں لیکن اس کیس میں کسی ایک چیز پر عمل نہیں کیا گیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا مزید کہنا تھا کہ الزام لگانے کے سوا اس بات کو ثابت کرنے کے لیے معمولی سا بھی ثبوت نہیں پیش کیا گیا کہ درخواست جج نے خریداری کی رقم ادا کی تھی۔ علاوہ ازیں وہ وجہ بھی نہیں بتائی گئی کہ درخواست گزار جج کیوں کوئی جائیداد خریدنے کے لیے اپنے بیوی اور بچوں کے نام پر خریدنے کا سہارا لیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صدارتی ریفرنس دائر کرنے کے لیے جن معلومات کو بنیاد بنایا گیا وہ مختلف اداروں کے ذریعے خفیہ نگرانی کر کے حاصل کی گئیں اور یہ شرمناک تحقیقات اثاثہ برآمدگی یونٹس (اے آر یو) نے کیں تاکہ انہیں قانونی کہا جاسکے۔ درخواست میں کہا گیا کہ نہ تو اے آر یو اور نہ ہی اس کے چیئرمین کے پاس اس بات کا اختیار ہے کہ کسی جج کے خلاف ضابطہ اخلاق کی تحقیقات کی جائے نہ ہی ان کے پاس اس تحقیقات کا حکم دینے کا کوئی قانونی اختیار ہے۔ درخواست میں بتایا گیا کہ نہ تو صدر، نہ وزیراعظم اور نہ ہی کابینہ کو درخواست گزار کے خلاف مواد جمع کرنے اور اس کی تصدیق کرنے کا اختیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی جج کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا اقدام مشترکہ طور پر کابینہ کے ذریعے کیا جاتا ہے اور اس کے لیے کابینہ کی تجویز پر صدر مملکت کی رائے بھی لی جاتی ہے لیکن موجودہ کیس میں ایسا نہیں کیا گیا۔ یاد رہے کہ صدر مملکت کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کی سپریم جوڈیشل کونسل میں سماعت کو مذکورہ جج نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔ اس معاملے پر عدالت عظمیٰ نے 10رکنی فل کورٹ بنایا تھا، جس کی سربراہی جسٹس عمر عطا بندیال کر رہے ہیں اور گزشتہ دنوں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر سماعت بھی ہوئی تھی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست خیال رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس کا سامنا کرنے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدارتی ریفرنس کو چیلنج کرتے ہوئے اپنی درخواست فل کورٹ کی تشکیل کے لیے عدالتی مثالیں دیتے ہوئے کہا تھا کہ فل کورٹ بنانے کی عدالتی نظیر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بنام ریاست کیس میں موجود ہے۔ اپنے اعتراضات کی حمایت میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ ان کے خلاف ریفرنس 427 (دوسری درخواست) پر سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنے فیصلے میں ‘تعصب’ ظاہر کیا اور وہ منصفانہ سماعت کی اپنی ساخت کھوچکی ہے۔ اپنی درخواست میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ وہ کوئی بھی ریفرنس کا سامنا کرنے کو تیار ہیں اگر وہ قانون کے مطابق ہو لیکن انہوں نے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ ان کی اہلیہ اور بچوں کو مبینہ طور پر اذیت کا نشانہ بنایا گیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے موقف اپنایا تھا کہ درخواست گزار کی اہلیہ اور بچوں پر غیر قانونی طریقے سے خفیہ آلات اور عوامی فنڈز کے غلط استعمال کرکے سروے کیا گیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنسز واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کا معاملہ رواں سال مئی میں شروع ہوا اور ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے برطانیہ میں اپنی ان جائیدادوں کو چھپایا جو مبینہ طور پر ان کی بیوی اور بچوں کے نام ہیں۔ تاہم اس ریفرنس سے متعلق ذرائع ابلاغ میں خبروں کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت عارف علوی کو متعدد خطوط لکھے اور پوچھا کہ کیا یہ خبریں درست ہیں۔ بعدازاں لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل نے جج کی جانب سے صدر مملکت کو خط لکھنے اور ان سے جواب مانگنے پر ایک اور ریفرنس دائر کیا گیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ججز کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی۔ تاہم سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) نے اس ریفرنس کو خارج کردیا اور کہا کہ کئی وجوہات کی بنا پر کونسل کو صدر مملکت کو خطوط لکھنے کا معاملہ اتنا سنگین نہیں لگا کہ وہ مس کنڈکٹ کا باعث بنے اور اس کی بنیاد پر انہیں (جسٹس قاضی فائز عیسیٰ) کو سپریم کورٹ کے جج کے عہدے سے ہٹایا جاسکے۔
x

Check Also

آرمی چیف کی دوسری مدت سے دو دن پہلے فوج میں اہم تبدیلیاں

بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے دوسرے دور ملازمت شروع ہونے ...

%d bloggers like this: