میں مریم نواز کی غلامی قبول نہیں کر سکتا

میں مریم نواز کی غلامی قبول نہیں کر سکتا

ارشاد بھٹی کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نےکل یہ واضح پیغام بھجوا دیا ہے اپنے بھائی کو کہ وہ مریم نواز کی غلامی میں کام نہیں کر سکتے، عقل مندوں کے لیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے، مانتا ہوں کہ شہباز شریف کی کمر میں درد ہے لیکن اتنا پرانا درد بھی نہیں جتنا وہ دکھا رہےہیں۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی ارشاد بھٹی کا مسلم لیگ ن میں ذاتی اختلافات پر رد عمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ شہباز شریف کے دوسروں کے ساتھ بیک ڈور رابطے ڈھکے چھپے نہیں ہیں، وہ کسی صورت بھی مریم نواز کی غلامی برداشت نہیں کر سکتے، شہباز شریف کا شمار اچھے لوگوں میں ہوتا ہے وہ اپنا امیج خراب نہیں کرنا چاہتے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز مسلم لیگ ن کے تمام رہنماء اس وقت حیران رہ گئے جب شہباز شریف اور نواز شریف کے مابین ہونے والی ملاقات کینسل ہوگئی، اس ملاقات کو اس لیے بھی کافی اہم گردانا جارہا تھا کیونکہ شہباز شریف اور نواز شریف کے درمیان ملاقات میں مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شرکت کرنی ہے یا نہیں ، اس حوالے سے مکمل مشاورت کے بعد آئندہ لا لائحہ عمل طے کرنا تھا، لیکن شہباز شریف کی ملاقات کے انکار کے بعد لیگی رہنماؤں اور کارکنان میں غم و غصے کی لہر پائی جارہی ہے۔

اس حوالے سے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ میں نواز شریف سے بہت سی گزارشات کر چکا ہوں ، لیکن اب تھک چکا ہوں وہ میری بات نہیں مانتے، میں مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کے خلاف ہوں ، گزشتہ روز ن لیگ کے رہنماؤں کا اجلاس شہباز شریف کی زیر صدارت منعقد کیا گیا جس میں پارٹی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو بتایا کہ میں نے جب بھی نواز شریف کو کوئی بات سمجھانی چاہی وہ نہیں سمجھتے اور اپنی ضد پر اڑ جاتے ہیں، میری باتیں نہ مان کر انہوں نے اکثر نقصان بھی اُٹھایا ہے، کئی دفعہ انہیں سمجھا چکا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ سے لڑنا دیوار کو ٹکر مارنے والا حساب ہے، ہم ان سے کسی صورت بھی نہیں لڑ سکتے، ہر دفعہ نقصان ہمارا ہوا، اس بار بھی ہوگا اس لیے میں آزادی مارچ میں شرکت کے خلاف ہوں۔ شہباز شریف نے پارٹی رہنماؤں کے سامنے کہا کہ پچھلے ادوار میں بھی میں نے ہی نواز شریف کو سمجھایا کہ ان سے نہ لڑین ، پرویز مشرف کو بھی تبدیل نہ کریں، جہانگیر کرامت کو ہٹاؤ میری نہیں مانی گئی ، اگر ہم دو یا تین ٹرم تک عوام کی خدمت کر لیتے تو عوام ہمارے لیے بھی باہر نکل آتے ، اردوان نے 15 سال اپنی عوام کی خدمت کی تب جا کر عوام انکے لیے باہر نکلی ۔

x

Check Also

آرمی چیف کی دوسری مدت سے دو دن پہلے فوج میں اہم تبدیلیاں

بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے دوسرے دور ملازمت شروع ہونے ...

%d bloggers like this: