نریندر مودی 8 نومبر کو بھارت میں کرتارپور راہداری کا افتتاح کریں گے

مودی 8 نومبر کو بھارت میں کرتارپور راہداری کا افتتاح کریں گے

نئی دہلی: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی 8 نومبر کو بابا گرونانک کے 550ویں جنم دن کے موقع پر بھارت میں کرتارپور راہداری کا افتتاح کریں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نریندر مودی کی کابینہ کی رکن ہرسیمرت کور بادال نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم 8 نومبر کو کرتارپور راہداری کے افتتاح کے لیے بھارتی پنجاب کا دورہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ بابا گرونانک دیو کے 550ویں جنم دن کے موقع پر مودی شرومانی گردوارہ پربندک کمیٹی (ایس جی پی سی) کی جانب سے منعقد کیے جانے والے مذہبی پروگرام میں شرکت بھی کریں گے۔

خیال رہے کہ بابا گرونانک کے جنم دن پر نریندر مودی کے سکھ اتحادی اور کانگریس سے وابستہ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ نے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ کو پاکستان میں اس حوالے سے منعقد تقریب میں شرکت کی دعوت دی تھی جو انہوں نے قبول کرلی تھی۔

ہرسیمرت کور بادال نے الزام عائد کیا کہ امریندر سنگھ نے سلطان پور لودھی میں 550ویں پرکاش پورب تقریبات کے انعقاد کا فیصلہ کرکے سری اکال تخت صاحب کی بالادستی چیلنج کی۔

انہوں نے کہا کہ سکھ بھگت کے لیے سری اکال تخت صاحب کی ہدایت ایک حکم کی حیثیت رکھتی ہے، یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ کانگریس حکومت نے سری اکال تخت صاحب جتھہ دار ہرپریت سنگھ سے ایڈوائزری جاری ہونے اور شرومانی گردوارہ پربندک کمیٹی کی جانب سے مشترکہ تقریب کے انعقاد کی کوشش کے باجود اسی روز تقریب کے انعقاد کا فیصلہ کیا۔

خیال رہے کہ ہرسیمرت کور بادال، لدھیانہ کے مغرب میں واقع گاؤں میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں شرومانی اکالی دال کے امیدوار منپریت سنگھ کی انتخابی مہم بھی چلارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’اس مقصد کے لیے مشترکہ تعاون کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی لیکن کمیٹی میں موجود کانگریس نمائندوں نے اس مشترکہ تقریب کی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا‘۔

ہرسیمرت کور بادال نے کہا کہ اس سے سکھ برداری میں الجھن پیدا ہوگی اور اسے سکھوں کو کمزور کرنے کے عمل کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

ریاستی حکومت سے روایات کی پاسداری پر اصرار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے گرو کا 550واں پرکاش پورب ہے، آئیں کسی انا اور جھگڑے کے بغیر ملک کر یہ جشن منائیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ اور کابینہ وزرا جشن کے لیے اتنے ہی پُرجوش ہیں تو وہ حکومت کے وہ فرائض ادا کریں جو ادا کرنے چاہئیں جیسا کہ یاتریوں کی سہولت کے لیے انفرا اسٹرکچر تعمیر کرنا، جو سلطان پور لودھی شہر میں آج تک نہیں ہوا۔

کرتار پور راہداری کھولنے کا فیصلہ

گزشتہ برس اگست میں سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی دعوت پر وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے پاکستان آئے تھے۔

وہ اس تقریب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے گلے ملے تھے اور ان سے غیر رسمی گفتگو کی تھی۔

اس حوالے سے سدھو نے بتایا تھا کہ جب ان کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ پاکستان گرو نانک صاحب کے 550ویں جنم دن پر کرتارپور راہداری کھولنے سے متعلق سوچ رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ پاکستان آرمی کے سربراہ اس ایک جملے میں انہیں وہ سب کچھ دے گئے جیسا کہ انہیں کائنات میں سب کچھ مل گیا ہو۔

بعد ازاں بھارت کے سکھ یاتریوں کے لیے آسانی پیدا کرنے کے لیے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے گزشتہ برس 28 نومبر کو کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد رکھا تھا جس میں شرکت کے لیے نوجوت سدھو پاکستان آئے تھے۔

پاکستان نے بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج کو تقریب میں شرکت کی دعوت دی تھی تاہم انہوں نے شرکت سے معذرت کرلی تھی۔

کرتارپور کہاں ہے اور سکھوں کے لیے اتنا اہم کیوں؟

کرتار پور پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع نارووال کے علاقے شکر گڑھ میں دریائے راوی کے مغربی جانب واقع ہے، جہاں سکھوں کے پہلے گرونانک دیو جی نے اپنی زندگی کے 18 برس گزارے تھے۔

کرتارپور میں واقع دربار صاحب گردوارہ کا بھارتی سرحد سے فاصلہ تین سے چار کلومیٹر کا ہے۔

سکھ زائرین بھارت سے دوربین کے ذریعے ڈیرہ بابانک کی زیارت کرتے ہیں بابا گرونانک کی سالگرہ منانے کے لیے ہزاروں سکھ زائرین ہر سال بھارت سے پاکستان آتے ہیں۔

پاکستان میں واقع سکھوں کے دیگر مقدس مقامات ڈیرہ صاحب لاہور، پنجہ صاحب حسن ابدال اور جنم استھان ننکانہ صاحب کے برعکس کرتار پور ڈیرہ بابا نانک سرحد کے قریب ایک گاؤں میں ہے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان کرتارپور سرحد کھولنے کا معاملہ 1988 میں طے پاگیا تھا لیکن بعد ازاں دونوں ممالک کے کشیدہ حالات کے باعث اس حوالے سے پیش رفت نہ ہوسکی تھی۔

سرحد بند ہونے کی وجہ سے ہر سال بابا گرونانک کے جنم دن کے موقع پر سکھ بھارتی سرحد کے قریب عبادت کرتے ہیں اور بہت سے زائرین دوربین کے ذریعے گردوارے کی زیارت بھی کرتے ہیں۔

x

Check Also

'بھارتی حکومت سکھوں کو کرتارپور آنے سے روک رہی ہے'

‘بھارتی حکومت سکھوں کو کرتارپور آنے سے روک رہی ہے’

ورلڈ سکھ پارلیمنٹ کے صدر جوگت سنگھ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت سکھوں کو کرتارپور ...

%d bloggers like this: