طیارے میں سب کے سامنے برہنہ ہونے والی خاتون کو سزا

طیارے میں سب کے سامنے برہنہ ہونے والی خاتون کو سزا

عام طور پر ایئرلائن انتظامیہ کی عدم توجہی یا نامناسب رویے سے بعض مسافروں کو سفر میں مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں۔

تاہم بعض اوقات مسافروں کی جانب سے بدتمیزی کرنے یا پھر قابل اعتراض لباس پہننے کی وجہ سے ایئرلائن کمپنیاں انہیں طیاروں سے اتار دیتی ہیں یا انہیں سفر کرنے کی اجازت ہی نہیں دیتیں۔

اور ایسے بعض کیسز کو عدالت میں بھی لے جایا جاتا ہے اور ایسا ہی کچھ برطانیہ کی ایئرلائن کمپنی ’تھومس کک‘ کی انتظامیہ نے بھی کیا جو ایک خاتون کی بدتمیزی کے کیس کو عدالت لے گئی۔

برطانیہ کی ایئرلائن کمپنی کی انتظامیہ ایک خاتون مسافر کی جانب سے 40 ہزار فٹ کی بلندی پر نشے کی حالت میں برہنہ ہونے کے معاملے کو عدالت لے گئی تھی اور اب عدالت نے طیارے میں فحش حرکت کرنے والی خاتون کو جیل بھیج دیا۔

برطانوی اخبار ’دی انڈیپینڈنٹ‘ کے مطابق انگلینڈ کے شہر مانچسٹر کی عدالت نے نتاشا ایلن کو طیارے میں شراب پی کر عریاں ہونے کے جرم میں جیل بھیج دیا۔

خاتون پر الزام تھا کہ وہ مانچسٹر سے اسپین کے جزیرے فیورٹ وینٹرا جانے والی ایئرلائن میں سب کے سامنے برہنہ ہوئی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق خاتون طیارے میں سب کے سامنے اچانک عریاں ہوکر انتظامیہ کو گالیاں دینے سمیت ان پر ایئرلاین کو واپس مانچسٹر لینے کے لیے بھی دباؤ ڈالتی رہیں۔

عدالت میں ملزم خاتون کو پیش کیے جانے کے بعد ان پر طیارے میں مسافروں کے سامنے نشے کی حالت میں برہنہ ہوکر دوسروں کو تکلیف پہنچانے کی فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

اور اب عدالت نے خاتون کو ایئرلائن کی ساکھ خراب کرنے اور مسافروں کو قابل اعتراض واقعہ دیکھنے کے جرم میں 15 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔

یہ انگلینڈ میں پہلا موقع ہے کہ کسی خاتون کو طیارے میں عریاں ہونے پر سزا سنائی گئی، اس سے قبل برطانیہ، امریکا و یورپی ایئرلائن کمپنیوں کی جانب سے ایسی خواتین کو طیارے سے اتارنے کی دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں جو انتہائی بولڈ یا نیم عریاں لباس پہن کر سفر کرتی ہیں۔

رواں برس مارچ میں بھی اسی ایئرلائن نے 21 سالہ لڑکی ایملی او کانر کو انتہائی بولڈ اور چست لباس پہننے پر طیارے سے اتارنے کی دھمکی دی تھی۔

طیارے کے عملے نے خاتون کو اپنا جسم ڈھانپنے کی ہدایت کی تھی اور انہیں کہا گیا تھا کہ ان کا لباس انتہائی مختصر اور نیم عریاں ہیں جس سے دوسرے مسافر پریشان ہوں گے۔

بعد ازاں اسی خاتون نے ایئرلائن کمپنی کے خلاف ٹوئیٹ کی تھی جس پر کمپنی نے معذرت بھی کی تھی۔

اسی طرح رواں برس جون میں بھی برطانوی ایئرلائن ایزی جیٹ نے اسپین جانے والے طیارے سے ایک خاتون کو مختصر لباس پہننے پر اتار دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق جس خاتون کو طیارے سے اتارا گیا انہوں نے انتہائی مختصر لباس پہنا تھا اور انہیں خود کو ڈھانپنے کی ہدایت بھی کی گئی تھی تاہم خاتون نے اس پر عمل نہیں کیا تھا جس وجہ سے انہیں بعد ازاں طیارے سے اتار دیا گیا۔

x

Check Also

چین میں بچوں پر 90 منٹ سے زیادہ ویڈیو گیمز کھیلنے پر پابندی

چین میں بچوں پر 90 منٹ سے زیادہ ویڈیو گیمز کھیلنے پر پابندی

چین میں بچوں کے اندر ویڈیو گیمز کی لت کی روک تھام کے لیے مختلف ...

%d bloggers like this: