میرے اقدام کو غلط کہا تو یورپ میں انسانوں کا سیلاب آجائے گا، اردوان

میرے اقدام کو غلط کہا تو یورپ میں انسانوں کا سیلاب آجائے گا

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے یورپی ممالک کو دھمکی دی ہے کہ اگر شام میں شروع ہونے والے فوجی آپریشن کے ان کے اقدام کو حملہ کہا گیا تو یورپ میں انسانوں کا سیلاب آجائے گا۔

واضح رہے کہ عالمی برادری بالخصوص مسلم دنیا میں ترک صدر اپنے خیالات کا برملا اظہار کرنے میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس مرتبہ انہوں نے شام میں فوجیں اتارنے کے اپنے فیصلے کا نہ صرف دفاع کیا بلکہ اسے غلط کہنے والوں کو بھی تنبیہ کردی۔

ترک دارالحکومت میں اپنی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے رجب طیب اردوان نے یورپی یونین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے فیصلے کو حملہ قرار دیا گیا تو وہ اپنے دروازے کھول دیں گے اور یہاں موجود 36 لاکھ پناہ گزینوں کا سیلاپ یورپ میں آجائے گا۔

خیال رہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے وہاں کے باسی بالخصوصی ترک شہری بڑی تعداد میں اپنے ملک سے کسی محفوظ مقام تک نقل مکانی کر چکے ہیں۔ 

تاہم ان ممالک سے سب سے زیادہ تارکین وطن نے پناہ لینے کے لیے ترکی کا رخ کیا، جہاں ایک اندازے کے مطابق 36 لاکھ مہاجرین آباد ہیں۔

یورپی ممالک کی جانب سے ہمیشہ ترکی پر زور دیا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرحدی نگرانی کو سخت کرے تاکہ یہ پناہ گزین یورپ میں داخل نہ ہوسکیں۔

خیال رہے کہ ترک صدر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایک روز قبل یورپی ممالک کی جانب سے ترکی پر یہ زور دیا گیا تھا کہ وہ شام میں جنگ بندی کرتے ہوئے وہاں سے اپنی فوجیں واپس بلالے۔

اپنی پارٹی کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ انہوں نے شام کے شمال مشرق میں کرد کنٹرول کا مقابلہ کرکے شام کی علاقائی سالمیت کی حمایت کی۔ 

اردوان نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ لوگ ایماندار نہیں ہیں، وہ صرف لفظی جنگ کرتے ہیں لیکن ہم عملی کارروائی کرتے ہیں اور یہی عمل ہمیں ان سے مختلف بناتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق شام میں ترکی کے آپریشن کے آغاز کے بعد یورپی یونین نے اسے یک طرفہ فیصلہ قرار دیتے ہوئے محفوظ زون بنانے کے ترک فیصلے کو ہدف تنقید بنایا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پناہ گزینوں کے لیے فوجی آپریشن کے ذریعے زمین کا ٹکڑا حاصل کرنا اور انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے متعین کردہ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

خیال رہے کہ 05 اکتوبر کو شام کے صدر طیب اردوان نے شام میں فوجی آپریشن کا عندیہ دیا تھا۔

طیب اردوان نے کہا تھا کہ ترکی شام میں دریائے فرات کے مشرق میں فضائی اور زمینی فوجی آپریشن کرے گا اور یہ آپریشن جلد شروع ہوسکتا ہے۔

اپنے اس اعلان کے بعد 09 اکتوبر کو ترک فوج شام میں آپریشن شروع کردیا، اطلاعات کے مطابق ترک طیاروں کی بمباری سے 8 شہریوں سمیت 15 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

علاوہ ازیں سعودی وزیر خارجہ نے شام میں ترک کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ترک اقدام سے داعش کے خلاف عالمی کوششیں کمزور ہوں گی، خطے کی سلامتی اور استحکام پر منفی اثرات پڑیں گے

x

Check Also

امریکا کا ایران پر سائبر حملے کا انکشاف

امریکا کا ایران پر سائبر حملے کا انکشاف

سعودی عرب کی آئل کمپنی آرامکو کی 2 تنصیبات پر ہونے والے حملے کے بعد امریکا کے ...

%d bloggers like this: