جس طریقے سے حکومت آئی اسی طرح جائے گی، مریم نواز

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے حوالے سے کہا ہے کہ ‘جس غلط طریقے سے یہ حکومت آئی ہے اسی طرح چلی بھی جائے گی’۔

لاہور کی احتساب عدالت میں چوہدری شوگر ملز کیس میں مریم نواز کو پیش کیا گیا، اس دوران انہوں نے میڈیا سے غیررسمی گفتگو بھی کی۔

دوران گفتگو صحافی نے مریم نواز سے پوچھا کہ ایک وزیر نے نام لیے بغیر کہا کہ جیل میں ایک صاحبزادی سے موبائل برآمد ہوا اور اہم انکشافات سامنے آئے ہیں؟ جس پر مریم نواز نے موبائل فون کی برآمدگی کے الزام کو بے بنیاد قرار دیا۔

مریم نواز نے کہا کہ شرم آنی چاہیے انہیں جنہوں نے الزام لگایا، آئی جی جیل نے تردید کردی ہے کہ مجھ سے کوئی موبائل برآمد نہیں ہوا۔تحریر جاری ہے‎

اس دوران مولانا فضل الرحمٰن کے لانگ مارچ سے متعلق سوال پر مریم نواز نے کہا کہ ‘جس غلط طریقے سے یہ حکومت آئی اسی طرح سے چلی جائے گی’۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ‘جس طرح جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اسی طرح دھاندلی زدہ حکومت کے پاؤں نہیں’۔

مریم نواز کا مزید 14 روزہ عدالتی ریمانڈ

علاوہ ازیں لاہور کی احتساب عدالت نے چوہدری شوگر ملز/منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور ان کے کزم یوسف عباس کے عدالتی ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کردی اور ملزمان کو 23 اکتوبر کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

صوبائی دارالحکومت لاہور کی احتساب عدالت کے ڈیوٹی جج جواد الحسن نے چوہدری شوگر ملزم کیس کی سماعت کی، اس دوران دونوں ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

دوران سماعت قومی احتساب بیورو (نیب) کے پراسیکیوٹر حافظ اسد اللہ نے موقف اپنایا کہ منی لانڈرنگ کے الزام میں تحقیقات جاری ہیں، تفتیش مکمل ہونے پر ریفرنس دائر کر دیا جائے گا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ نیب نے منی لانڈرنگ کیس میں نواز شریف کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس موقف کے ساتھ ہی انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کی جائے۔

مریم نواز کے ساتھ سیلفیاں لینے پر جج برہم

دوران سماعت کمرہ عدالت میں مریم نواز کے ساتھ سیلفیاں بنائی گئیں، جس پر جج نے برہمی کا اظہار جبکہ کمرہ عدالت میں شور ہونے پر ناراضی کا اظہار کیا۔

جج نے برہم ہوتے ہوئے ریمارکس دیے کہ عدالت میں کیا تماشہ لگایا ہوا ہے، ساتھ ہی مریم نواز کو حکم دیا کہ آپ واپس اپنی جگہ پر چلی جائیں، آپ کی حاضری ہو گئی ہے آپ بیٹھ سکتی ہیں۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے جج نے کہا کہ سیکیورٹی کا مسئلہ ہے رش نہ لگایا جائے۔

سماعت کے دوران وکلا کی جانب سے ملزمان سے مشاورت کے لیے علیحدہ کمرے میں ملاقات کی اجازت مانگی گئی جس پر عدالت نے ملزمان کی حاضری مکمل کرنے کے بعد وکلا کو مشاورت کی اجازت دے دی۔

عدالت نے کہا کہ آپ ملاقات کر لیں مگر اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی دوسرا نہ ہو، تاہم علیحدہ کمرہ میں مریم نواز کے ساتھ اضافی افراد گئے، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور حکم دیا کہ کمرے سے تمام افراد کو باہر نکالا جائے۔

جج نے ریمارکس دیے کہ کمرے میں عدالتی ریکارڈ موجود ہے، جس کو نقصان کا خدشہ ہے، لہٰذا پولیس ملزم اور وکلا کے علاوہ تمام افراد کو باہر نکال دے۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر کی گرفتاری

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے چوہدری شوگر ملز کیس میں طلب کیا گیا تھا جہاں ان سے اس کیس سے متعلق مالیاتی امور کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔

تاہم مریم نواز نے نیب کے سامنے پیش ہونے سے معذرت کی تھی اور جیل میں قید اپنے والد سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے لیے چلی گئی تھیں۔

بعد ازاں 8 اگست 2019 کو مریم نواز کو کوٹ لکھپت جیل میں اپنے والد نواز شریف سے ملاقات کے بعد واپس جاتے ہوئے راستے سے گرفتار کیا گیا تھا۔

مریم نواز کے نیب کے سامنے پیش نہ ہونے پر باقاعدہ ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے اور تحویل میں لیتے ہوئے انہیں وہ وارنٹ بھی دکھائے گئے۔

جس کے بعد نیب کی جانب سے احتساب عدالت سے متعدد مرتبہ مریم نواز کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست کی جاتی رہی جسے عدالت نے منظور کیا۔

27 ستمبر کو لاہور کی احتساب عدالت نے مریم نواز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا تھا۔

واضح رہے کہ ان کے والد اور سابق وزیراعظم نواز شریف بھی العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں کوٹ لکھپت جیل میں قید کاٹ رہے ہیں۔

x

Check Also

آرمی چیف کی دوسری مدت سے دو دن پہلے فوج میں اہم تبدیلیاں

بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے دوسرے دور ملازمت شروع ہونے ...

%d bloggers like this: