آرمینیا کی نوجوان لڑکی نے طبی ماہرین کو اس وقت حیرت زدہ کر دیا جب ان کی آنکھوں سے روتے وقت آنسوؤں کی جگہ 50 کے قریب نوکیلے کانچ کے ٹکڑے نکل آئے۔ ہم سب لوگوں کو رونا اس وقت آتا ہے جب ہم دماغی یا جسمانی تکلیف میں مبتلا ہوتے ہیں مگر ساٹینک کزریان نامی خاتون کا ’رونا‘ ان کے لیے جسمانی تکلیف کے ساتھ سخت اذیت کا باعث بھی ہے کیونکہ جب وہ روتی ہیں تو ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جگہ کانچ کے چھوٹے اور نوکیلے ٹکڑے آنکھوں کو زخمی کرتے ہوئے نکلتے ہیں۔ 22 سالہ آرمینیائی لڑکی کا کہنا تھا کہ کچھ دنوں قبل ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جگہ کانچ کے چھوٹے چھوٹے نوکیلے ٹکڑے نکلنے لگے، اسے لگا کہ اس کی آنکھوں سے کوئی ریت نکل رہی ہے۔ فوٹو: بشکری آڈیٹی سینٹرل ساٹینک کزریان نے اس صورتحال کے بعد فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کیا جنہوں نے اس کی آنکھوں سے مزید کانچ کے ٹکڑے نکالے۔ نوجوان لڑکی کا کہنا ہے کہ اس دن کے بعد سے اس کی زندگی جہنم بن گئی، اور ان کی آنکھوں سے اب روز تقریباً 50 نوکیلے کانچ کے ٹکڑے نکلتے ہیں جس سے انہیں شدید تکلیف پہنچتی ہے۔ لڑکی نے آرمینیائی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز میری اس بیماری کو دیکھ کر حیران تھے، ڈاکٹرز کو بھی نہیں معلوم کے اس بیماری کا کیا علاج ہے اور وہ یہ بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آیا یہ بیماری ہے کون سی۔ فوٹو: بشکری آڈیٹی سینٹرل اس نے مزید بتایا کہ جب میں پہلی مرتبہ ڈاکٹر کے پاس گئی تھی تو وہ میری بیماری کو سمجھ نہیں پائے، انہیں لگ رہا تھا کہ میں جھوٹ کہہ رہی ہوں، اور کوئی شخص بھی اس بات پر یقین نہیں کرتا تھا کہ میری آنکھوں سے آنسوؤں کی جگہ کانچ کے چھوٹے اور نوکیلے ٹکڑے نکلتے ہیں۔ ساٹینک کزریان نے روتے ہوئے آنکھوں سے کانچ نکلتے وقت کی ایک ویڈیو ثبوت کے طور پر سوشل میڈیا پر بھی ڈالی جو بہت وائرل ہو گئی ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد لڑکی کی آنکھوں سے نکلنے والے کانچ کے ٹکڑوں کو لیب میں ٹیسٹ کے لیے بھیجا گیا جب کہ آرمینیائی ڈپٹی ہیلتھ منسٹر نے ایک بیان جاری کیا کہ ہم 22 سالہ ساٹینک کزریان کی بیماری کے بارے میں تحقیق کر رہے ہیں اور اس کی مدد کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ روسی ماہر چشم ڈاکٹر تتیانا شلوا کا کہنا تھا کہ اس طرح کے کانچ انسان کے جسم میں صرف اس وقت بنتے ہیں جب جسم میں کسی چیز کی مقدار تبدیل ہو، جیسے جسم میں نمک کی مقدار حد سے زیادہ ہو جائے، تاہم بیماری کا ایک پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مریض کو دل یا دماغ کا کوئی عارضہ لاحق ہونے والا ہو جس سے قبل یہ علامات سامنے آتی ہیں۔ دوسری جانب یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے ایک پروفیسر کا کہنا ہے کہ انہیں 22 سالہ لڑکی کی یہ بیماری نا ممکن سی لگتی ہے، اپنے 30 سال کے تجربے میں ایسا کیس کبھی نہیں دیکھا، اور یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی اس طرح کے دو کیسز سامنے آچکے ہی ہیں جن میں برازیلین اور بھارتی خاتون کی آنکھوں سے بھی روتے وقت کانچ کے ٹکڑے نکلتے تھے۔

لڑکی کی آنکھوں سے آنسو کی جگہ کانچ

آرمینیا کی نوجوان لڑکی نے طبی ماہرین کو اس وقت حیرت زدہ کر دیا جب ان کی آنکھوں سے روتے وقت آنسوؤں کی جگہ 50 کے قریب نوکیلے کانچ کے ٹکڑے نکل آئے۔

ہم سب لوگوں کو رونا اس وقت آتا ہے جب ہم دماغی یا جسمانی تکلیف میں مبتلا ہوتے ہیں مگر ساٹینک کزریان نامی خاتون کا ’رونا‘ ان کے لیے جسمانی تکلیف کے ساتھ سخت اذیت کا باعث بھی ہے کیونکہ جب وہ روتی ہیں تو ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جگہ کانچ کے چھوٹے اور نوکیلے ٹکڑے آنکھوں کو زخمی کرتے ہوئے نکلتے ہیں۔

22 سالہ آرمینیائی لڑکی کا کہنا تھا کہ کچھ دنوں قبل ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جگہ کانچ کے چھوٹے چھوٹے نوکیلے ٹکڑے نکلنے لگے، اسے لگا کہ اس کی آنکھوں سے کوئی ریت نکل رہی ہے۔

ساٹینک کزریان  نے اس صورتحال کے بعد فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کیا جنہوں نے اس کی آنکھوں سے مزید کانچ کے ٹکڑے نکالے۔

نوجوان لڑکی کا کہنا ہے کہ اس دن کے بعد سے اس کی زندگی جہنم بن گئی، اور ان کی آنکھوں سے اب روز تقریباً 50 نوکیلے کانچ کے ٹکڑے نکلتے ہیں جس سے انہیں شدید تکلیف پہنچتی ہے۔

لڑکی نے آرمینیائی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز میری اس بیماری کو دیکھ کر حیران تھے، ڈاکٹرز کو بھی نہیں معلوم کے اس بیماری کا کیا علاج ہے اور وہ یہ بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آیا یہ بیماری ہے کون سی۔

اس نے مزید بتایا کہ جب میں پہلی مرتبہ ڈاکٹر کے پاس گئی تھی تو وہ میری بیماری کو سمجھ نہیں پائے، انہیں لگ رہا تھا کہ میں جھوٹ کہہ رہی ہوں، اور کوئی شخص بھی اس بات پر یقین نہیں کرتا تھا کہ میری آنکھوں سے آنسوؤں کی جگہ کانچ کے چھوٹے اور نوکیلے ٹکڑے نکلتے ہیں۔

ساٹینک کزریان نے روتے ہوئے آنکھوں سے کانچ نکلتے وقت کی ایک ویڈیو ثبوت کے طور پر سوشل میڈیا پر بھی ڈالی جو بہت وائرل ہو گئی ہے۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد لڑکی کی آنکھوں سے نکلنے والے کانچ کے ٹکڑوں کو لیب میں ٹیسٹ کے لیے بھیجا گیا جب کہ آرمینیائی ڈپٹی ہیلتھ منسٹر نے ایک بیان جاری کیا کہ ہم 22 سالہ ساٹینک کزریان کی بیماری کے بارے میں تحقیق کر رہے ہیں اور اس کی مدد کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔

روسی ماہر چشم ڈاکٹر تتیانا شلوا کا کہنا تھا کہ اس طرح کے کانچ انسان کے جسم میں صرف اس وقت بنتے ہیں جب جسم میں کسی چیز کی مقدار تبدیل ہو، جیسے جسم میں نمک کی مقدار حد سے زیادہ ہو جائے، تاہم بیماری کا ایک پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مریض کو دل یا دماغ کا کوئی عارضہ لاحق ہونے والا ہو جس سے قبل یہ علامات سامنے آتی ہیں۔

دوسری جانب یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے ایک پروفیسر کا کہنا ہے کہ انہیں 22 سالہ لڑکی کی یہ بیماری نا ممکن سی لگتی ہے، اپنے 30 سال کے تجربے میں ایسا کیس کبھی نہیں دیکھا، اور  یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی اس طرح کے دو کیسز سامنے آچکے ہی ہیں جن میں برازیلین اور بھارتی خاتون کی آنکھوں سے بھی روتے وقت کانچ کے ٹکڑے نکلتے تھے۔

x

Check Also

دُلہا کی بیت الخلا میں سیلفی پر دُلہن کو انعام ملے گا

دُلہا کی بیت الخلا میں سیلفی پر دُلہن کو انعام ملے گا

بھارتی ریاست مدھیا پردیش کی حکومت نے ایک انوکھی اسکیم جاری کی ہے جس میں ...

%d bloggers like this: