طالبان کی زلمے خلیل زاد سے ملاقات کا انکشاف

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز نے 2 مختلف ذرائع سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر رپورٹ میں کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں موجود طالبان کے وفد اور امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کے مابین ملاقات ہوئی۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات منسوخ کیے جانے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب دونوں فریقین کی ملاقات سے متعلق خبریں گردش میں ہیں۔

ان مذاکرات کا مقصد جنگ زدہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا منصوبہ تشکیل دینا تھا جس کے جواب میں طالبان سیکیورٹی ضمانت دینے پر راضی ہوتے، تاہم کابل میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں ایک امریکی فوجی سمیت 12 افراد کی ہلاکت پر امریکی صدر نے مذاکرات منسوخ کردیے تھے۔

رپورٹ میں ذرائع کا حوالہ دے کر دعویٰ کیا گیا کہ اسلام آباد میں دونوں فریقین مابین ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات میں باضابطہ طور پر مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

ایک سرکاری عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’طالبان رہنماؤں کی زلمے خلیل زاد کے ساتھ ملاقات ہوئی اور دونوں فریقین کو امن عمل کے لیے ملاقات کی اہمیت کے حوالے سے قائل کرنے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملاقات میں امن عمل پر باضابطہ گفتگو نہیں کی گئی البتہ اعتماد کی بحالی کا عزم ظاہر کیا گیا۔

دوسری جانب یہ امر مدِ نظر رہےکہ اسلام آباد میں موجود امریکی سفارت خانے اور واشنگٹن میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اس بارے میں تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ آیا دونوں فریقین کے درمیان ملاقات ہوئی یا نہیں۔

اس حوالے سے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے اس ہفتے کے دوران کئی دن اسلام آباد میں پاکستانی حکام سے بات چیت کرتے ہوئے گزارے لیکن ان کی ملاقاتیں افغان مفاہتمی عمل کی بحالی کا مظہر نہیں تھیں۔

اس ضمن میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے طالبان کی زلمے خلیل زاد کے ساتھ ملاقات کی تصدیق یا تردید کرنے کے بجائے موقف اختیار کیا کہ وفد جمعے کے روز بھی ملاقاتوں کے سلسلے میں اسلام آباد میں موجود تھا۔

دوسری جانب افغانستان کے ایک طالبان رہنما نے شناخت پوشیدہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ’وفد کے پاکستان آنے کا مقصد 18 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات بحال کرنا ہے‘۔

ادھر افغان حکومت کے ذرائع کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت نے کابل کو اسلام آباد میں زلمے خلیل زاد اور طالبان کی ملاقات کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔

تاہم افغان حکام کو یہ بتایا گیا کہ مذکورہ ملاقات امریکی اور آسٹریلوی یونیورسٹی کے 2 پروفیسرز کے بارے میں تھی جنہیں 2016 میں طالبان سے منسلک حقانی گروپ نے اغوا کیا تھا۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی کی سربراہی میں افغان حکومت اس وقت تک مذاکرات کی بحالی نہں چاہتی جب تک اس میں افغان نمائندگی نہ ہو۔

خیال رہے کہ اس سے قبل طالبان وفد نے ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے بھی ملاقات کی تھی اور افغان امن عمل مذاکرات کی جلد بحالی پر زور دیا تھا۔

x

Check Also

آرمی چیف کی دوسری مدت سے دو دن پہلے فوج میں اہم تبدیلیاں

بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے دوسرے دور ملازمت شروع ہونے ...

%d bloggers like this: