’ پی پی پی کسی بھی صورتحال میں جمہوریت کو نقصان نہیں پہنچائے گی‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے پارلیمان کو کمزور کردیا ہے، سیاسی جماعتوں کے پاس سڑکوں پر نکلنے سے سوا چارہ نہیں رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم حکومت کا ظلم سہنے اور دباؤ برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن اس کے باوجود اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، پی پی پی وفاقی حکومت کو صوبوں کے حقوق سلب کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایک سال کے عرصے میں عمران خان بے نقاب ہوچکے ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے ہر سیاسی مخالف کو جیل میں ڈال دیا ہے بلکہ ان کی گھر کی خواتین کو بھی قید کردیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم کہتے تھے ایک کروڑ نوکریاں دیں گے اس کے بجائے نوجوانوں کو بے روزگار کردیا ہے، 50 ہزار گھر بنانے کے دعوے کرنے والوں نے ایک گھر بھی تعمیر نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ عوام مہنگائی سے اذیت میں مبتلا ہیں لیکن جمہوری قوتیں ان کے مسائل حل کرنے کے لیے تیار نہیں صورتحال یہاں تک پہچن چکی ہے کہ تاجر طبقہ اپنے مسائل لے کر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تک جاپہنچا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ تاجروں کے مسائل حل ہوجائیں گے لیکن اس سے یہ غلط مثال قائم ہورہی ہے کہ کل ہر کوئی اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل کے حل کے لیے پارلیمنٹ سے رجوع کرنے کے بجائے جی ایچ کیو سے رابطہ کریں گے۔

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ دفاعی اور خفیہ اداروں کا کام ملک کے خلاف سازشوں کا توڑ کریں لیکن اگر وزیراعظم انہیں الیکشن سنبھالنے، معیشت سنبھالنے، خارجہ پالیسی کی ذمہ داری سونپ دیں گے تو سرحدوں کا تحفظ دہشت گردی کا مقابلہ کون کرے گا جو نہایت ضروری ہے لہٰذا ضروری ہے کہ ہر ادارہ اپنی ڈومین میں رہے اور اپنا کام کریں تا کہ عوام کے مسائل کو حل کیا جاسکے۔

پی پی پی چیئرمین وزیراعظم پر پارلیمان کو کمزور کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جس پارلیمان میں عوام کے مسائل حل نہ ہو اس پر بات چیت نہ ہو، عوامی نمائندوں کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیے جائیں گے تو اس سے جمہوری قوتیں پارلیمان کے بجائے سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ یہ دھاندلی زدہ حکومت ہے جسے گھر جانا پڑے گا اور جہاں تک بات مولانا فضل الرحمٰن کے 27 اکتوبر کے دھرنے کی بات ہے تو پی پی پی نے پارٹی اجلاس بلایا ہے جس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ مولانا کے ساتھ کس طرح تعاون کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کا ارادہ تھا کہ مل کر ایک مشترکہ جلسے کا اعلان کیا جائے تاہم ہم مولانا کے احتجاج کی حمایت کے لیے مشاورت کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی ہر جمہوری احتجاج میں ساتھ دے گی لیکن دھرنے کے حوالے سے تحفظات ہیں اور پی پی پی کسی بھی صورتحال میں ایسا قدم نہیں اٹھائے گی جس سے جمہوریت کو نقصان پہنچے۔

ان کا مزید کہان تھا کہ اگر حکومت پارلیمان کو غیر فعال اور کمزور کرے گی، اراکین کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہیں ہوتے، قانون سازی پر بات نہ کرنے دی جائے تو سیاسی جماعتوں پاس سڑکوں پر نکلنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہے گا۔

راولپنڈی میں مقدمے کی منتقلی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہر پاکستانی پر جہاں الزام لگتا ہے وہیں کی عدالت میں اس کا مقدمہ چلایا جاتا ہے لیکن پی پی پی کے خلاف کیسز ٹرائل کے لیے پنڈی بھیج دیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کو جے آئی رپورٹ میں شامل نہیں کرنا چاہیے تھا جس سے ادارہ خود متنازع ہوجاتا ہے اور پانامہ کے مسئلے پر بھی ہم نے یہی کہا تھا کہ اس مسئلے کو پارلیمان کے ذریعے حل کیا جائے لیکن اس وقت مسلم لیگ (ن) نے بھی ہمارا ساتھ نہیں دیا۔

انہوں نے استفسار کیا کہ آخر پنڈی میں ایسا کیا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی ہو تو پنڈی میں ہو محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت ہو تو پنڈی میں ہو اور اگر ہمارے خلاف مقدمے چلائیں جائیں تو پنڈی میں چلائے جائیں، انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب میں دھاندلی کرنا چاہتی ہے۔

x

Check Also

آرمی چیف کی دوسری مدت سے دو دن پہلے فوج میں اہم تبدیلیاں

بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے دوسرے دور ملازمت شروع ہونے ...

%d bloggers like this: