چونیاں میں بچوں کا ریپ، ملزم کی گرفتاری کا دعویٰ

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ سانحہ چونیاں میں بچوں کے ساتھ درندگی کرنے والے ملزم کی شناخت سہیل شہزاد کے نام سے ہوئی جسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ سانحہ چونیاں میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کرنے والے ملزم سہیل شہزاد کا ڈی این اے بچوں کے کپڑوں سے ملنے والے ڈی این اے سے میچ کر گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ‘واقعے کی تحقیقات میں ایک ہزار 649 ریکارڈ یافتہ ملزمان کی جیوفینسنگ کی گئی اور ایک ہزار 543 افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کیے گئے جس میں معلوم ہوا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی اور انہیں قتل کرنے والا سیریل کلر یہی ہے’۔تحریر جاری ہے‎

ان کا کہنا تھا کہ ’27 سالہ ملزم رانا ٹاؤن کا رہائشی اور لاہور میں تندور پر روٹیاں لگاتا تھا’۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ‘جون، اگست اور ستمبر میں بچوں کے ساتھ زیادتی ہوئی اور انہیں قتل کیا گیا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ملزم کو رحیم یار خان سے گرفتار کر لیا گیا ہے’۔

انہوں نے متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی یقین دہانی کراتے ہوئے کیس کی خود نگرانی کرنے کا اعلان بھی کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ قصور کے علاقے چونیاں میں لاپتہ ہونے والے 4 بچوں کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں جنہیں مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق قصور سے یہ بچے جون سے لاپتہ ہوئے جن کی عمریں 8 سے 12 سال کے درمیان تھیں۔

لاپتہ ہونے والے 4 بچوں میں سے ایک بچے فیضان کی لاش 20 ستمبر کو برآمد ہوئی تھی جو 16 ستمبر کو لاپتہ ہوگئے تھے۔

وزیر اعظم عمران خان نے قصور میں بچوں کے اغوا اور ان کے مبینہ ریپ کے بعد قتل کے واقعے پر حکومت کی جانب سے اب تک اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ واقعے پر سب کا محاسبہ ہوگا۔

بعد ازاں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ بچوں کے قاتل کے سر کی قیمت 50 لاکھ مقرر کردی گئی ہے۔

واضح رہے کہ پنجاب کے ضلع قصور میں گزشتہ چند برسوں کے دوران بچوں کو اغوا کے بعد ریپ کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں اور جنوری 2018 میں 6 سالہ زینب کے ریپ اور قتل کے واقعے نے پورے ملک کو جھنجھوڑ دیا تھا اور ملک بھر میں احتجاج کیا گیا تھا۔

بعد ازاں پولیس نے عمران علی نامی مجرم کو گرفتار کرلیا تھا جو زینب کے ریپ اور قتل کا ذمہ دار تھا اور اس کو عدالتی کارروائی کے بعد ایک سال کے اندر اندر پھانسی دے دی گئی تھی۔

یاد رہے کہ قصور کے علاقے حسین خان والا 2015 میں اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا تھا جب وہاں پر بچوں کی فحش ویڈیوز بنانے والا ایک گروہ بے نقاب ہوا تھا۔

ہزاروں کی تعداد میں ویڈیوز منظر عام پر آئی تھیں جن میں ایک گروہ درجنوں بچوں کو جنسی عمل کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔

اسی طرح یہ گروہ بچوں کی فحش ویڈیو بنا کر متاثرہ خاندان کو بلیک میل کرکے ان سے کروڑوں روپے اور سونا اور دیگر اشیا لوٹنے میں بھی ملوث پایا گیا تھا۔

x

Check Also

لاہور ہائیکورٹ نے بانڈ کی حکومتی شرط ختم کر دی

لاہور ہائیکورٹ نے بانڈ کی حکومتی شرط ختم کر دی

جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی جس ...

%d bloggers like this: