کپتان کا چھکا

کپتان کا چھکا

تحریر: ارشد وحید چودھری

کپتان نے جو چھکا لگانا تھا لگا دیا، بطور سفارتکار جو سفارتی داؤ لگانا تھا لگا دیا، بطور وزیراعظم دنیا بھر کو جو آئینہ دکھانا تھا دکھا دیا، بطور ترجمان کشمیریوں کی جو ترجمانی کرنا تھی کر دی۔

بطور مبصر مستقبل کی جو عکسبندی کرنا تھی کر دی اور بطور مسلمان جو ایمان ظاہر کرنا تھا کر دیا، اب بھارتی حکومت بھلے اس چھکے کو رولز آف گیم کے خلاف قرار دیتی رہے، خان کے سفارتی داؤ پہ مین میخ نکالتی رہے، اس آئینے میں اپنی شبیہ دیکھ کر تلملاتی رہے، کشمیریوں کی ترجمانی پہ آگ بگولہ ہوتی رہے اور لا الہ الا للہ کو اسلامی بنیاد پرستی سے جوڑتی رہے حاصل کلام یہی کہ عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں لڑے جانیوالا یہ مقدمہ جیت چکے ہیں۔

اُنہوں نے پچاس منٹ کے اس معرکے میں اپنے حریف بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو چاروں شانے چت کر دیا ہے جس کا پندرہ منٹ میں ہی سانس پھول گیا تھا۔

سچ تو ہے کہ یو این جنرل اسمبلی میں پندرہ منٹ کے خطاب کی روایت کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے ابتدائیے میں ماحولیاتی تبدیلی اور منی لانڈرنگ پہ زور دینا بالکل نہیں بھا رہا تھا کیونکہ سب مسئلہ کشمیر پہ ان کا بیانیہ سننا چاہتے تھے جبکہ وقت گزر رہا تھا لیکن روایت شکن کپتان نے جیسے ہی اسلامو فوبیا پہ عالمی رہنماؤں کی غلط فہمی دور کرتے ہوئے دبنگ انداز میں کشمیریوں کی بے لاگ ترجمانی کی تو جنرل اسمبلی کے حکام بھی وقت کی قید سے بے نیاز ہو گئے۔

پندرہ منٹ میں ادھر ادھر کی ہانک کر مقبوضہ کشمیر میں بہتے لہو سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش کرنے والے مودی اور اس کی ٹیم کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ کرفیو کے ذریعے 53دنوں سے محصور وادی کشمیر کو عمران خان 23منٹ میں اس انداز میں دنیا کے سامنے پیش کر دیں گے کہ مظلوم کشمیریوں کی چیخیں عالمی رہنماؤں کو اپنے کانوں میں سنائی دینے لگیں گی۔ 1ارب 20کروڑ کی منڈی کو خوش کرنے یا انصاف اور انسانیت کے ساتھ کھڑا ہونے جیسی باتیں کر کے وزیراعظم پاکستان نے عالمی ضمیر پہ وہ کچوکے لگائے کہ اسے انگڑائی لینے پہ مجبور کر دیا۔

شدت پسندی کے ہر دوسرے واقعے کو اسلام سے جوڑنے والے عالمی رہنماؤں کو پہلی بار کسی نے اتنے مدلل انداز میں اسلام کے امن پسند دین بارے سمجھایا تو وہ بھی سوچنے پہ مجبور ہو گئے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا کیونکہ اگر اس مفروضے کو سچ مان لیا جائے تو پھر عمران خان کی اس دلیل پہ بھی ایمان لانا ہوگا کہ تامل خود کش حملہ آور تو ہندتوا کے پیروکار تھے تو کیا دہشت گردی کی بنیاد کو ہندومت مذہب سے جوڑا جائے۔

پہلی بارکسی اسلامی ملک کے سربراہ نے اسلام کو صرف تعصب کی عینک سے دیکھنے والوں کو باور کرایا کہ اسلام تو نام ہی امن اور انسانیت کا ہے جس کے مبلغ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف مسلمانوں نہیں بلکہ پوری انسانیت کیلئے رحمت بنا کر بھیجا گیا، جس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کی پہلی فلاحی ریاست قائم کی اور انسانیت کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لا کھڑا کیا اس دین محمدی کے پیروکار کیسے انتہا پسند یا دہشت گرد ہو سکتے ہیں، انہوں نے دنیا کے نمائندوں کو آسان الفاظ میں سمجھایا کہ جب کوئی بد بخت اظہار رائے کی آزادی کے نام پہ مسلمانوں کی سب سے محبوب ہستی کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو ہر مسلمان پہ اس پاک ہستی کی ناموس کے تحفظ کیلئے مر مٹنا لازم ہے، اس لئے اظہار رائے کی حدود و قیود کا خیال رکھا جائے۔

پھر اسی خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے ان وجوہات پہ بھی تفصیلی روشنی ڈالی جو کسی مسلمان کو انتہا پسندی کی ترغیب دیتی ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی چھتری تلے گزشتہ سات دہائیوں سے جاری نا انصافی پہ عالمی طاقتوں کو مورد الزام ٹھہرایا اور پاکستان کے بطور ایٹمی طاقت کا حوالہ دے کر یہاں تک خبردار کر دیا کہ اگر دنیا نے اپنے مفادات کی خاطر مقبوضہ کشمیر میں ظلم و زیادتی اور اس کھلم کھلا ناانصافی پہ خاموشی جاری رکھی تو پھر دنیا کے امن کی بھی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے واشگاف الفاظ میں یہ بھی باور کرا دیا کہ کل کو خطے اور دنیا کو کسی نئی جنگ میں جھونکنے کا ذمہ دار پاکستان کو ہرگز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہر تھوڑے عرصے بعد پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کرنے والوں پر بھی وزیراعظم نے واضح کر دیا کہ آج جن کو دہشت گرد کہا جاتا ہے ماضی میں وہی مجاہدین آپ کی آنکھ کا تارا تھے، انہیں جنم دینے کے ذمہ دار بھی آپ خود ہیں۔اس لئے آپ اپنی ادائوں پہ غور کریں۔

بلاشبہ دنیا اتنا کھرا اور ننگا سچ سننے کی عادی نہیں ہے اسی لئے عمران خان کی تقریر کو دنیا بھر کے میڈیا میں غیر معمولی پذیرائی ملی، وہ مغربی میڈیا بھی وزیراعظم عمران خان کے بے باک سچ پہ ان کی مدح سرائی پہ مجبور ہو گیا جسے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم نظر نہیں آتے تھے جبکہ بھارتی میڈیا اس خطاب سے خائف ہو کر اس قدر بائولا ہو گیا کہ مودی حکومت پہ رائٹ ٹو رپلائی کے ذریعے وزیراعظم پاکستان کے اس خطاب کا جواب دینے کیلئے چڑھ دوڑا۔

عمران خان نے کشمیریوں کی جو حقیقی ترجمانی کی اس کا جشن منانے کے لئے مقبوضہ کشمیر کے نوجوان کرفیو توڑ کر سڑکوں پہ نکل آئے جبکہ اپنی خفت مٹانے کیلئے درندہ صفت مودی کی افواج نے مزید کشمیریوں کو شہید کرنا شروع کر دیا۔

بلاشبہ کپتان نے اقوام متحدہ کے میدان میں چھکا مارا ہے لیکن اب ان کی طرف سے ملکی میدان میں بھی اسپورٹس مین اسپرٹ کی ضرورت ہے تاکہ ان کے چھکے پہ تالیاں بجانے والوں میں اپوزیشن بھی شامل ہو جائے۔

x

Check Also

بڑے بڑے دانشوروں کی تحریروں سے گزرتے اور بڑے بڑے میڈیا ماہرین کی گفتگو سنتے ہوئے کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے اور اختلاف کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اخبار یا ٹیلی وژن چینل سے وابستہ حضرات کی اکثریت سے مطالعے، تحقیق اور غور و فکر کی توقع رکھنا دل شکنی کا باعث ہو سکتا ہے کیونکہ ان لوگوں کو فرصت کم کم نصیب ہوتی ہے۔ ویسے بھی معاشرے میں ان کو اتنی پذیرائی اور شہرت مل جاتی ہے کہ وہ کتاب سے خاصی حد تک بے نیاز ہو جاتے ہیں اور عام طور پر شہرت کے تکبر کا شکار ہو جاتے ہیں، البتہ کچھ حضرات کتاب سے تعلق نبھاتے ہیں اور غور و فکر کے لئے بھی وقت نکالتے ہیں۔ عام طور پر لیڈروں کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس طرح لیڈران کی زندگی کو ذاتی اور عوامی شعبوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے اور بہت سی شرعی قباحتوں کو ذاتی زندگی کے خانے میں ڈال کر جائز اور ناجائز کی بحث سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ بادشاہتوں اور خاندانی آمریتوں میں ایسا ہی ہوتا ہے کیونکہ ان معاشروں میں حکمرانوں کی جانب انگلی اٹھانے کی جسارت گردن زدنی کا باعث بھی بن سکتی ہے لیکن جمہوری یا نیم جمہوری نظام میں حکمرانوں کی ذاتی زندگی پر تصور موجود ہی نہیں ہوتا۔ حکمران ہر فعل کیلئے عوام کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے حتیٰ کہ اگر اقتدار کا تاج پہننے سے قبل بھی اس نے کوئی غلط کام کیا ہے تو اقتدار میں آنے کے بعد اس کا بھی احتساب کیا جاتا ہے۔ حکمران یا لیڈر قوم کا رول ماڈل ہوتا ہے اور اس کی ہر حرکت، ہر پالیسی اور ہر اقدام قوم کو کسی نہ کسی طرح متاثر کرتا ہے۔ ہم نے گزشتہ 72برسوں میں یہاں اسی طرح کا کلچر پروان چڑھتے دیکھا ہے جس قسم کی حکمران کی شخصیت تھی، ہم نے قومی عادات، سماجی رویے حتیٰ کہ لباس کو بھی حکمرانوں کی شخصیت سے متاثر ہوتے دیکھا ہے۔ تفصیل میں جائے بغیر آپ خود غور کریں کہ ایوب خان، بھٹو، ضیاء الحق، بینظیر اور نواز شریف کے ادوار اور پھر جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں ہمارا معاشرہ کس طرح حاکموں کی شخصیتوں سے متاثر ہوتا رہا اور ان کی ذاتی زندگیوں کی پرچھائیں ہر طرف نظر آتی رہیں، اگر ضیاء الحق کے دور میں مساجد میں حاضری بڑھی اور شلوار قمیص واسکٹ کا رواج پروان چڑھا تو جنرل مشرف کے دور میں انگریزی لباس، نائو نوش اور رقص و سرور کی خوب حوصلہ افزائی ہوئی۔ کرپٹ حکمرانوں کے دور میں اوپر سے لے کر نیچے تک کرپشن نے رواج پایا اور ایماندار حاکموں کے دور میں کرپشن محتاط رہی۔ سیاست اور جمہوریت کا پہلا اصول ہی Transparency یعنی شفافیت ہے جس کا مطلب ہوتا ہے اندر باہر کا واضح ہونا، ذاتی اور سیاسی زندگی کا بے نقاب ہونا۔ اسی سے آزادیٔ اظہار کے چشمے پھوٹتے ہیں اور اسی سے احتساب یا جوابدہی کا سورج طلوع ہوتا ہے۔ کسی لیڈر کے حوالے سے کسی بات کو ذاتی کہہ کر اسے ڈھال یا پردہ فراہم کرنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ میرے مشاہدے کے مطابق سیاستدان اور لیڈر کے لئے سب سے اہم اور قیمتی شے اس کا ووٹ بینک، سیاسی حمایت اور پھر اسی حوالے سے اس کی پارٹی اور کارکن ہوتے ہیں۔ لیڈر ان شعبوں کو بچانے، محفوظ رکھنے اور مضبوط بنانے کے لئے ہمہ وقت سوچتا اور کام کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ان کے لئے بڑی سے بڑی قربانی بھی دے سکتا ہے۔ سینکڑوں مثالیں واضح کرتی ہیں کہ کس طرح لیڈر اور حکمران نے محض اپنے ان سیاسی اثاثوں کو بچانے کے لئے اقتدار چھوڑ دیا حتیٰ کہ جان بھی دے دی۔ بھٹو صاحب جب جیل میں پڑے موت کا انتظار کر رہے تھے تو بیشک وہ تاریخ میں سرخرو ہونے کا خواب دیکھ رہے تھے، تاریخ میں سرخرو ہونے کیلئے ہی مستحکم ووٹ بینک اور پارٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیاقت علی خان قائداعظم کے ساتھی، تحریک پاکستان کے بڑے کارکن اور مقبول سیاسی لیڈر تھے۔ ملک و قوم کے لئے ان کا ایثار ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہیں دن دہاڑے شہید کر دیا گیا۔ ان کے مقابلے میں بھٹو صاحب نہ تحریک پاکستان کے لیڈر تھے اور نہ ہی قائداعظم کے ساتھی بلکہ آمریت کی پیداوار تھے، پھر کیا وجہ ہے کہ موت کے بعد بھٹو صاحب لیاقت علی خان کے مقابلے میں زیادہ مقبول و موثر لیڈر بن کر ابھرے۔ بہت سی وجوہ ہوں گی لیکن میرے نزدیک اس صورتحال کی بڑی وجہ بھٹو صاحب کی سیاسی پارٹی، ووٹ بینک اور سیاسی کارکن تھے جبکہ لیاقت علی خان کو ان کی شہادت کے بعد ان کی پارٹی نے کوئی اہمیت نہ دی۔ لیاقت علی خان کے صاحبزادگان چھوٹے تھے، اگر وہ جوان ہوکر سیاست میں قدم رکھتے اور اپنے باپ کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانا چاہتے تو انہیں مایوسی ہوتی۔ اس کے برعکس طویل جلا وطنی اور پابندیوں کے باوجود بینظیر کو اپنے باپ کی پارٹی، کارکن اور ووٹ بینک ورثے میں ملے اور ان کے دوبار وزیراعظم بننے کا ذریعہ بنے۔ اس پسِ منظر میں اگر آپ حکومتی وزراء اور سیاسی عہدیداران کے تبصرے پڑھیں تو وہ سیاسی بلوغت سے تہی لگتے ہیں، جن صاحبانِ مناصب کو یہ اصرار ہے کہ میاں نواز شریف واپس نہیں آئیں گے، انہیں فرصت کے چند لمحات نکال کر سوچنا چاہئے کہ میاں صاحب کی سیاسی زندگی 37برسوں پر محیط ہے، انہوں نے سیاست کے میدان میں محنت اور سرمایہ کاری کی ہے، گمنامی سے نکل کر ناموری کے لبِ بام پہ آئے ہیں، ان کی پارٹی، ووٹ بینک اور وفادار کارکن ان کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں، مریم اسی وراثت کی امین ہے اس لئے شفایاب ہو کر وہ ہر صورت واپس آئیں گے اور محض جیل کے ڈر سے زندگی بھر کا سرمایہ ضائع نہیں کریں گے۔ سیاستدان کے لئے جیل عارضی شے ہوتی ہے جس کی دیواریں گرتے دیر نہیں لگتی۔ پسند ناپسند سے بالاتر یہ میری ذاتی رائے ہے جس سے آپ کو اختلاف بھی ہو سکتا ہے۔

سیاست کے دو رُخ

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود بڑے بڑے دانشوروں کی تحریروں سے گزرتے اور بڑے بڑے میڈیا ...

%d bloggers like this: