قائد کے بعد کا پاکستان

قائد کے بعد کا پاکستان

تحریر: مظہر عباس

قائداعظم محمد علی جناح کے 71ویں یوم وفات پر تقریباً سب نے ہی یہ عہد کیا کہ وہ ان کے بتائے ہوئے مشن پر چلیں گے مگر چل کر کسی نے نہیں دیا۔ اب تو خیر اتنی بھی فرصت نہیں کہ کم از کم 25؍دسمبر، 11؍ستمبر اور 14؍اگست پر صدر و وزیراعظم آکر فاتحہ ہی کر لیا کریں۔ لگتا ہے قائد کو بھی 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی مسئلہ بنا دیا ہے۔

یہ حال سارے حکمرانوں کا ہے کیونکہ زیر زبر کے بغیر صرف نام تبدیل ہوتے ہیں، بیانات ایک ہی جیسے دیئے جاتے ہیں۔ آئیں ذرا دیکھیں یہ پاکستان قائد کے تصور پاکستان سے کتنا مختلف ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح نہ صرف یہ کہ ایک روشن خیال سیاستدان تھے جو جمہوری اقدار، آئین اور قانون کی بلا دستی پر یقین رکھتے تھے بلکہ وہ آزادی اظہار اور پریس کی آزادی کے زبر دست حامی تھے۔

ان تین اداروں پر قائد کی وفات کے بعد سب سے پہلا حملہ ہوا، بدقسمتی سے جس تیزی کے ساتھ ان کے سیاسی افکار کے خلاف عمل شروع ہوا اس سےیہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ خود پاکستان مسلم لیگ کا شیرازہ اتنی جلدی کیوں بکھر گیا۔

ابھی تو انتقال کو ایک سال نہیں گزرا تھا کہ ان کی 11؍اگست 1947کو آئین ساز اسمبلی کی تقریر کو متنازع بنا دیا گیا۔ اس تقریر کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ بانی پاکستان کا پالیسی بیان تھا جو آئین کا حصہ ہونا چاہئے تھا۔

سازشیں آہستہ آہستہ بے نقاب ہونا شروع ہو گئیں اور ابتدأ سے یہ نظر آنے لگا کہ لیگ کی مغربی پاکستان کی قیادت اکثریتی مشرقی پاکستان کو اقتدار دینے کو تیار نہیں۔

اس میں انڈین سول سروس سے آئے ہوئے لوگ بھی شریک تھے اور یہاں کے سیاستدان بھی۔ لہٰذا پہلے دس برس میں سیاسی طور پر بائیں بازو کی جماعتوں اور سیاست پر حملہ ہو گیا۔ جس کی ابتدا کمیونسٹ پارٹی پر پابندی سے ہوئی۔

دوسرا اظہار رائے کی آزادی پر اور تیسرا جسٹس منیر کی شکل میں جمہوریت آئین اور قانون پر ہوا۔ ایسی ہی ایک سازش کے نتیجے میں قائد کے دست راست اور پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کو لیاقت باغ (نام بعد میں رکھا گیا) راولپنڈی میں جلسے کے دوران شہید کردیا گیا۔

یہ سازش آج تک بے نقاب نہیں ہو سکی کیونکہ بات اندر تک پہنچ گئی تھی لہٰذا کیس دبا دیا گیا۔ بعد میں جس طرح خواجہ ناظم الدین کی حکومت کا خاتمہ ہوا اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ سیاست دانوں کے ساتھ، نوکر شاہی اور عدلیہ بھی شریک جرم رہیں اور پھر وہی ہوا جس کا شاید تصور بھی قائد کے پاکستان میں نہیں تھا، یعنی مارشل لاء۔ کیا کسی کے وہم و گمان میں بھی تھا کہ بانیانِ پاکستان یا مسلم لیگ کی قیادت اس طرح بکھر جائے گی۔

ایوب خان کے مارشل لاء سے پہلے ہی دو اہم کام ہوئے۔ پہلا ون یونٹ کا قیام جس کا مقصد وہی تھا اکثریت کو شراکت اقتدار سے دور رکھنا اور دوسرا بائیں بازو کی سیاست کو امریکہ کے ساتھ وفاداری کو ثابت کرنے کے لئے کچلنا۔ راولپنڈی سازش کیس ہو یا کیمونسٹ پارٹی پر پابندی، (رہنمائوں کی گرفتاری سب اسی سلسلے کی کڑی تھیں) یا 1935میں طلبہ پر گولی چلانا یا حسن ناصر کی شاہی قلعہ میں ہلاکت جیسے واقعات نے بڑے سوالات کھڑے کیے۔ لہٰذا قائداعظم کے تصور سیاست کا خاتمہ تو پہلے دس سال میں ہی کر دیا گیا۔

اب چاہے الزام سیاست دانوں پر ڈالیں یا بیورو کریسی پر یا عدلیہ کے کردار پر۔ مولوی تمیز الدین کے مقدمے میں نظریہ ضرورت کا سہارا لے کر جناح کے قانون کی حکمرانی کے خواب کو بھی چکنا چور کر دیا گیا۔

ہمارے کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ ہر دوسرا سیاستدان آمریت کی پیداوار ہے۔ کسی حد تک یہ بات درست ہے۔ اگر حکمرانی آمریت کی شروع سے ہو گی تو پیداوار جمہوریت کی کیسے ہو سکتی ہے۔

کبھی بنیادی جمہوریت کے نام پر تو کبھی غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کے نام یہ ہی تماشا لگا رہا اور عدلیہ ہر آنے والے آمر کو نظریہ ضروررت کی سند دیتی رہی۔ جناح خود ایک نامور قانون دان تھے اور وہ آئین اور قانون کی بالا دستی پر یقین رکھتے تھے مگر نہ عدلیہ نے اپنا کردار ادا کیا اور نہ ہی اس وقت کے سیاست دانوں نے۔

مولوی تمیز الدین کے کیس سے لےکر نصرت بھٹو اور ظفر علی شاہ کے مقدمات تک یہ نظریہ ضرورت، آمروں کے نجات کا راستہ بنا جس کے نتیجے میں آمرانہ طرز حکمرانی قائم رہا۔

قائداعظم ایک انتہائی صاف گو، شفاف سیاستدان تھے مگر ہم نے سیاست کو ہی گالی بنا دیا۔ اب تو کرپشن آپ کو سیاست کی میراث تک لے جاتی۔ معاشرہ میں جو جتنا کرپٹ ہوگا اس کی اتنی ہی عزت ہوگی۔

شاید یہی وجہ ہے کہ اب اجتماعی سیاست دم توڑ رہی ہے۔ آج کوئی حسن ناصر، نظیر عباسی نہیں ہے کوئی فیض احمد فیض۔ حبیب جالب یا احمد فراز پیدا نہیں ہو رہا۔

رہی بات نظریاتی بحث کی تو آپ جس نظریہ کے حامی ہیں اور سمجھتے ہیں کہ قائداعظم ایسا پاکستان چاہتے تھے تو آپ کا یہ جمہوری حق ہے کہ آپ اس رائے کیلئے جدوجہد جاری رکھیں مگر کچھ چیزوں پر تو اتفاق رائے ہو ہی سکتا ہے مثلاً جمہوریت، قانون کی بالا دستی اور اظہار رائے کی آزادی۔ اب پچھلے 72برسوں میں کس کا کیا کردار رہا اور وہ کس حد تک ان اقدار کے ساتھ رہا۔

سفر لمبا ہے کم سے کم ابتدا اس سے کر لیجیے کہ قائد کے شہر کو کوئی کم سے کم کچراچی نہ کہے کراچی کہے۔ کم سے کم 25؍دسمبر ، 14؍اگست اور 11ستمبر کو ہمارے صدر و وزیراعظم تو مزار پر حاضری یقینی بنا ہی سکتے ہیں۔

باقی تو اب صرف نوٹ والا قائد باقی ہے اور وہ اگر گندا ہو جائے تو دکان دار بھی نہیں لیتا اور خریدار بھی نہیں۔ رہی بات سازشی تھیوری اور افواہوں کی تو بد قسمتی سے یہ اکثر درست ثابت ہوتی ہیں۔

x

Check Also

بڑے بڑے دانشوروں کی تحریروں سے گزرتے اور بڑے بڑے میڈیا ماہرین کی گفتگو سنتے ہوئے کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے اور اختلاف کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اخبار یا ٹیلی وژن چینل سے وابستہ حضرات کی اکثریت سے مطالعے، تحقیق اور غور و فکر کی توقع رکھنا دل شکنی کا باعث ہو سکتا ہے کیونکہ ان لوگوں کو فرصت کم کم نصیب ہوتی ہے۔ ویسے بھی معاشرے میں ان کو اتنی پذیرائی اور شہرت مل جاتی ہے کہ وہ کتاب سے خاصی حد تک بے نیاز ہو جاتے ہیں اور عام طور پر شہرت کے تکبر کا شکار ہو جاتے ہیں، البتہ کچھ حضرات کتاب سے تعلق نبھاتے ہیں اور غور و فکر کے لئے بھی وقت نکالتے ہیں۔ عام طور پر لیڈروں کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس طرح لیڈران کی زندگی کو ذاتی اور عوامی شعبوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے اور بہت سی شرعی قباحتوں کو ذاتی زندگی کے خانے میں ڈال کر جائز اور ناجائز کی بحث سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ بادشاہتوں اور خاندانی آمریتوں میں ایسا ہی ہوتا ہے کیونکہ ان معاشروں میں حکمرانوں کی جانب انگلی اٹھانے کی جسارت گردن زدنی کا باعث بھی بن سکتی ہے لیکن جمہوری یا نیم جمہوری نظام میں حکمرانوں کی ذاتی زندگی پر تصور موجود ہی نہیں ہوتا۔ حکمران ہر فعل کیلئے عوام کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے حتیٰ کہ اگر اقتدار کا تاج پہننے سے قبل بھی اس نے کوئی غلط کام کیا ہے تو اقتدار میں آنے کے بعد اس کا بھی احتساب کیا جاتا ہے۔ حکمران یا لیڈر قوم کا رول ماڈل ہوتا ہے اور اس کی ہر حرکت، ہر پالیسی اور ہر اقدام قوم کو کسی نہ کسی طرح متاثر کرتا ہے۔ ہم نے گزشتہ 72برسوں میں یہاں اسی طرح کا کلچر پروان چڑھتے دیکھا ہے جس قسم کی حکمران کی شخصیت تھی، ہم نے قومی عادات، سماجی رویے حتیٰ کہ لباس کو بھی حکمرانوں کی شخصیت سے متاثر ہوتے دیکھا ہے۔ تفصیل میں جائے بغیر آپ خود غور کریں کہ ایوب خان، بھٹو، ضیاء الحق، بینظیر اور نواز شریف کے ادوار اور پھر جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں ہمارا معاشرہ کس طرح حاکموں کی شخصیتوں سے متاثر ہوتا رہا اور ان کی ذاتی زندگیوں کی پرچھائیں ہر طرف نظر آتی رہیں، اگر ضیاء الحق کے دور میں مساجد میں حاضری بڑھی اور شلوار قمیص واسکٹ کا رواج پروان چڑھا تو جنرل مشرف کے دور میں انگریزی لباس، نائو نوش اور رقص و سرور کی خوب حوصلہ افزائی ہوئی۔ کرپٹ حکمرانوں کے دور میں اوپر سے لے کر نیچے تک کرپشن نے رواج پایا اور ایماندار حاکموں کے دور میں کرپشن محتاط رہی۔ سیاست اور جمہوریت کا پہلا اصول ہی Transparency یعنی شفافیت ہے جس کا مطلب ہوتا ہے اندر باہر کا واضح ہونا، ذاتی اور سیاسی زندگی کا بے نقاب ہونا۔ اسی سے آزادیٔ اظہار کے چشمے پھوٹتے ہیں اور اسی سے احتساب یا جوابدہی کا سورج طلوع ہوتا ہے۔ کسی لیڈر کے حوالے سے کسی بات کو ذاتی کہہ کر اسے ڈھال یا پردہ فراہم کرنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ میرے مشاہدے کے مطابق سیاستدان اور لیڈر کے لئے سب سے اہم اور قیمتی شے اس کا ووٹ بینک، سیاسی حمایت اور پھر اسی حوالے سے اس کی پارٹی اور کارکن ہوتے ہیں۔ لیڈر ان شعبوں کو بچانے، محفوظ رکھنے اور مضبوط بنانے کے لئے ہمہ وقت سوچتا اور کام کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ان کے لئے بڑی سے بڑی قربانی بھی دے سکتا ہے۔ سینکڑوں مثالیں واضح کرتی ہیں کہ کس طرح لیڈر اور حکمران نے محض اپنے ان سیاسی اثاثوں کو بچانے کے لئے اقتدار چھوڑ دیا حتیٰ کہ جان بھی دے دی۔ بھٹو صاحب جب جیل میں پڑے موت کا انتظار کر رہے تھے تو بیشک وہ تاریخ میں سرخرو ہونے کا خواب دیکھ رہے تھے، تاریخ میں سرخرو ہونے کیلئے ہی مستحکم ووٹ بینک اور پارٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیاقت علی خان قائداعظم کے ساتھی، تحریک پاکستان کے بڑے کارکن اور مقبول سیاسی لیڈر تھے۔ ملک و قوم کے لئے ان کا ایثار ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہیں دن دہاڑے شہید کر دیا گیا۔ ان کے مقابلے میں بھٹو صاحب نہ تحریک پاکستان کے لیڈر تھے اور نہ ہی قائداعظم کے ساتھی بلکہ آمریت کی پیداوار تھے، پھر کیا وجہ ہے کہ موت کے بعد بھٹو صاحب لیاقت علی خان کے مقابلے میں زیادہ مقبول و موثر لیڈر بن کر ابھرے۔ بہت سی وجوہ ہوں گی لیکن میرے نزدیک اس صورتحال کی بڑی وجہ بھٹو صاحب کی سیاسی پارٹی، ووٹ بینک اور سیاسی کارکن تھے جبکہ لیاقت علی خان کو ان کی شہادت کے بعد ان کی پارٹی نے کوئی اہمیت نہ دی۔ لیاقت علی خان کے صاحبزادگان چھوٹے تھے، اگر وہ جوان ہوکر سیاست میں قدم رکھتے اور اپنے باپ کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانا چاہتے تو انہیں مایوسی ہوتی۔ اس کے برعکس طویل جلا وطنی اور پابندیوں کے باوجود بینظیر کو اپنے باپ کی پارٹی، کارکن اور ووٹ بینک ورثے میں ملے اور ان کے دوبار وزیراعظم بننے کا ذریعہ بنے۔ اس پسِ منظر میں اگر آپ حکومتی وزراء اور سیاسی عہدیداران کے تبصرے پڑھیں تو وہ سیاسی بلوغت سے تہی لگتے ہیں، جن صاحبانِ مناصب کو یہ اصرار ہے کہ میاں نواز شریف واپس نہیں آئیں گے، انہیں فرصت کے چند لمحات نکال کر سوچنا چاہئے کہ میاں صاحب کی سیاسی زندگی 37برسوں پر محیط ہے، انہوں نے سیاست کے میدان میں محنت اور سرمایہ کاری کی ہے، گمنامی سے نکل کر ناموری کے لبِ بام پہ آئے ہیں، ان کی پارٹی، ووٹ بینک اور وفادار کارکن ان کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں، مریم اسی وراثت کی امین ہے اس لئے شفایاب ہو کر وہ ہر صورت واپس آئیں گے اور محض جیل کے ڈر سے زندگی بھر کا سرمایہ ضائع نہیں کریں گے۔ سیاستدان کے لئے جیل عارضی شے ہوتی ہے جس کی دیواریں گرتے دیر نہیں لگتی۔ پسند ناپسند سے بالاتر یہ میری ذاتی رائے ہے جس سے آپ کو اختلاف بھی ہو سکتا ہے۔

سیاست کے دو رُخ

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود بڑے بڑے دانشوروں کی تحریروں سے گزرتے اور بڑے بڑے میڈیا ...

%d bloggers like this: