گڑیا کے بال کب اور کیسے ایجاد ہوئے؟

گڑیا کے بال کب اور کیسے ایجاد ہوئے؟

گڑیا کے بال‘ سے جانی جاتی ’کاٹن کینڈی‘ کی ابتداء اتفاقی طور پر دانتوں کے ڈاکٹر کے ہاتھوں ہوئی۔

1890 میں یونیورسٹی آف ٹینیسی ڈینٹل کالج سےگریجویشن کی تعلیم مکمل کرنے والے ولیم موریسن نے1897میں جان سی وارٹن کے ساتھ مِل کر ایک ایسی مشین ایجاد کی جو ’کاٹن کینڈی‘ یعنی گڑیا کے بال بناتی ہے۔

گڑیا کے بال کب اور کیسے ایجاد ہوئے؟

تاریخ کے مطابق ولیم موریسن ’سینٹری فیوج‘ مشین بنانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن ہر کوشش پر ناکامی کے بعد ولیم جے موریسن کو غصہ آگیا اور اُنہوں نے مشین پر زور دار ہاتھ مارا جس پر پاس رکھی چینی مشین میں گِرگئی اور پھر چینی مشین میں گول گول گھومنے لگی اور اِس طرح پہلی بار ’گڑیا کے بال‘ ایجاد ہوئے، یوں دانتوں کا ڈاکٹر ’گڑیا کے بالوں‘ کا موجد بن گیا۔

گڑیا کے بال کب اور کیسے ایجاد ہوئے؟

خیال رہے کہ ’سینٹری فیوج مشین‘ ایک ایسی مشین ہوتی ہے جو موٹر سے چلتی ہے اور اُس میں کسی بھی چیز کو ڈال کر اُس کو تیزی سے گول گول گُھمایا جاتا ہے اور اِس کی سائز کے لحاظ سے کئی اقسام ہوتی ہیں۔

ولیم موریسن اور وارٹن نے اپنی اِس مشین کو ’فیری فلوس‘ کا نام دیا اور 1904 میں عالمی میلے میں اس کا تعارف کروایا جس کو لوگوں نے بےحد پسند کیا اور اُس میلے میں کاٹن کینڈی کے 68,655 باکس فروخت کیے تھے اور ایک باکس کی قیمت صرف 25 سینٹ تھی۔

گڑیا کے بال کب اور کیسے ایجاد ہوئے؟

1920 کی دہائی میں ’فیری فلوس‘ کا نام ’کاٹن کینڈی‘ رکھ دیا گیا لیکن آسٹریلیا میں آج بھی ’کاٹن کینڈی‘ کو ’فیری فلوس‘ سے جانا جاتا ہےجبکہ پاکستان میں اِس کو ’گُڑیا کے بال‘ کہا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ تھامس پیٹن نامی شخص نے گیس سے چلنے والی پہلی کاٹن کینڈی مشین تیار کی تھی جس کو 1901 میں اُس مشین کا لائسنس ملا تھا۔

x

Check Also

دُلہا کی بیت الخلا میں سیلفی پر دُلہن کو انعام ملے گا

دُلہا کی بیت الخلا میں سیلفی پر دُلہن کو انعام ملے گا

بھارتی ریاست مدھیا پردیش کی حکومت نے ایک انوکھی اسکیم جاری کی ہے جس میں ...

%d bloggers like this: