فوجی لحاظ سے طاقتور ترین 25ممالک میں امریکا‘ روس اور چین سرفہرست

طاقتور ترین 25ممالک میں امریکا‘ روس اور چین سرفہرست

دنیا میں پچیس طاقتور ترین افواج کے چونکا دینے والے اعدادو شمار بزنس انسائیڈر نے جاری کئے ہیں۔ اسکی رینکنگ کیلئے گلوبل فائر پاور کے 55سے زائد عوامل کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔

137ملکوں کا پاور انڈیکس بزنس انسائیڈر نے جاری کیا ہے۔ اس رینکنگ میں ہر ملک کے ہتھیاروں کی نوعیت کا تخمینہ دیا گیا ہے۔

بزنس انسائیڈر نے 25بڑی فوجی طاقتوں کی رینکنگ وہاں کی فوج کی مین پاور‘ جیوگرافی‘ لاجسٹک استعداد اور اس ملک میں دستیاب قدرتی وسائل‘ حتیٰ کہ اس ملک کی انڈسٹری کے اسٹیٹس کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

اس ریٹنگ میں 25ملٹری طاقتوں میں سے جن کے پاس ایٹمی طاقت ہے‘ اس کو بونس دیا گیا ہے لیکن رینکنگ میں ان ایٹمی قوتوں کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے کی تعداد کو ایک فیکٹر کے طور پر نہیں لیا گیا۔

خشکی میں گھرے ملکوں کے پاس نیوی نہ ہونے کو کمزوری نہیں کہا گیا البتہ وہ ممالک جن کے پاس بحری افواج ہیں اور انکے پاس ساحل سمندر ہے اگر انکے جنگی بحری بیڑے میں گوناگوں نوعیت کے جنگی ہتھیار مثال کے طور پر ہیلی کاپٹر کیریئر اور روایتی فلیٹ کیریئرز گلوبل فائر پاور رینکنگ کے مطابق نہیں ہیں تو ان کو منفی نمبر دیئے گئے ہیں۔

نیٹو کے ملکوں کو تھوڑا سا بونس دیا گیا ہے کیونکہ نیٹو الائنس چاہے لفظی طور پر ہی ہو اپنے جنگی وسائل کو شیئر کرتے ہیں لیکن عمومی طور پر کسی ملک کی موجودہ سیاسی اور فوجی قیادت کو معاشی بہتری اور استحکام کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔

ٹاپ پاور انڈیکس کا اسکور زیرو پوائنٹ 0000رکھا گیا ہے جوکہ حقیقی طور پر گلوبل فائر پاور کے مطابق ناقابل حصول ہے۔ اس پاور انڈیکس کے قریب جتنے اعدادو شمار ہونگے اتنے ہی اس ملک کی ملٹری کو پاورفل سمجھا گیا ہے۔

اس معیار کے مطابق دنیا کی 25ملکوں کی سب سے طاقتور افواج ہیں۔ پچیسویں نمبر پر سعودی سکیورٹی فورسز آتی ہیں۔ 4اگست 2019ء کو مقدس شہر مکہ مکرمہ میں سالانہ حج کے انتظامات کے حوالے سے جو ملٹری پریڈ ہوئی اس کو سامنے رکھ کر اس کا پاور انڈیکس ریٹنگ 0.4268اس ملک کی آبادی تین کروڑ تیس لاکھ 91ہزار 113اور اسکی فوج کے ارکان کی تعداد کم و بیش 2لاکھ تیس ہزار‘ اسکے پاس 848جنگی طیارے ہیں۔ 137ملکوں میں 848طیارے رکھنے والوں میں یہ بارہواں ملک ہے۔ 848میں سے 244لڑاکا طیارے ہیں۔ سعودی عرب کے پاس 1062کامباٹ COMBATٹینک ہیں۔

ٹینکوں کی تعداد کے لحاظ سے سعودی عرب 137ملکوں میں سے 24ویں نمبر پر ہے۔ اسکے پاس کل 55بحری جنگی جہاز ہیں۔ سعودی عرب کا ڈیفنس بجٹ 70ارب ڈالر ہے۔24ویں نمبر پر پولینڈ ہے، 23ویں نمبر پر ویت نام ، 22ویں نمبر پر تائیوان ، 21ویں نمبر پر کینیڈا ، اسپین 20ویں نمبر پر ، 19ویں نمبر پر آسٹریلیا ، 18ویں نمبر پر شمالی کوریا ، اسرائیل 17ویں نمبر پر ، انڈونیشیا کا نمبر 16، پاکستان 15ویں نمبر پر ہے۔ اس کا پاور انڈیکس ریٹنگ زیرو پوائنٹ 2798ہے۔ کل آبادی 20کروڑ 78لاکھ 62ہزار 518ہے۔ بزنس انسائیڈر کے مطابق پاکستانی فوج کی تعداد تقریباً 12لاکھ چار ہزار ہے۔ اسکے طیاروں کی تعداد 1342ہے۔

137ملکوں میں طیاروں کے حساب سے پاکستان 7ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان کے پاس 348فائٹر ائرکرافٹ ہیں۔ 137ملکوں میں فائٹر ائرکرافٹ رکھنے والا یہ 7واں بڑا ملک ہے۔

پاکستان کے پاس 2200کمباٹ ٹینک ہیں۔ 137ملکوں میں اس اعتبار سے پاکستان کا 13واں نمبر ہے۔ پاکستان کے پاس بحری جنگی اثاثوں کی تعداد 197ہے جس میں بحری جنگی جہاز‘ آبدوزیں‘ میزائل بردار کشتیاں‘ جدید ترین جاسوس لڑاکا طیارے شامل ہیں۔

پاکستان کا ڈیفنس بجٹ 7ارب ڈالر ہے۔ پاکستان کے بعد ایران کا نمبر 14ہے۔ 13ویں نمبر پر برازیل ، مصر کا نمبر 12واں ، گیارویں نمبر پر اٹلی ، دسویں نمبر پر جرمنی ، ترکی کا نمبر 9، برطانیہ 8ویں نمبر پر ، جنوبی کوریا کا نمبر 7واں ، جاپان دنیا کا 6ویں فوجی طاقتور ترین ملک ، فرانس کا 5واں نمبر ، بھارت 4نمبر پر آ گیا ہے۔

پاور انڈیکس ریٹنگ زیرو پوائنٹ 1065ہے۔ اسکی آبادی 1ارب 29کروڑ 68لاکھ 34ہزار 42ہے۔ اسکے پاس 34لاکھ 62ہزار 500افراد کی فوج ہے۔ بھارت کے پاس 2082طیارے ہیں۔

اس اعتبار سے دنیا کی 137ملکوں میں بھارت چوتھے نمبر پر آ گیا ہے۔ بھارت کے فائٹر ائرکرافٹ 520ہیں۔ اس طرح 137ملکوں کی فہرست میں یہ چوتھے نمبر پر ہے۔ کمباٹ ٹینک 4ہزار 184ہیں۔ ٹینکوں کے اعتبار سے بھارت 137ملکوں میں چھٹے نمبر پر ہے۔ اسکے نیول اثاثہ جات 295ہیں۔

ایک ائرکرافٹ کیریئر بھی ہے۔ بھارت کا ڈیفنس بجٹ 55ارب 20کروڑ ڈالر ہے۔ دنیا کے فوجی لحاظ سے طاقتور ترین ملکوں میں چین کا تیسرا نمبر ہے۔ اس کا پاور انڈیکس ریٹنگ زیرو پوائنٹ 0673ہے۔ اسکی آبادی ایک ارب 38کروڑ 46لاکھ 88ہزار 986ہے۔ اسکی فوج 26لاکھ 93ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ چین کے پاس 3187طیارے ہیں۔ طیاروں کے لحاظ سے 137ملکوں میں اس کا تیسرا نمبر ہے۔ چین کے فائٹر ائرکرافٹ 1222ہیں۔ اس لحاظ سے چین دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ چین کے پاس 13ہزار پچاس کمباٹ ٹینک ہیں۔

137ملکوں میں سب سے زیادہ ٹینک رکھنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ اسکے نیول اثاثہ جات (بحری جنگی جہاز‘ آبدوزیں‘ جاسوس طیارے‘ میزائل بردار چھوٹے جہاز) 714ہیں۔ بزنس انسائیڈ کی ویب سائٹ کے مطابق چین کا ڈیفنس بجٹ 224ارب ڈالر ہے۔ دنیا کے فوجی لحاظ سے سب سے بڑے پچیس ملکوں میں روس کا نمبر دوسرا ہے۔ اس کا پاور انڈیکس ریٹنگ زیرو پوائنٹ 0639ہے۔ اسکی آبادی 14کروڑ 21لاکھ 22ہزار 776ہے۔

اسکی فوج میں 35لاکھ 86ہزار 128افراد ہیں۔ روس کے پاس 4ہزار 78طیارے ہیں۔ طیاروں کے لحاظ سے 137ملکوں میں روس کا نمبر دوسرا ہے۔ فائٹر ائرکرافٹ روس کے پاس 869ہیں۔ 137ملکوں میں فائٹر ائرکرافٹ سب سے زیادہ رکھنے والا یہ تیسرا بڑا ملک ہے۔ روس کے پاس کمباٹ ٹینکوں کی تعداد 21ہزار 932ہے۔ اس طرح روس دنیا میں سب سے زیادہ کمباٹ ٹینک رکھنے والا ملک ہے۔

روس کے نیول اثاثہ جات 352ہیں۔ اسکے پاس ایک طیارہ بردار جہاز ہے جو ایک عرصہ سے آئوٹ آف سروس ہے۔ روس کا دفاعی بجٹ 44ارب ڈالر ہے۔ فوجی طاقتور ترین پچیس ملکوں میں سرفہرست امریکہ ہے جو نیٹو کا ممبر ہے۔ اس کا پاور انڈیکس ریٹنگ زیرو پوائنٹ زیرو 615ہے۔

امریکہ کی آبادی 32کروڑ 92لاکھ 56ہزار 465ہے۔ امریکی افواج میں 21لاکھ 41ہزار 900افراد ہیں۔ امریکہ کے پاس 13ہزار 398طیارے ہیں۔ 137ملکوں میں اتنی بڑی تعداد میں طیارے رکھنے والا یہ سب سے بڑا ملک ہے۔ امریکہ کے لڑاکا طیاروں کی تعداد 2362ہے۔ اس طرح 137ملکوں میں سب سے زیادہ فائٹر ائرکرافٹ رکھنے والا امریکہ سب سے بڑا ملک ہے۔

کمباٹ ٹینک امریکہ کے 6287ہیں۔ 137ملکوں میں ٹینکوں کے لحاظ سے امریکہ تیسرے نمبر پر ہے۔ امریکہ کے پاس 415نیول اثاثہ جات ہیں۔ 24طیارہ بردار جہاز ہیں۔ امریکہ کا دفاعی بجٹ 716ارب ڈالر ہے۔ بزنس انسائیڈر ایک امریکن فنانشل اینڈ بزنس نیوز ویب سائٹ ہے جو انسائیڈر ان کارپوریٹڈ شائع کرتی ہے اور اسکے انٹرنیشنل ایڈیشن یوکے‘ آسٹریلیا‘ چائنا‘ جرمنی‘ فرانس‘ جنوبی افریقہ‘ بھارت‘ اٹلی‘ انڈونیشیا‘ جاپان‘ ملائیشیاء‘ نیدرلینڈ‘ شمالی یورپ‘ پولینڈ‘ اسپین‘ سنگا پورمیں شائع ہوتے ہیں۔ اسکے انٹرنیشنل ایڈیشن چینی‘ ڈچ‘ فرانسیسی‘ اطالوی‘ جرمن‘ پولش اور جاپانی زبانوں میں بھی شائع کئے جا رہے ہیں۔

x

Check Also

'بھارتی حکومت سکھوں کو کرتارپور آنے سے روک رہی ہے'

‘بھارتی حکومت سکھوں کو کرتارپور آنے سے روک رہی ہے’

ورلڈ سکھ پارلیمنٹ کے صدر جوگت سنگھ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت سکھوں کو کرتارپور ...

%d bloggers like this: