عمران خان سے نیویارک میں ملاقات کرنے والے ارب پتی یہودی جارج سوروس کون ہیں؟

عمران خان سے ملاقات کرنے والے ارب پتی یہودی کون ہے؟

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے نیویارک میں قیام کے دوران انھوں نے کئی اہم بین الاقوامی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ ان میں سے ایک نام ایسے ارب پتی یہودی کا ہے جو دنیا بھر میں فلاحی کاموں کے لیے 32 ارب ڈالر عطیہ کرنے کے باوجود اپنے ملک سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں ایک ناپسندیدہ شخص تصور کیے جاتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جارج سوروس نے عمران خان سے پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں تعاون فراہم کرنے کے علاوہ افغانستان میں اپنے تعلیمی منصوبوں پر بات کی۔

سرکاری ریڈیو پاکستان کے مطابق اوپن سوسائٹی فاونڈیشنز کے وفد نے ٹیکس اصلاحات میں بھی پاکستان کی مدد کرنے کی پیشکش کی ہے۔ اس ملاقات کے بعد یہ بات بھی سامنے آئی کہ اوپن فاؤنڈیشنز کا ایک وفد بہت جلد پاکستان کا دورہ کرے گا۔

جارج سوروس کون ہیں؟

جارج سوروس دوسری جنگ عظیم سے قبل مشرقی یورپ کے ملک ہنگری میں پیدا ہوئے۔ وہ ان یہودیوں میں سے ہیں جو ہولوکاسٹ اور کیمونسٹ حکومت سے جان بچا کر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔

وہ 40 سال سے دنیا کے 120 ملکوں میں فلاحی کام کرنے والی تنظیم اوپن سوسائٹی فاونڈیشنز کے سربراہ ہیں۔

امریکہ سے آسٹریلیا تک اور ہنگری سے ہونڈورس تک جارج سوروس ایک متنازع شخصیت ہیں اور ان پر الزام ہے کہ وہ کسی بڑی عالمی سازش کا حصہ ہیں۔

امریکہ اور مغرب میں دائیں بازو کی قوتیں جارج سوروس کی مخالفت میں پیش پیش رہتے ہیں۔

عمران خان سے نیویارک میں ملاقات کرنے والے ارب پتی یہودی جارج سوروس کون ہیں؟

ٹرمپ کے حامیوں کا جارج سوروس سے کیا رشتہ ہے؟

گذشتہ اکتوبر پیر کو سہ پہر کے وقت نیویارک کے سر سبز علاقے میں جارج سوروس کے وسیع و عریض محل نما گھر کے لیٹر باکس میں ایک پارسل موصول ہوتا ہے۔

یہ پارسل کچھ مشکوک دکھائی دیتا ہے۔ اس پر پارسل ارسال کرنے والے کا پتہ غلط ہجے کے ساتھ تحریر کیا گیا تھا۔ پولیس کو اطلاع دی گئی اور جلد ہی وہاں وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اہلکار بھی پہنچ گئے۔

اس پارسل کے اندر جارج سوروس کی ایک تصویر تھی جس پر سرخ روشنائی سے کانٹا لگا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ چھ انچ پائپ کا ٹکڑا تھا، جس میں کالے رنگ کا سفوف، چند تاریں اور ایک گھڑی بھی تھی۔

اس طرح کے ایک درجن سے زیادہ پارسل سابق صدر براک اوباما اور سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سمیت ڈیموکریٹک پارٹی کے کئی اور سرکردہ رہنماؤں کو بھی موصول ہوئے۔

ان پارسلوں میں سے کوئی بھی نہیں پھٹا۔ ایف بی آئی کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ فلوریڈا میں کھڑی ایک ویگن سے بھیجے گئے تھے جس پر ٹرمپ کے حق میں اور ڈیموکریٹک پارٹی کے خلاف نعرے لکھے ہوئے تھے۔

فوری طور پر دائیں بازو کے ذرائع ابلاغ کے اداروں نے اسے ایک ‘فالس فلیگ’ کارروائی کہا۔ ان کا موقف تھا کہ اسے ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کی صدارتی انتخابات کی مہم کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

عمران خان سے نیویارک میں ملاقات کرنے والے ارب پتی یہودی جارج سوروس کون ہیں؟

امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے ایک اینکر لو ڈابز نے ٹوئٹ کیا ’جھوٹی خبر، جھوٹے بم۔ اس سارے جھوٹ سے کس کو فائدہ ہو سکتا ہے۔‘

قدامت پسند خیالات کے حامی ریڈیو پر ایک میزبان رش لمباگ نے کہا کہ ریپبلکن ایسی حرکتیں نہیں کرتے۔

جلد ہی انٹرنیٹ پر ان خبروں کی بھر مار ہو گئی جن میں یہ الزامات عائد کیے گئے کہ جعلی بموں کے اس ڈرامے کے پیچھے کوئی اور نہیں خود جارج سوروس ہیں۔

صدر ٹرمپ نے بھی اسے ایک کراہیت آمیز حرکت کہہ کر اس کی مذمت کی۔

اس کے بعد فلوریڈا سے ایک 56 سالہ شخص سیزر سیوک کو گرفتار کیا گیا۔

سازشی ذہنیت کے حامل لوگوں نے اس شخص کے بارے میں دعوی کیا کہ وہ اصل میں ریپبلکن نہیں تھا۔

لیکن اس کے ساتھ ماضی میں کام کرنے والی خاتون لیوگ مارا نے کہا کہ سیزر سیوک جس وین میں پیزا ڈلیوری کا کام کرتے تھے اس پر ٹرمپ کے حق میں پوسٹر اور سٹیکر لگے ہوئے تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ پیزا لینے والوں میں جس کسی کے گھر پر ڈیموکریٹک پارٹی کا جھنڈا لگا ہوتا تھا تو سیزر سیوک اس سے بحث کرتے اور اسے ریپبلکن پارٹی کے حق میں ووٹ ڈالنے پر مجبور کرتے

ان کا کہنا تھا کہ سیزر سیوک کے نزدیک ہر بات ہی سازش تھی، یعنی ہر چیز کے پیچھے جارج سوروس ہیں اور انھوں نے پوری ڈیموکریٹک پارٹی کو خرید رکھا ہے جبکہ امریکہ میں جو کچھ بھی غلط ہو رہا تھا اس کے ذمہ دار جارج سوروس ہی ہیں۔

سیوک کے سوشل میڈیا اکاونٹ سے علم ہوا ہے کہ جس دن جارج سوروس کے گھر سے پارسل بم برآمد ہوا اس دن سیوک نے اپنے سوشل میڈیا پر ایک میم لگائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ دنیا کو جارج سوروس کی تباہ کاریوں کا ادراک ہو رہا ہے۔

سیوک نے بعد میں 65 الزامات کا اعتراف کیا جس میں ارادۂ قتل بھی شامل تھا اور بعد میں انھیں 20 برس قید سزا سنائی گئی۔

’بینک آف انگلینڈ کو کنگال کرنے والا شخص‘

برطانیہ میں جارج سوروس کی شہرت ایک ایسے شخص کے طور پر ہے جس نے بینک آف انگلینڈ کو سنہ 1992 میں کنگال کر دیا تھا۔

کرنسی کے دوسرے سٹے بازوں کے ساتھ ملکر سوروس نے پونڈ لے کر انھیں مارکیٹ میں فروخت کر دیا جس سے پونڈ کی قدر میں شدید کمی واقع ہوئی اور برطانیہ کو پورپی ایکسچینج نظام سے نکلنا پڑا۔ اس سارے معاملے میں سوروس نے ایک ارب ڈالر کمائے۔

اس شخص نے کرنسی کی سٹے بازی میں ایک اندازے کے مطابق مجموعی طور پر 44 ارب ڈالر کمائے

عمران خان سے نیویارک میں ملاقات کرنے والے ارب پتی یہودی جارج سوروس کون ہیں؟

صدر ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اگست 2017 میں نیو نازیوں نے ورجینیا کے علاقے میں ایک مشعل بردار جلوس نکالا۔ اس جلوس کے دوران مخالفین کے ایک گروہ سے ان کا تصادم ہو گیا جس پر سفید فام شدت پسند نے ہجوم پر گاڑی چڑھا دی جس میں ایک 32 سالہ خاتون ہلاک ہو گئیں۔

دائیں بازو کے مبصروں نے یہ دعویٰ کرنا شروع کر دیا کہ یہ بھی جارج سوروس کی سازش تھی تاکہ صدر ٹرمپ کی حکومت کو بدنام کیا جاسکے۔

انھوں نے کہا کہ اس ساری سازش کا اہم کردار برینن گلمور تھے جنھوں نے ہجوم پر گاڑی چڑھانے کی ساری ویڈیو بنائی۔

دائیں بازو کے ایک ریڈیو نے دعوی کیا کہ سوروس نے گلمور کو تین لاکھ 20 ہزار ڈالر دیے۔

کیا صدر ٹرمپ جارج سوروس کے مخالف ہیں؟

یہ درست ہے کہ جارج سوروس نے پانچ لاکھ ڈالر ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار ٹوم پریلو کو دیے تھے جن کے لیے گلمور بھی کام کر رہے تھے۔

لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ سوروس یا ان کی اوپن سوسائٹی فاونڈیش نے گلمور کو کوئی رقم دی تھی۔ گلمور نے اب اس ریڈیو کے خلاف ہتک عزت کا دعوی دائر کر رکھا ہے۔

عمران خان سے نیویارک میں ملاقات کرنے والے ارب پتی یہودی جارج سوروس کون ہیں؟

گذشتہ موسمِ خزاں میں ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطن نے جنوبی امریکہ کے ملک ہونڈورس سے امریکہ کی طرف پیدل ہجرت شروع کر دی۔ یہ ہجرت امریکہ میں نصف مدتی انتخابات سے ایک ماہ پہلے شروع ہوئی۔

اس ہجرت کو بھی سوروس کی ایک سازش قرار دیا جانے لگا۔ فاکس نیوز نے یہ دعویٰ کیا کہ سوروس آزاد سرحدوں اور بلا روک ٹوٹ نقل مکانی کے حامی ہیں۔

ریپبلکن پارٹی کے ایک سابق رکن جیک کنگسٹن نے کہا کہ یہ ایک منظم ہجرت ہے اور اس کے پیچھے پیسہ کارفرما ہے اور سوروس ہی اس طرح کی سازش کے پیچھے ہوسکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں دیکھا گیا کہ ہنڈورس میں لوگوں کو پیسے بانٹے جا رہے ہیں جس میں یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ پیسہ جارج سوروس نے فراہم کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ سے جب وائٹ ہاؤس کے سامنے سوال کیا گیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ پسیہ واقعی جارج سوروس نے دیا تھا تو انھوں نے کہا کہ یہ میرے لیے کوئی حیران کن بات نہیں ہو گی، بہت سے لوگ یہی کہتے ہیں۔

بعد میں یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ یہ ویڈیو جعلی تھی اور یہ ہونڈورس کی نہیں تھی۔

سفید فام شدت پسندوں کے یہودیوں پر حملے

27 اکتوبر سنہ 2018 میں تارکینِ وطن کو پیسہ دینے کی سازشی کہانی سامنے آنے کے 11 دن بعد اور پائپ بم کے پیکیچ ارسال کیے جانے کے واقعے کے پانچ دن بعد ایک سفید فام بندوق بردار شخص نے پٹسبرگ میں یہودیوں کی ایک عبادت گاہ میں گھس کر 11 افراد کو ہلاک کر دیا۔

یہ امریکہ کی تاریخ میں یہودی کے خلاف تشدد کا بدترین واقعہ تھا اور یہ ایک ایسے شخص نے کیا تھا جو سوروس کی نفرت میں مبتلا تھا۔

سوشل میڈیا پر جاری پیغامات سے معلوم ہوا کہ یہودی عبادت گاہ پر حملہ کرنے والے رابرٹ بوئرز اس سازشی مفروضے پر یقین رکھتے تھے کہ سفید فاموں کو ختم کرنے کے لیے سازش کی جارہی ہے جس کے ماسٹر مائنڈ جارج سوروس ہیں۔

اس تھیوری کے مطابق سفید فام لوگوں کی اکثریت ختم کرنے کے لیے تارکینِ وطن کو لایا جا رہا ہے۔ اس لیے نیو نازی اس طرح یہ نعرے لگاتے ہیں کہ یہودی ہماری جگہ نہیں لے سکتے۔

نیٹ ورک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر جیول فنکل سٹین نے سوشل میڈیا پر ایک ایسا پیغام ڈھونڈ نکالا جس میں بوئرز جارج سوروس کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ یہودی سفید فاموں کے قتل عام کے لیے پیسہ فراہم کر رہے ہیں اور یہ ذرائع ابلاغ کو بھی کنٹرول کرتے ہیں۔

اس پوسٹ میں مزید یہ کہا گیا تھا کہ جارج سوروس امریکہ میں ہتھیاروں کی روک تھام اور آزاد سرحدوں کے لیے بھی زور لگا رہے ہیں۔

فنکل سٹین نے، جنھیں اوپن سوسائٹی فاونڈیشن کی طرف سے مالی معاونت فراہم کی گئی، اس تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بوئرز جیسے سفید فام شدت پسند تمام سازشوں کے پیچھے سوروس کا ہاتھ دیکھتے ہیں۔

ان کے بقول وہ اپنی تمام پُرتشدد کارروائیوں کو جائز قرار دینے کے لیے سوروس کو ایک بدی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

عمران خان سے نیویارک میں ملاقات کرنے والے ارب پتی یہودی جارج سوروس کون ہیں؟

جارج سوروس دیگر ممالک میں کیوں بدنام؟

جارج سوروس کی لعنت ملامت صرف امریکہ تک محدود نہیں بلکہ اس کا سلسلہ آرمینیا، آسٹریلیا، ہونڈورس، فلپائن اور روس تک پھیلا ہوا ہے۔

ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوغان نے سوروس کو ایک یہودی سازش کا مرکزی کردار قرار دیا جو ترکی اور کئی دوسرے ملکوں کو تقسیم اور غیر مستحکم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔

اٹلی کے نائب وزیر اعظم میتو سیلوینی نے سوروس پر الزام لگایا کہ وہ اٹلی کو تارکین وطن سے بھرنا چاہتے ہیں کیونکہ انھیں غلام بہت پسند ہیں۔

برطانیہ میں بریگزٹ پارٹی کے لیڈر نائجل فراج نے دعویٰ کیا کہ سوروس چاہتے ہیں کہ یورپ میں تارکینِ وطن کا سیلاب آ جائے جو پوری مغربی دنیا کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔

لیکن ایک ملک جہاں سوروس پیدا ہوئے وہاں ان کی مخالفت سب سے زیادہ ہے۔

جنوبی مشرقی ایشیا سے لے کر جنوبی امریکہ تک کئی ممالک جارج سوروس پر کرنسی کی سٹے بازی سے ان ملکوں کی معیشت تباہ کرنے کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔

جارج سوروس کی اوپن سوسائٹی فاونڈیشن ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ لاکھوں ڈالر جمہوریت، تعلیم اور انسانی حقوق کے اعلیٰ مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

نوٹ: یہ خبر بی بی سی اردو سے لی گئی ہے

x

Check Also

بڑے بڑے دانشوروں کی تحریروں سے گزرتے اور بڑے بڑے میڈیا ماہرین کی گفتگو سنتے ہوئے کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے اور اختلاف کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اخبار یا ٹیلی وژن چینل سے وابستہ حضرات کی اکثریت سے مطالعے، تحقیق اور غور و فکر کی توقع رکھنا دل شکنی کا باعث ہو سکتا ہے کیونکہ ان لوگوں کو فرصت کم کم نصیب ہوتی ہے۔ ویسے بھی معاشرے میں ان کو اتنی پذیرائی اور شہرت مل جاتی ہے کہ وہ کتاب سے خاصی حد تک بے نیاز ہو جاتے ہیں اور عام طور پر شہرت کے تکبر کا شکار ہو جاتے ہیں، البتہ کچھ حضرات کتاب سے تعلق نبھاتے ہیں اور غور و فکر کے لئے بھی وقت نکالتے ہیں۔ عام طور پر لیڈروں کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس طرح لیڈران کی زندگی کو ذاتی اور عوامی شعبوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے اور بہت سی شرعی قباحتوں کو ذاتی زندگی کے خانے میں ڈال کر جائز اور ناجائز کی بحث سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ بادشاہتوں اور خاندانی آمریتوں میں ایسا ہی ہوتا ہے کیونکہ ان معاشروں میں حکمرانوں کی جانب انگلی اٹھانے کی جسارت گردن زدنی کا باعث بھی بن سکتی ہے لیکن جمہوری یا نیم جمہوری نظام میں حکمرانوں کی ذاتی زندگی پر تصور موجود ہی نہیں ہوتا۔ حکمران ہر فعل کیلئے عوام کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے حتیٰ کہ اگر اقتدار کا تاج پہننے سے قبل بھی اس نے کوئی غلط کام کیا ہے تو اقتدار میں آنے کے بعد اس کا بھی احتساب کیا جاتا ہے۔ حکمران یا لیڈر قوم کا رول ماڈل ہوتا ہے اور اس کی ہر حرکت، ہر پالیسی اور ہر اقدام قوم کو کسی نہ کسی طرح متاثر کرتا ہے۔ ہم نے گزشتہ 72برسوں میں یہاں اسی طرح کا کلچر پروان چڑھتے دیکھا ہے جس قسم کی حکمران کی شخصیت تھی، ہم نے قومی عادات، سماجی رویے حتیٰ کہ لباس کو بھی حکمرانوں کی شخصیت سے متاثر ہوتے دیکھا ہے۔ تفصیل میں جائے بغیر آپ خود غور کریں کہ ایوب خان، بھٹو، ضیاء الحق، بینظیر اور نواز شریف کے ادوار اور پھر جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں ہمارا معاشرہ کس طرح حاکموں کی شخصیتوں سے متاثر ہوتا رہا اور ان کی ذاتی زندگیوں کی پرچھائیں ہر طرف نظر آتی رہیں، اگر ضیاء الحق کے دور میں مساجد میں حاضری بڑھی اور شلوار قمیص واسکٹ کا رواج پروان چڑھا تو جنرل مشرف کے دور میں انگریزی لباس، نائو نوش اور رقص و سرور کی خوب حوصلہ افزائی ہوئی۔ کرپٹ حکمرانوں کے دور میں اوپر سے لے کر نیچے تک کرپشن نے رواج پایا اور ایماندار حاکموں کے دور میں کرپشن محتاط رہی۔ سیاست اور جمہوریت کا پہلا اصول ہی Transparency یعنی شفافیت ہے جس کا مطلب ہوتا ہے اندر باہر کا واضح ہونا، ذاتی اور سیاسی زندگی کا بے نقاب ہونا۔ اسی سے آزادیٔ اظہار کے چشمے پھوٹتے ہیں اور اسی سے احتساب یا جوابدہی کا سورج طلوع ہوتا ہے۔ کسی لیڈر کے حوالے سے کسی بات کو ذاتی کہہ کر اسے ڈھال یا پردہ فراہم کرنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ میرے مشاہدے کے مطابق سیاستدان اور لیڈر کے لئے سب سے اہم اور قیمتی شے اس کا ووٹ بینک، سیاسی حمایت اور پھر اسی حوالے سے اس کی پارٹی اور کارکن ہوتے ہیں۔ لیڈر ان شعبوں کو بچانے، محفوظ رکھنے اور مضبوط بنانے کے لئے ہمہ وقت سوچتا اور کام کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ان کے لئے بڑی سے بڑی قربانی بھی دے سکتا ہے۔ سینکڑوں مثالیں واضح کرتی ہیں کہ کس طرح لیڈر اور حکمران نے محض اپنے ان سیاسی اثاثوں کو بچانے کے لئے اقتدار چھوڑ دیا حتیٰ کہ جان بھی دے دی۔ بھٹو صاحب جب جیل میں پڑے موت کا انتظار کر رہے تھے تو بیشک وہ تاریخ میں سرخرو ہونے کا خواب دیکھ رہے تھے، تاریخ میں سرخرو ہونے کیلئے ہی مستحکم ووٹ بینک اور پارٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیاقت علی خان قائداعظم کے ساتھی، تحریک پاکستان کے بڑے کارکن اور مقبول سیاسی لیڈر تھے۔ ملک و قوم کے لئے ان کا ایثار ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہیں دن دہاڑے شہید کر دیا گیا۔ ان کے مقابلے میں بھٹو صاحب نہ تحریک پاکستان کے لیڈر تھے اور نہ ہی قائداعظم کے ساتھی بلکہ آمریت کی پیداوار تھے، پھر کیا وجہ ہے کہ موت کے بعد بھٹو صاحب لیاقت علی خان کے مقابلے میں زیادہ مقبول و موثر لیڈر بن کر ابھرے۔ بہت سی وجوہ ہوں گی لیکن میرے نزدیک اس صورتحال کی بڑی وجہ بھٹو صاحب کی سیاسی پارٹی، ووٹ بینک اور سیاسی کارکن تھے جبکہ لیاقت علی خان کو ان کی شہادت کے بعد ان کی پارٹی نے کوئی اہمیت نہ دی۔ لیاقت علی خان کے صاحبزادگان چھوٹے تھے، اگر وہ جوان ہوکر سیاست میں قدم رکھتے اور اپنے باپ کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانا چاہتے تو انہیں مایوسی ہوتی۔ اس کے برعکس طویل جلا وطنی اور پابندیوں کے باوجود بینظیر کو اپنے باپ کی پارٹی، کارکن اور ووٹ بینک ورثے میں ملے اور ان کے دوبار وزیراعظم بننے کا ذریعہ بنے۔ اس پسِ منظر میں اگر آپ حکومتی وزراء اور سیاسی عہدیداران کے تبصرے پڑھیں تو وہ سیاسی بلوغت سے تہی لگتے ہیں، جن صاحبانِ مناصب کو یہ اصرار ہے کہ میاں نواز شریف واپس نہیں آئیں گے، انہیں فرصت کے چند لمحات نکال کر سوچنا چاہئے کہ میاں صاحب کی سیاسی زندگی 37برسوں پر محیط ہے، انہوں نے سیاست کے میدان میں محنت اور سرمایہ کاری کی ہے، گمنامی سے نکل کر ناموری کے لبِ بام پہ آئے ہیں، ان کی پارٹی، ووٹ بینک اور وفادار کارکن ان کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں، مریم اسی وراثت کی امین ہے اس لئے شفایاب ہو کر وہ ہر صورت واپس آئیں گے اور محض جیل کے ڈر سے زندگی بھر کا سرمایہ ضائع نہیں کریں گے۔ سیاستدان کے لئے جیل عارضی شے ہوتی ہے جس کی دیواریں گرتے دیر نہیں لگتی۔ پسند ناپسند سے بالاتر یہ میری ذاتی رائے ہے جس سے آپ کو اختلاف بھی ہو سکتا ہے۔

سیاست کے دو رُخ

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود بڑے بڑے دانشوروں کی تحریروں سے گزرتے اور بڑے بڑے میڈیا ...

%d bloggers like this: