’بالاکوٹ کا مدرسہ ہمیشہ سے یہاں موجود ہے‘

’بالاکوٹ کا مدرسہ ہمیشہ سے یہاں موجود ہے‘

رواں برس 26 فروری کو انڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ اس کے جنگی طیاروں نے پاکستان میں بالاکوٹ کے نزدیک جابہ کے مقام پر کالعدم تنظیم جیشِ محمد کے سب سے بڑے تربیتی کیمپ کو حملہ کر کے تباہ کر دیا ہے۔

انڈیا کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس آپریشن میں بڑی تعداد میں اس تنظیم کے ‘دہشت گرد’، تربیت دینے والے سینیئر کمانڈر اور جہادیوں کے گروہ ہلاک کر دیے گئے ہیں۔

انڈیا کی حکمراں جماعت بی جے پی کے صدر امت شاہ نے بھی واقعے کے بعد ایک تقریر میں کہا تھا کہ فضائی کارروائی میں ڈھائی سو سے زیادہ دہشت گرد مارے گئے۔

پاکستان کی جانب سے ان دعووں کی فوری تردید کی گئی اور کہا گیا کہ کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی کسی ‘کیمپ’ یا ‘مدرسے’ کو تباہ کیا گیا ہے۔

بدھ کو پاکستانی فوج نے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے چند نمائندوں کو بالاکوٹ کے اُس مقام کا دورہ کرایا جہاں وہ مدرسہ قائم ہے جسے انڈیا نے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ بی بی سی کے عثمان زاہد بھی اس جگہ کا دورہ کرنے والوں میں شامل تھے۔ انھوں نے وہاں کیا دیکھا، جاننے کے لیے پڑھیے اس دورے کا آنکھوں دیکھا حال۔

اس دورے کے دوران نہ صرف ہمیں اس مقام پر لے جایا گیا جہاں پر انڈین فضائیہ کی جانب سے حملے کا دعویٰ کیا گیا تھا بلکہ اس مدرسے میں بھی لے جایا گیا جس کے بارے میں انڈین حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ جیش محمد کا ٹھکانہ تھا اور جسے تباہ کر دیا گیا ہے۔

ہیلی کاپٹر سے اترنے کے بعد اس پہاڑی مقام تک دشوار گزار چڑھائی پر سفر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے جاری رہا۔

 

وہاں پہنچ کر فوج نے ہمیں پہلے وہ مقام دکھایا جہاں درمیانی سائز کا ایک گڑھا تھا۔ اس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ وہ گڑھا ہے جو انڈین طیاروں کے ’پےلوڈ‘ گرانے سے بن گیا ہے۔

واضح رہے کہ انڈین فضائیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایک ہزار کلو گرام وزنی بم استعمال کیے تھے۔

یہ مقام آبادی سے بہت دور پہاڑی پر ہے اور وہاں پر صرف ایک گھر موجود ہے جسے تھوڑا نقصان ہوا ہے اور وہاں ایک شخص بھی ملا جو زخمی ہوا تھا۔

اس کے بعد ہم چوٹی تک گئے جہاں پر مدرسہ واقع ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ 26 فروری کے بعد ذرائع ابلاغ کے کسی بھی نمائندے کو وہاں تک رسائی دی گئی۔

جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ایک بڑا سا کمپلیکس ہے جس میں بچوں کے کھیلنے کے لیے ایک میدان بھی ہے جہاں فٹبال پوسٹ بھی موجود ہے۔

لوہے کی باڑ چاروں جانب لگی ہوئی ہے اور مرکزی ہال میں ایک مسجد ہے اور مدرسہ بھی، جہاں 150 سے 200 طلبہ قرآن کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

وہاں موجود طلبہ میں سے کسی کی بھی عمر 12 یا 13 سال سے زیادہ نہیں تھی۔

ہم نے وہاں موجود چند لوگوں سے بات بھی کی اور طلبہ اور اساتذہ سے بھی معلوم کیا کہ یہ مدرسہ کس کے زیر انتظام ہے۔ ایک طالب علم نے بتایا کہ اس مدرسے کا نام مدرسہ تعلیم القرآن ہے۔ خیال رہے کہ یہ اسی مدرسے کا نام ہے جس کے بورڈ کی تصویر جابہ حملے کے فورا بعد غیر ملکی غیر ذرائع ابلاغ کی رپورٹ میں شائع ہوئی تھی اور اس بورڈ پر مدرسے کا تعلق کالعدم تنظیم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر سے ظاہر کیا گیا ہے۔

تاہم میں نے خود ایک استاد سے معلوم کیا کہ کیا اس کا تعلق جیش محمد سے تو نہیں ہے، تو جواب میں انھوں نے کہاں کہ ہمیں نہیں معلوم یہ کس کا ہے۔

بعد ازاں پاکستانی فوج کے ترجمان نے بھی قطعی طور پر اس خیال کو رد کیا کہ اس مدرسے کا جیش محمد سے کوئی تعلق ہے۔

اس دورے میں ہمارے ساتھ دس سے زیادہ ممالک کے دفاعی اتاشی بھی شامل تھے جنھوں نے وہاں تصاویر لیں اور وہاں موجود طلبہ اور اساتذہ سے بھی بات کی۔

مدرسے کا دورہ تقریباً 20 منٹ تک کا تھا جس کے بعد فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے بھی میڈیا سے بات چیت کی اور ہمارے سوالات کے جواب دیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ مدرسے کی ایک معمولی سی بوسیدہ عمارت ہے لیکن اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا اور آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ انڈین دعووں میں کوئی سچائی نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ مدرسہ ہمیشہ سے یہیں ہے۔

تھوڑی دیر آف دی ریکارڈ گفتگو کے بعد کئی صحافیوں نے ان سے سوال کیا کہ واقعہ تو فروری میں ہوا تھا تو دورہ اب کیوں کروایا گیا ہے۔

اس پر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ’چیزیں بہت تیزی سے چل رہی تھیں تو موقع نہ مل سکا لیکن کیونکہ ابھی بہت سارے صحافی اسلام آباد میں موجود تھے تو یہ ایک اچھا موقع تھا کہ سب کو یہاں ساتھ لایا جائے۔‘

فوجی ترجمان نے کہا کہ ’یہ مدرسہ ہمیشہ سے یہاں موجود ہے اور ہر کسی کو یہاں آنے جانے کی اجازت تھی۔‘

میجر جنرل آصف غفور نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ پاکستان میں 32,000 مدارس ہیں جبکہ اس علاقے میں 1200 مدارس ہیں اور تمام رجسٹرڈ ہیں۔ ’

انھوں نے کہا کہ تمام مدارس صرف تعلیم دے رہے ہیں لیکن ہم نے ایک بات کی نشاندہی کی ہے ان مدارس کے سلیبس میں کنٹمپری مضامین کی کمی ہے۔

فوجی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ کراچی اور اسلام آباد کے ایک مدرسے کے طالب علموں نے پاکستانی آرمی میں کمیشن حاصل کیا ہے کیونکہ یہ مدرسے طالب علموں کو کنٹمپری مضامین بھی پڑھاتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ اسلام آباد میں قائم ایک مدرسے کے طالب علم دن میں یونیورسٹی جاتے ہیں اور شام میں مذہبی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں سوات میں کوئی بھی مدرسہ مشکوک نہیں ہے کیونکہ جب ہم نے سنہ 2009 میں فاٹا اور سوات میں آپریشن کیا جس کے بعد سوات میں موجود تمام مدارس کو سکین کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کا تازہ ترین آپریشن ردالفصاد ملک پورے میں جاری ہے اور نیشنل ایکش پروگرام پر پوری طرح عمل کیا جا رہا ہے۔

میجر جنرل آصف غفور کے مطابق ہم ایک مہینے کے اندر ایک نئی پالیسی لا رہے جو نہ صرف مدارس کے لیے ہو گی بلکہ تمام تعلیمی اداروں کے لیے ہو گی۔

ایک سوال کے جواب میں فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ انڈیا کی جانب سے عائد کیے جانے والے الزامات کہ پاکستان میں دہشت گردی کی نام نہاد نرسری جنوبی پنجاب میں ہے، صرف الزام ہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملک میں امن اور استحکام کے لیے ہم تمام مدارس کا کنٹرول حاصل کر رہے ہیں کیونکہ پوری دنیا میں ہم پر یہ الزام عائد کیا جاتا تھا کہ پاکستان میں ہر مدرسہ انتہا پسند اور دہشت گرد پیدا کر رہا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے۔

فوجی ترجمان کے مطابق پاکستان میں 30,000 سے زیادہ مدارس میں 2.5 ملین لڑکے اور لڑکیاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی انتہا پسند نہیں ہے یا انھیں انتہا پسند نہیں بنایا جا رہا ہے۔ چنانچہ اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ان مدارس کو مین سٹریم کر کے وزارتِ تعلیم کے ماتحت لائیں گے اور ان کے سلیبس میں کنٹمپری مضامین لائیں گے۔

میجر جنرل آصف غفور کے مطابق جب یہ 32,000 مدارس وزارتِ تعلیم کے ماتحت ہو جائیں گے تو ان کے خیال میں تعلیم کی کوالٹی بہتر ہو گی، ان کا سکوپ بہتر ہو گا اور ان مدارس سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بچے دیگر تعلیمی اداروں کے بچوں کی طرح اچھے بچے ہوں گے۔

فوجی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ حکومت کا فوکس صرف مدارس کے طلبہ پر نہیں بلکہ دیگر تعلیمی اداروں پر بھی ہے کیونکہ جماعت الحرار اور داعش جیسی شدت پسند تنظیموں کا فوکس نو عمروں پر ہے اور یہ نو عمر مدارس اور دیگر تعلیمی اداروں میں موجود ہیں۔

ترجمان کا دعویٰ اپنی جگہ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ خبر رساں ادارے روئٹرز اور ملک کے دیگر میڈیا کے نمائندوں کو جابہ پر بمباری کے بعد اس مقام کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

مدرسے میں موجود ایک بورڈ پر درج تھا کہ 14 مارچ سے یہ مدرسہ ہنگامی طور پر بند کیا جا رہا ہے۔ اس بارے میں جب میں نے وہاں ایک طالب علم سے معلوم کیا تو اس نے کہا کہ حالات کی وجہ سے اسے بند کیا گیا تھا اور چھٹی دے دی گئی تھی۔ یہی بات بعد میں فوج نے بھی ہمیں بتائی۔

وہاں موجود ایک استاد نے مجھے بتایا کہ مدرسے میں تو ابھی بھی چھٹی ہے البتہ وہاں پر 150 سے 200 بچے موجود تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

safe city lahore cctv camra

چینی کمپنی ہواوے نے سی سی ٹی وی سسٹم سے وائی فائی ہٹا لیا

چین کی معروف کمپنی ہواوے نے پاکستان میں نگرانی کے نظام کے لیے سی سی ...