psl پی ایس ایل کے پہلے دو ایڈیشن، بھاری مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف

پی ایس ایل کے پہلے دو ایڈیشن، بھاری مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے اول دو ایڈیشن میں بڑے پیمانے پر مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو کروڑوں ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا جس کی وجہ فرنچائزز کو سستے داموں کمرشل حقوق کی فروخت بتائی جاتی ہے۔ناکامی کے باوجود کراچی کنگز کی بولی منظور کی گئی جبکہ اسلام آباد یونائیٹڈ کے حقوق لینے والی کمپنی کے آڈٹ شدہ مالی بیان موجود نہیں۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے پہلے دو ایڈیشن کی خصوصی آڈٹ رپورٹ تیار کی جس میں بتایا گیا کہ 2017 میں پی ایس ایل کی مارکیٹ قدر 30 کروڑ ڈالرز تھی لیکن 2015 میں پی سی بی کی منتظمہ نے ابتدائی فرنچائزز کو 9 کروڑ 30 لاکھ ڈالرز میں کمرشل حقوق فروخت کئے۔ رپورٹ کے مطابق کرکٹ بورڈ نے ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالرز سے زائد کا کنٹریکٹ اسی کمپنی کو دیا جو پہلے ہی سے بی سی پی کے لئے کام کررہی تھی۔ پی ایس ایل کے لئے معاہدوں کو وسیع پیمانے پر مشتہر نہیں کیا جاتا۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو دیئے گئے اشتہارات پی سی بی کو دستیاب نہیں ہیں۔

معلوم ہوا کہ بھارتی فرم/ کنسوریشم پی ایس ایل کے تمام بڑے معاہدوں سے نمٹ رہا تھا۔ کمپنی کا نام میسرزٹیکنالوجی فرنٹیئر اور وہ بھارت کے شہر مدراس میں قائم ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ پی سی بی نے بے قاعدہ اور غیر شفاف انداز میں فرنچائزز کو 5 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز دیئے۔ حالانکہ بولی میں شریک فرم کو گزشتہ دو برسوں کے مالی اسٹیٹمنٹ دینا لازمی ہوتا ہے، جس میں کم از کم ایک سال کے حسابات آڈٹ شدہ ہوں۔ تاکہ وہ انتخابی عمل کے لئے اہل ہو۔ یہ بات تمام فرمز اور کمپنیوں پر لاگو ہوتی ہے۔ اس بنیادی ضرورت کے متضاد اسلام آباد یونائیٹڈ کے لئے فرنچائز حقوق میسرز لینونائن گلوبل کو دیئے گئے جو برٹش ورجن آئی لینڈ (بی وی آئی) میں قائم کمپنی ہے جس کا کوئی گزشتہ آڈٹ شدہ مالی بیان نہیں ہے۔ اسی طرح اے آر وائی کے سلمان اقبال نے انفرادی حیثیت میں کراچی کنگز فرنچائز کے حقوق کے لئے درخواست دی۔ وہ مقررہ وقت کے اندر مالی بولی دینے میں ناکام رہے۔ اس کے باوجود ان کی بولی منظور کر لی گئی۔ جبکہ فرنچائز کی دیگر شرائط بھی وقت پر پوری نہیں کی گئیں۔ اسی طرح پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل کور کرنے والے صحافیوں کی آمدورفت پر ٹی اے/ ڈی اے کی مد میں ایک کروڑ 26 لاکھ 40 ہزار روپے خرچ کئے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ادائیگی پر ٹیکس کی عدم کٹوتی کے نتیجے میں ریاست کو 17 کروڑ 64 لاکھ 30 ہزار روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ پی سی بی موقف کے لئے چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) سبحان احمد سے رابطہ کرنے پر سبحان احمد کے بجائے پی سی بی کے سینئر میڈیا مینجر رضا کچلیو نے اس نمائندے سے رابطہ کر کے کہا کہ پی سی بی ان کے سوالات کے جواب دینے کا ذمہ دار نہیں ہے۔

کیا مثالی معاشرے کا افسانوی خیال حقیقت کا روپ دھارنے والا ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

کرس گیل کا انوکھا کارنامہ،دیکھ کر سب حیران

کرس گیل نے آئی پی ایل میں ایک اور ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔ کرس ...