امریکا کا ایران بارے غیر مناسب اقدام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی فورس پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کردیا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایرانی پاسدران انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اسے بے مثال اقدام قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ایران دہشت گردی کو اسپانسر کرتا ہے بلکہ آئی آر جی سی (ایرانی پاسدران انقلاب فورس) دہشت گردی میں عملی طور پر حصہ لینے کے ساتھ اس کی مالی معاونت جبکہ ریاستی سطح پر اس کی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے۔

ایران کی پاسداران انقلاب کا قیام 1979ء میں انقلاب ایران کے بعد عمل میں آیا تھا، پاسداران انقلاب نے اس کے بعد سے کافی طاقت حاصل کرلی ہے جس میں معاشی مفادات بھی شامل ہیں۔

پاسداران انقلاب کا قابل ذکر یونٹ القدس بریگیڈ ایرانی حمایت یافتہ فورسز کو تعاون فراہم کرتا ہے جس میں شامی صدر بشار الاسد اور لبنان کی حزب اللہ شامل ہیں۔

ٹرمپ کے اعلان کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے دنیا بھر کے تمام بینکوں اور کاروباری اداروں کو ایرانی پاسداران انقلاب سے تعلقات پر خبردار کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایرانی رہنماء انقلابی نہیں بلکہ مافیا ہیں، تمام بینک اور تجارتی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ کسی بھی طرح کا لین دین نہ کیا جائے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ سال تہران کے ساتھ جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ ایران پر سخت پابندیاں عائد کردی ہیں۔

حکام کہتے ہیں کہ آئی آر جی سی ایرانی معیشت میں دخل اندازی کرتی رہی ہے، سب سے محفوظ طریقہ یہ ہے کہ پاسداران انقلاب کے ساتھ کاروبار بند کردیا جائے، اگر آپ ایرانی فورس کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں تو یہ خطرناک ہوسکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

dollor کیا ڈالر کی اونچی اڑان کا سبب آئی ایم ایف ہے؟

کیا ڈالر کی اونچی اڑان کا سبب آئی ایم ایف ہے؟

پاکستان میں حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود رواں ہفتے پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں امریکی ...