سندھ سے ایک اور ہندو لڑکی اغوا

سندھ سے  ہندو لڑکیوں کے  اغوا کا سلسلہ ختم نہیں ہوسکا۔

سمرن نامی  لڑکی  کے اغوا پر ہندو  برادری نے کاروبار اور دکانیں بند کرکے  احتجاج کیا۔ روہڑی  میں  سیکڑوں افراد نے ریلی نکالی۔

شرکا نعرے بازی کرتے ہوئے ایس ایس پی آفس سکھر پہنچ گئے۔ مظاہرین نے  ایس ایس پی آفس کے سامنے مظاہرہ کیا۔  مظاہرین نے کہا کہ سندھ میں ہندو برادری کے ساتھ زیادتیاں کی جارہی ہیں۔ سمرن کا اغوا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

لڑکی کو ضلع جامشورو کے تھانہ بولا خان کی حدود سے اغوا کیا گیا۔ پولیس نے لڑکی کے بھائی کی درخواست پر بھٹی برادری کے پانچ نوجوانوں کے خلاف ایف  آئی آر درج کرلی۔

x

Check Also

اے سی بیماریاں بانٹ سکتا ہے

موسم گرما میں ائیر کنڈیشنر کا استعمال بہت بڑھ جاتا ہے اور جب ہر ماہ ...

%d bloggers like this: