tik tok اگر آپ کے بچے بھی ٹک ٹاک ایپ استعمال کرتے ہیں تو

اگر آپ کے بچے بھی ٹک ٹاک ایپ استعمال کرتے ہیں تو

سوشل میڈیا کے انقلاب نے جرائم پیشہ لوگوں کو بھی اپنی مکروہ کارروائیوں میں بہت آسانی فراہم کر دی ہے، بالخصوص جنسی بھیڑیوں کو، جو اب ان سوشل پلیٹ فارمز کے طفیل باآسانی اپنا شکار تلاش کر لیتے ہیں۔ پہلے تو یہ بدطینت فیس بک اور دیگر ایپلی کیشنز کے ذریعے ہی سرگرم تھے اوراب معروف ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کے متعلق بھی ماہرین نے ہولناک انکشاف کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ”بچوں میں جنسی رغبت رکھنے والے درندہ صفت انسان کم عمر لڑکے لڑکیوں کو ورغلانے کے لیے بڑے پیمانے پر ٹک ٹاک کا استعمال کر رہے ہیں اور ٹک ٹاک کی انتظامیہ ایسے لوگوں کے اکاﺅنٹ بند کرنے میں بری طرح ناکام ہو رہی ہے۔“

ماہرین کا کہنا ہے کہ ”اگرچہ ٹک ٹاک 13سال سے زائد عمر کے لوگوں کے اکاﺅنٹ بناتی ہے لیکن بچے غلط عمر درج کرکے اکاﺅنٹ بنا رہے ہیں اور ایپلی کیشن کے پاس ایسا کوئی میکانزم نہیں ہے کہ ان کا سراغ لگا سکے اور انہیں ایپ پر آنے سے روک سکے۔ کئی ایسے بچوں کے بھی ٹک ٹاک پر اکاﺅنٹس ہیں جن کی عمریں 8اور 9سال ہیں اور یہ بچے جنسی بھیڑیوں کا آسان شکار ثابت ہو رہے ہیں۔“ بی بی سی نے بھی اس حوالے سے تحقیقات کی ہیں جن میں معلوم ہوا ہے کہ ”بچوں کے اکاﺅنٹس پر ان کی ویڈیوز کے نیچے ہزاروں کی تعداد میں ایسے کمنٹس موجود ہیں جن کا مقصد ان بچوں کو اپنی طرف راغب کرنا ہے۔ ان پیغامات کو رپورٹ کیا گیا اور کئی ڈیلیٹ کر دیئے گئے تاہم کئی اب بھی اپنی جگہ موجود ہیں اور ٹک ٹاک کی انتظامیہ نے انہیں نہیں ہٹایا۔“کرس نامی ایک شخص نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ”میرا 10سالہ بیٹا ٹک ٹاک استعمال کر رہا تھا جس کا مجھے علم ہی نہیں تھا۔ پھر اسے جنسی ہراسگی پر مبنی پیغامات آنے لگے اور کچھ لوگ تو اسے دھمکیاں دینے لگے کہ وہ آئیں گے اور اسے اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ اس پر خوفزدہ ہو کر اس نے مجھے بتایااور میں نے اس کے فون سے ایپلی کیشن ہی ڈیلیٹ کر دی۔“

رپورٹ کے مطابق چلڈرنز کمشنر اینی لانگ فیلڈ کا کہنا ہے کہ ”ہمیں ٹک ٹاک کے ذریعے بچوں کو ورغلانے اور جنسی ہراسگی کا نشانہ بنانے کی سینکڑوں شکایات موصول ہو چکی ہیں۔ ان شکایات کے ازالے کے لیے ہم جلد ٹک ٹاک کی انتظامیہ کے ساتھ میٹنگ کریں گے جس میں بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات پر بات کی جائے گی۔ “ دوسری طرف ٹک ٹاک کم عمر بچوں کی ذاتی معلومات اپنے پاس محفوظ کرنے کے الزامات کی زد میں بھی آ چکی ہے۔ رواں سال کے آغاز میں ایپلی کیشن کو امریکہ میں 13سال سے کم عمر بچوں کی ذاتی معلومات اپنے پاس محفوظ کرنے پر 43لاکھ پاﺅنڈ (تقریباً 79کروڑ 29لاکھ روپے)جرمانہ بھی کیا گیا تھا۔اس ایپلی کیشن کو بھارت میں بھی شدید تنقید کا سامنا ہے اور وہاں حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس ایپلی کیشن پر ملک میں پابندی عائد کی جائے کیونکہ یہ فحش مواد پھیلانے کے لیے بھی استعمال ہو رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

samsung launch new mobile in pakistan

پاکستان میں سام سانگ کا سستا ترین فون آگیا

  اسمارٹ فون بنانے والی دنیا کی مشہور ترین جنوبی کورین کمپنی سام سنگ نے ...