پاکستان میں کتنے افراد ایڈزکا شکار ہیں؟

پاکستان میں کتنے افراد ایڈزکا شکار ہیں؟

پاکستان میں تقریبا ڈیڑھ لاکھ افراد ا یچ آئی وی یعنی ا یڈزکا شکار ہیں۔ یہ مرض آبادی کے مختلف طبقوں اور افراد میں پھیل رہا ہے۔ اس متعدی اور موذی مرض کے زیادہ ایسے افراد شکار ہوتے ہیں جو نشہ کی لعنت میں مبتلا ہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج تیسواں ایڈز سے آگاہی کا دن آج منایا جارہا ہے۔ یہ دن منانے کا مقصد ایڈز کی وجوہات اور اس سے بچاؤ کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے، اس سال ایڈز ڈے کی تھیم ہےاپنا اسٹیٹس جانیے‘۔

چند روز قبل اسلام آباد میں ورلڈ ایڈز ڈے سے متعلق گول میز کانفرنس میں ماہرین نے بتایا تھاکہ پاکستان میں ایک لاکھ 50 ہزار افراد ایچ آئی وی ایڈز کا شکار ہیں جن میں سے صرف 25 ہزار افراد علاج کے لیے رجسٹر ہیں۔

پاکستان نے ایڈز کے خاتمے کے لیے اقدامات تو کیے ہیں مگر بد قسمتی سے صرف 16 فیصد ایڈز کے مریض چیک اپ کرواتے ہیں۔امید ظاہر کی جاتی ہے کہ پاکستان 2030 تک ایڈز پر قابو پا لے گا۔

اس وقت پورے پاکستان میں ایڈز سے بچاؤ کے 33 سینٹرز کام کرر ہے ہےںجہاں مفت علاج ہو رہا ہے۔ اس سال 12 مزید ایچ آئی وی اور ایڈز سینٹرز میں اضافہ کیا گیا ہے۔

یو این ایڈ کے مطابق 94 لاکھ افراد ایسے ہیں جو ایڈز میں مبتلا ہیں لیکن وہ خود اس بارے میں نہیں جانتے۔گزشتہ سال دنیا بھر میں اکتالیس ملین سے زائد افراد ایڈز سے ہلاک ہوچکے ہیں ۔

ایڈز کیا ہے؟ ابتداء کب ہوئی؟کیسے پھیلتا ہے؟

ایڈز ایک مہلک اور جان لیوا مرض ہے جس کا انکشاف 1981ء میں ہوا۔

ایڈز کا مرض ایچ آئی وی (HIV) نامی ایک وائرس کے ذریعے پھیلتا ہے جو انسانی مدافعتی نظام کو تباہ کر کے رکھ دیتا ہے۔ اس کے حملے کے بعد جو بھی بیماری انسانی جسم میں داخل ہوتی ہے نہایت سنگین اور مہلک صورت حال اختیار کر لیتی ہے۔

اس کو انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو ناکارہ بنانے والا وائرس بھی کہتے ہیں۔ ایڈز کا یہ وائرس زیادہ تر خون اور جنسی رطوبتوں میں پایا جاتا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ یہ جسم کی دوسری رطوبتوں یعنی تھوک، آنسو، پیشاب اور پسینہ میں بھی پایا جاسکتا ہے۔ مگر تھوک، آنسو، پیشاب اور پسینہ بیماری پھیلانے کا باعث نہیں بنتے بلکہ یہ بیماری صرف خون اور جنسی رطوبتوں کے ذریعے ہی پھیلتی ہے۔

یہ وائرس کسی بھی متاثرہ شخص سے اس کے جنسی ساتھی میں داخل ہو سکتا ہے یعنی مرد سے عورت، عورت سے مرد، ہم جنس پرستوں میں ایک دوسرے سے اور متاثرہ ماں سے پیدا ہونے والے بچے میں جا سکتا ہے۔ جنسی پھیلاؤ ترقی یافتہ اور افریقی ممالک میں بیماری کے پھیلاؤ کا بڑا سبب ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

وٹامن ڈی کی اہمیت و افادیت

ہمارے جسم کو 24 گھنٹے کام کرتے رہنا ہوتا ہے، جس کے لیے جسم کے ...