بھوک چہروں پر لیے چاند سے پیارے بچے

اظہر فاروق چودھری

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوڑے دان ، سڑک کے کنارے ، گندگی کے ڈھیر اور گلی کی نکڑ سے اٹھتے بدبو کے بھبکے کس چیز سے نکلتے ہیں۔۔۔؟ کیا آپ نے کبھی سوچا۔۔۔؟تعفن اور بدبو کے ڈھیر کو اگر پل بھر ہمت و بہادری کا مظاہرہ کرکے دیکھ لیں تو پتہ چلتا ہے یہ گندگی ،یہ تعفن ،یہ بدبو کسی رذیل و قبیح شئے کی نہیں ،بلکہ اس عطیۂ قدرت کی ہے جس کے ذرات شکم میں پہنچنے کے بعد آنکھیں کھلتی ہیں،طاقت و قوت کا احساس ہوتا ہے،شریانیں کھل جاتی ہیں ،انسانی جسم قابل عمل ہوتا ہے ،چلنا پھرنا ضروریات زندگی کی تکمیل کرنا ،ہوش و حواس کاقائم رکھنا اسی کی بدولت ہے،،،
آج بھوک ایک سوالیہ نشان بن کر میرے سامنے کھڑا ہے اور میں چپ ہوں،،،
یوں محسوس ہوتا ہے کہ زمین پر سب سے بڑا مسئلہ ہی بھوک ہے،،
بڑے تو بڑے ہیں ،،،بقا کی جنگ لڑنا سیکھ چکے ہوتے ہیں،، لیکن کیا کریں ان ننھی پھول کلیوں کا جو ابھی اس گلشن میں کھلے چاہتے ہیں،،،
اگر پھول چہروں کا واسطہ بھوک سے پڑ جائے تو وہ سستی اور کاہلی کا مرکز بن جاتے ہیں،، اعضا جسمانی نقاہت کا شکار ہو جاتے ہیں،، آنکھیں دھنس جاتی ہیں ،، گال پچک جاتےہیں،، قدم اٹھانا دور کی بات پلکیں اٹھانا بھی معرکہ سر کرنے کے برابر ہوتا ہے،،،
بھوک سے لاچار بچوں کی اس کیفیت اور درد و کرب کو قہقہوں کی نذر کر دیا جاتا ہے،،،اور ہم سمجھتے ہیں کہ

افلاس نے بچوں کو سنجیدگی بخشی
سہمے ہوئے رہتے ہیں شرارت نہیں کرتے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

25 جولائی کا اڑتا تیر

پاکستان تحریک ِانصاف کے اکرام اللہ گنڈہ پور، بلوچستان عوامی پارٹی کے سراج رئیسانی اور ...