چیف جسٹس پاکستان کا طویل تقریر کا خواتین کے اسکرٹ سے موازنہ

میرے پاس حلال کا پیسہ ہے حرام کا نہیں،ملک ریاض

سپریم کورٹ آف پاکستان میں بحریہ ٹاؤن نظر ثانی کیس کی سماعت ہوئی. تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران وکیل علی ظفر نے کہا کہ نیک نیتی ثابت کرنے کے لیے عدالتی حکم پر 5 ارب روپے جمع کروائے.

چیف جسٹس نے کہا کہ 5 ارب روپے رضاکارانہ طور پر جمع نہیں کروائے گئے..ملک ریاض نے عدالتی حکم کے تحت پیسے جمع کروائے. انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کی نشاندہی کریں. چیف جسٹس نے بحریہ ٹاؤن کے وکیلوں سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ وکیل عوام کے ہیں اور کھڑے بحریہ کے جہاز میں ہیں. آپ نے تو بحریہ کے جہاز کو ٹیکسی بنایا ہوا ہے. چیف جسٹس نے کہا کہ زمین کی قیمت کا تعین عملدرآمد بنچ کرے گا. یہ نیلام گھر نہیں ہے، ہم مکمل ہوم ورک کر کے بیٹھے ہیں. آفرمنظور نہیں تو دلائل دیں. وکیل طارق رحیم نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن میں ایک لاکھ 65 ہزار رہائشی ہیں. عدالت رہائشیوں کے حقوق کو بھی مد نظر رکھے. ملک ریاض نے کہا کہ کُل سیل 427 ارب کی ہوئی. ایک ہزار ارب میں کہاں سے لے کر آؤں؟ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی کی ورتھ 3 ہزار ارب کی ہے

ملک ریاض نے کہا کہ 50 ارب روپے میری اوقات نہیں ہے. چیف جسٹس نے کہا کہ آپ 1500 ارب روپے دے دیں اور تاحیات نیکی کمائیں. ملک ریاض نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن نے ہزاروں لوگوں کو روزگار دیا. غریبوں کو 5 لاکھ روپے میں گھر دئے. 21 لاکھ روپے میں جو فلیٹ فروخت کیا وہ آج 70 لاکھ روپے کا ہے. خیال رہے کہ اس سے قبل بھی ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار اور بحریہ ٹاؤن کے چئیرمین ملک ریاض میں دلچسپ جُملوں کا تبادلہ ہوا. چیف جسٹس نے کہا کہ بحریہ انکلیو نے بہت ساری سرکاری اراضی گھیر رکھی ہے. لوگوں کے سرکاری زمین پر گھر بھی بن چکے ہیں. چیف جسٹس نے کہا کہ سُنا ہے کہ بحریہ ٹاؤن اسلام آباد کی حد بندی بھی ہوئی ہے. سماعت کے دوران ایڈشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کا دفتر بھی نیشنل پارک کی زمین پر قائم ہے. جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے چئیرمین بحریہ ٹاؤن سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ملک ریاض ! کیا آپ کے پاس ایک ہزار ارب روپے ہیں؟ جس پر ملک ریاض نے جواب دیا کہ میرے پاس ایک سو ارب روپے بھی نہیں ہیں. چیف جسٹس نے کہا کہ ملک صاحب جو تجاوزات آپ نے قائم کی ہیں ان کی ادائیگی کرنا ہو گی..ملک ریاض کے پاس اگر پیسہ نہیں تو کس کے پاس ہے؟ پورے پاکستان کا پیسہ ملک ریاض کے پاس ہے..ملک ریاض نے کہا کہ میرے پاس حلال کا پیسہ ہے حرام کا نہیں. جس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ آپ کو کب کہا کہ پیسہ حرام کا ہے؟چیف جسٹس نے ملک ریاض کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر ایک ہزار ارب روپے کا بندوبست کر کے آئیں. ملک ریاض کا کہنا تھا کہ ایک ہزار ارب تو امریکہ کے پاس بھی نہیں ہو گا.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

لاہورہائیکورٹ نے گورنر ہاﺅس کی دیوار گرانے سے روک دیا

لاہورہائیکورٹ نے گورنر ہاؤس کی دیوار گرانے سے روک دیا

لاہور ہائیکورٹ نے حکومت کو گورنر ہاﺅس کی دیواریں گرانے سے روک دیا،عدالت نے ریمارکس ...