محمودآباد میں چائنا کٹنگ پر مصطفیٰ کمال کے گرد گھیرا تنگ

سیاسی مقاصد کیلئے محمود آباد میں ٹریٹمنٹ پلانٹ اور کے ایم سی کی اربوں روپے مالیت کی 82ایکڑاراضی کی غیرقانونی الاٹمنٹ، بندر بانٹ اور چائنا کٹنگ کے اسکینڈل میں ملوث پاک سرزمین پارٹی کےسربراہ سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کے گرد گھیرا تنگ ہوگیا ۔سپریم کورٹ کے احکامات پرشروع کی گئی انکوائری میں طلب کئے جانے پر گزشتہ روز مصطفی کمال پہلی بار اینٹی کرپشن حکام کے سامنے پیش ہوئے ،جہاں ان سے 12 سوالوں کے جواب طلب کر لئے گئے۔ تحریری جوابات کیلئے سابق سٹی ناظم نے مہلت مانگ لی ہے ،جبکہ جان چھڑانے کیلئے اینٹی کرپشن حکام کو زمین کی لیز منسوخ کرکے پلاٹ خالی کرانے کو کہہ دیا ۔ پی ایس پی سربراہ نے بطور ایم کیو ایم کے سٹی ناظم محمود آباد کے علاقے میں ٹریٹمنٹ پلانٹ کیلئے مخصوص 49 ایکڑ سے زائد اراضی کو تقریباً 7 ہزار رہائشی اور تجارتی پلاٹوں میں تقسیم کراکر سیاسی بنیادوں پر بندر بانٹ کی ،جس کے بعد اس سے ملحقہ کے ایم سی کی تقریباً 33 ایکڑ کی بھی چائنا کٹنگ کے ذریعے پلاٹنگ کرکے غیر قانونی طور پر لیز کردی تھی۔ ٹریٹمنٹ پلانٹ کیلئے مخصوص زمین غیر قانونی طور پر رہائشی و تجارتی مقاصد کیلئے استعمال ہونے کے باعث کراچی میں نکاسی آب کے ”ایس تھری“ منصوبہ شدید متاثر ہوا اور اس کی لاگت میں بھی اربوں روپے کا اضافہ ہوگیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹریٹمنٹ پلانٹس نصب ہونے کے معاملے کا واٹر کمیشن نے بھی نوٹس لیا تھا، جس کے بعد عدالت عظمیٰ نے بھی مصطفی کمال کو سابق سٹی ناظم کی حیثیت سے طلب کیا تھا اور اس ضمن میں احکامات جاری کئے تھے کہ اس معاملے کی پہلے متعلقہ محکمہ تحقیقات کرکے حقائق واضح کرے اور اس ضمن میں قانونی کارروائی کی جائے۔ جس پر صوبائی محکمہ بلدیات نے اس معاملے کی محکمہ جاتی انکوائری کرنے کے بعد ستمبر کے دوسرے ہفتے میں یہ معاملہ اینٹی کرپشن کو ارسال کرتے ہوئے تحقیقات کی سفارش کی تھی۔ مذکورہ انکوائری کے سلسلے میں گزشتہ روز اینٹی کرپشن حکام نے مصطفیٰ کمال کو بیان ریکارڈ کرانے کیلئے طلب کیا تھا۔ طلبی پرانیس قائم خانی کے ہمراہ پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ گزشتہ روز اینٹی کرپشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہیڈ کوارٹر ضمیر عباس کے دفتر پہنچے تو اس ضمن میں ان سے مختلف سوالات کئے گئے۔ مصطفیٰ کمال نے اینٹی کرپشن افسر کو بعض سوالات کا غیر رسمی طور پر جواب دیا ،تاہم انہوں نے تحریری جوابات کیلئے مہلت مانگ لی ،جس کے بعد ان کے ہاتھ میں 12 سوالوں پر مشتمل سوال نامہ تھمادیا گیا۔ ذرائع کے مطابق مصطفی کمال سے پوچھا گیا ہے کہ 2009 میں آپ سٹی ناظم تھے،آپ نے محمود آباد کے علاقے میں ٹریٹمنٹ پلاٹ کیلئے مخصوص 49 ایکڑ سے زائد زمین کی منظم طریقے سے چائنا کٹنگ کے ذریعے تقریباً 7 ہزار رہائشی و تجارتی پلاٹ غیر قانونی طور پر بنائے ؟ ،ایسا کوئی تو قانون دکھائیں ،جس کے ذریعے فلاحی مقاصد کیلئے مخصوص پلاٹ کو رہائشی اور تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کیا جائے؟ ۔کیا سٹی ناظم کی حیثیت سے آپ کے پاس قانونی طور پر ایسے اختیارات تھے کہ آپ اس زمین کو رہائشی و تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کرسکیں؟۔ اینٹی کرپشن کے حکام نے یہ بھی کہا کہ آپ نے مذکورہ فلاحی پلاٹ کو سیاسی مقاصد پورے کرنے کیلئے استعمال کیا۔ اس وقت آپ متحدہ قومی موومنٹ کے ٹکٹ پر کراچی کے سٹی ناظم منتخب ہوئے تھے اور محمود آباد کے علاقے میں آپ نے بڑے پیمانے پر لوگوں کو اس لئے غیر قانونی طور پر آباد کیا ،تاکہ مذکورہ انتخابی حلقے میں آپ کا سیاسی اثر و رسوخ اور ووٹرز کی تعداد بڑھ جائے اور آپ کے مخالف وہاں سے صوبائی اسمبلی کی نشست نہ جیت سکیں۔ مصطفی کمال سے پوچھا گیا کہ ایسا کوئی قانون بتایا جائے کہ کسی کے گھر مسمار کرنے کے عوض انہیں پلاٹ دیا جائے؟ ،ایسا ہونے کی صورت متاثرین کو معاوضہ دیا جاتا ہے اور جہاں تک لائنز ایریا پروجیکٹ کے متاثرین کو آباد کرنے کی بات تھی تو اس لئے ”کے ڈی اے“ کی زمین دی جاتی ،نہ کہ کے ایم سی۔ اور اس سلسلے میں آپ کے پاس کورنگی، اسکیم 33 اور سرجانی ٹاؤن میں بھی زمین تھی ،آپ نے محمود آباد ٹریٹمنٹ پلانٹ کی فلاحی اراضی کا انتخاب کیوں کیا؟ اور مذکورہ زمین پر چائنا کٹنگ کے بعد متحدہ کے کارکنان نے اس سے ملحقہ کے ایم سی کی تقریباً 33 ایکڑ اراضی پر چائنا کٹنگ کی اور کے ایم سی نے غیر قانونی طور پر مذکورہ زمین لیز بھی کردی۔ غیر قانونی طور پر جو آبادی بنائی گئی ،اس میں 17 کروڑ 60 روپے لاگت سے آپ نے سڑکیں بھی تعمیر کرائیں۔ ٹریٹمنٹ پلانٹ کی جس زمین کو سیاسی مقاصد کیلئے غیر قانونی طور پر استعمال کیا گیا ،اس وقت اس کی مارکیٹ قیمت تقریباً سوا چار ارب روپے تھی۔مصطفی کمال سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ کیا صرف سٹی کونسل سے ایک قرار داد منظور ہونے کی صورت کوئی بھی زمین الاٹ ہوسکتی ہے ،کیوں کہ جو بھی قرار داد منظور ہوتی ہے ،وہ متعلقہ ایوان کی خواہش ہو اور وہ قانون نہیں بن جاتا۔ تو آپ نے ایک قرار داد کے بنیاد پر زمین کیسے دی؟ ۔ان کے سامنے یہ سوال بھی رکھا گیا کہ ٹریٹمنٹ پلانٹ کی زمین کو غیرقانونی طور پر رہائشی اور تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کرنے سے ایس تھری کا منصوبہ بھی شدید متاثر ہوا اور ٹریٹمنٹ پلانٹس نصب نہیں ہوسکے اور اس کی وجہ سے ایس تھری منصوبے میں تاخیر کے باعث اس کی لاگت میں 5 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب میٹرو بس اسکینڈل کی جو تحقیقات کررہی ہے ،اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ منصوبے میں تاخیر کے باعث اس کی لاگت میں اضافہ ہوا ،جس سے سرکاری خزانے کو نقصان ہوا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران مصطفیٰ کمال نے موقف اختیار کیا کہ مذکورہ اراضی مستقل نہیں ،بلکہ عارضی بنیادوں پر الاٹ کی گئی تھی۔ حکومت چاہے تواسےخالی کرالے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ اسکینڈل کے حوالے سے اینٹی کرپشن حکام نے مختلف افسران کے بیان بھی قلمبند کئے ہیں۔نجی ٹی وی کے مطابق اینٹی کرپشن نے چائنا کٹنگ میں ملوث سیاسی شخصیات و افسران کیخلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیاہے۔ سابق ناظم کراچی مصطفی کمال اور37افسران کو شامل تفتیش کرلیاگیا۔ اینٹی کرپشن نے سابق ایم ڈی کراچی واٹر بورڈ غلام عارف کو آج طلب کیاہے ،سابق چیف انجینئر واٹر بورڈ گلزار میمن کو بھی طلب کیا گیا ہے۔دوسری جانب مصطفیٰ کمال نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سگنل فری کوریڈورتھری کیلئے پریڈی اسٹریٹ کے1422مکانوں کو توڑا گیا اور مکینوں کی منت کرکے انہیں عارضی طور پر منتقل کیا گیا تھا۔ آج بھی ان رہائشیوں کے پاس لیز نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

ہانگ کانگ میں بزنس اینڈ انویسٹ منٹ اپرچونٹی کانفرنس

پاکستان قونصلیٹ ہانگ کانگ اور راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے زیراہتمام بزنس اینڈ انویسٹمنٹ اپرچونٹی ...