ڈاکٹر عافیہ کے دونوں بچے ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں

حکومتی رویوں سے دلبرداشتہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے اہل خانہ بالخصوص ان کے دونوں بچوں مریم اور احمد نے اپنی والدہ کی رہائی کی زیادہ امید دعائوں سے لگا لی ہے۔ تاہم دنیاوی کوششوں کا سلسلہ بھی ترک نہیں کیا ہے۔ عافیہ کی رہائی کے لئے ہر اتوار کو گھر میں آیت کریمہ کا ورد تو معمول تھا ہی، پچھلے کچھ عرصے سے درود تنجینا کا ورد بھی شروع کیا گیا ہے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق مریم کی ایک کلاس فیلو نے اسے بتایا تھا کہ اس کا ایک قریبی عزیز سعودی عرب میں قید تھا۔ حتیٰ کہ اس کو سزائے موت سنا دی گئی۔ اپنے عزیز کی قید کے دوران اس کے گھر والے درود تنجینا کا ورد کرتے رہے۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا ہے کہ سر قلم کئے جانے سے صرف دو روز پہلے معجزانہ طور پر ان کے عزیز کی رہائی عمل میں آ گئی۔ یہ قصہ مریم نے آ کر گھر والوں کو سنایا تو اس کے بعد سے ہر اتوار کو آیت کریمہ کے ساتھ درود تنجینا کا ورد بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپنے حالیہ دورہ امریکہ کے موقع پر واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے پہنچے تو وہاں پر لوگوں نے عافیہ کی رہائی کے حق میں ایک مظاہرہ کیا۔ میڈیا کے لوگ بھی موجود تھے۔ ایک صحافی نے شاہ محمود قریشی سے دریافت کیا کہ حکومت ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے سلسلے میں کیا کوششیں کر رہی ہے ؟ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’’عافیہ قوم کی بیٹی ہے اور ہمارا فرض ہے کہ اسے واپس لے کر آئیں۔ امریکہ اپنا ڈاکٹر مانگ رہا ہے، اور اس کی خواہش ہے کہ شکیل آفریدی اسے مل جائے۔ جبکہ ہماری خواہش ہے کہ ڈاکٹر عافیہ مل جائے۔ اللہ تعالیٰ دونوں کی خواہشیں پوری کر دے‘‘۔ ذرائع کے مطابق یہ بات ڈاکٹر عافیہ کے بچوں تک پہنچی تو ایک بار پھر ان کی آنکھوں میں امید کی کرن چمک اٹھی۔ اور انہوں نے گھر والوں سے پوچھا کہ موجودہ حکومت بھی پچھلے حکمرانوں کی طرح وعدہ خلافی تو نہیں کرے گی۔ خاندانی ذرائع کے بقول عافیہ کے دونوں بچوں کو نواز شریف کی وعدہ خلافی کا بہت رنج ہے۔ اور اکثر اس کا ذکر کرتے ہوئے ان کی آنکھیں بھر آتی ہیں۔ جب عمران خان اپنے انتخابی جلسوں میں ڈاکٹر عافیہ کو واپس لانے کی باتیں کر رہے تھے تو عافیہ کے بچوں نے بھی ان کی کامیابی کے لئے دعا کی تھی۔ پھر عمران کے جیتنے پر دونوں بہت خوش تھے کہ اس بار ان کی والدہ کو واپس لانے کا وعدہ پورا کیا جائے گا۔ لیکن اس سلسلے میں اب تک کی جو پیش رفت ہے، وہ مریم اور احمد کے لئے زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔
ڈاکٹر عافیہ کے دونوں بچے ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں۔ مریم نے او لیول میں ٹاپ کر کے گولڈ میڈل حاصل کیا ہے۔ جبکہ احمد نے میڈیکل میں داخلہ لے رکھا ہے۔ وہ اپنی ماں کی طرح نیورو سرجن کے بجائے آرتھو پیڈک سرجن بننے کا خواہشمند ہے۔ دونوں اپنا زیادہ وقت پڑھائی کو دیتے ہیں۔ غیر نصابی سرگرمیاں بہت محدود ہیں۔ بقول خاندانی ذرائع سیکورٹی کے سبب بھی دونوں کو زیادہ باہر نہیں جانے دیا جاتا۔ غیر نصابی سرگرمیوں کے حوالے سے مریم کو آرٹ میں دلچسپی ہے۔ اس نے باقاعدہ کہیں سے مصوری سیکھی تو نہیں، لیکن اسکول کے لئے بنائی جانے والی تصاویر اور چارٹ بڑی مہارت سے بناتی ہے۔ ڈیزائننگ سے اسے خاص لگائو ہے۔ میٹھی ڈش اور ڈیزرٹ بھی بہت سجا کر پیش کرتی ہے۔ خاندانی ذرائع کے بقول شکل و صورت کے علاوہ مریم کی عادات بھی اپنی والدہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے بہت زیادہ ملتی ہیں۔ بولنے کا طریقہ اور نشست و برخاست کا انداز ہو بہو ماں جیسا ہے۔ اپنی امی کی طرح بہت نفاست پسند ہے۔ کپڑوں پر ایک شکن برداشت نہیں کرتی۔ عافیہ کو سی گرین اور ہلکا پیچ کلر بہت پسند تھا تو مریم کو بھی انہی رنگوں سے لگائو ہے۔ صفائی کا بے انتہا خیال رکھتی ہے اور بڑے سلیقے سے بال بناتی ہے۔ مریم کی الماری میں ہر چیز سلیقے سے رکھی ملتی ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی اس چیز کا بہت خیال رکھا کرتی تھیں۔ خاندانی ذرائع کے بقول جس طرح عافیہ صدیقی غریبوں کا خیال رکھتی تھیں، یہی بات مریم میں بھی پائی جاتی ہے۔ آج کل اس کی زیادہ دلچسپی گھر کی ماسی کی چھ ماہ کی بچی میں ہے۔ ماسی گھر کے کام میں مشغول ہوتی ہے تو اس دوران مریم اس کی بچی کو سنوارنے میں مصروف رہتی ہے۔ نت نئی فراک پہناتی ہے۔ ننھے سے ہونٹوں پر لپ اسٹک اور سر پر نفیس ٹوپی رکھ کر اسے بالکل گڑیا جیسی بنا دیتی ہے۔ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم کے برعکس احمد کی غیر نصابی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کرکٹ سے اسے کوئی لگائو نہیں۔ فٹبال کبھی کبھار ضرور کھیلتا ہے کہ یہ فی الحال اس کی طبی ضرورت بھی ہے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق گمشدگی کے دوران اس کی ٹانگوں کو ایک طویل عرصہ تک باندھ کر رکھا گیا تھا۔ لہٰذا جب وہ رہا ہو کر گھر پہنچا تو چلنے سے بھی قاصر تھا۔ بعد ازاں مسلسل فزیو تھراپی اور آپریشن کے ذریعے احمد چلنے پھرنے کے قابل ہوا۔ اب اسے کبھی کبھار فٹبال کھیلنے کی اجازت دی جاتی ہے، جس سے اس کی ٹانگوں کی ورزش بھی ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹر عافیہ کی بڑی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے ’’امت‘‘ کو بتایا کہ بدھ کے روز انہیں سیکریٹری خارجہ کے دفتر سے فون موصول ہوا ہے۔ انہوں نے عافیہ کی رہائی سے متعلق حکومتی وعدے یاد دلانے کے لئے سیکریٹری خارجہ کے دفتر کو متعدد فیکس بھیجے تھے۔ جس کے جواب میں فون آیا تھا۔ ڈاکٹر فوزیہ کا کہنا تھا کہ ’’سیکریٹری خارجہ کے دفتر سے آنے والے فون کے ذریعے مجھے بتایا گیا کہ پاکستان اعلیٰ سطح پر عافیہ کی رہائی کی کوششیں کر رہا ہے۔ جس پر میرا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں دونوں حکومتوں کے درمیان اگر کوئی بات چیت ہو رہی ہے تو اس میں مجھے شامل رکھا جائے۔ تاکہ ایسا نہ ہو کہ پچھلے دس برس سے ہم جو ناکام کوششیں کر چکے ہیں، دوبارہ اسی سمت پر چلنا شروع کر دیا جائے اور نتیجہ پھر صفر نکلے‘‘۔
ڈاکٹر فوزیہ نے بتایا کہ پچھلے دو برس سے عافیہ کے ساتھ کوئی ٹیلیفونک رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔ کچھ عرصہ قبل انہوں نے امریکہ میں پاکستانی قونصل جنرل کو ای میل بھیجا ہے۔ اس ای میل میں گھر والوں سمیت مریم اور احمد کا پیغام بھی شامل ہے۔ اس ای میل کے ساتھ امریکی جیل کے مینول کی فہرست بھی ہے۔ جس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ہر قیدی کو ماہانہ تین سو منٹ فون کرنے کی اجازت ہے۔ اور اگر اس کے گھر والے شہر یا ملک سے باہر ہیں تو وہ ایک ویڈیو کال بھی کر سکتا ہے۔ قونصل جنرل سے کہا گیا ہے کہ وہ امریکی جیل انتظامیہ سے بات کر کے کم از کم عافیہ سے ٹیلیفونک رابطے تو بحال کرائیں۔ لیکن فی الحال اس کا کوئی جواب نہیں آیا ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ نے بتایا کہ وہ ہر ماہ تین سو ڈالر ڈاکٹر عافیہ کو بھیجتی ہیں۔ لیکن پچھلے دو برس سے نہیں معلوم کہ یہ رقم انہیں پہنچ بھی رہی ہے یا نہیں۔ جیل انتظامیہ کا ویسٹرن یونین میں ایک اکائونٹ ہے۔ ہر قیدی کے اہل خانہ یہ رقم ویسٹرن یونین کے ذریعے ہی بھیجتے ہیں۔ بعد ازاں جیل انتظامیہ رقم کو متعلقہ قیدی کے اکائونٹ میں جمع کرا دیتی ہے۔ اس رقم سے قیدی جیل میں قائم دکان سے کھانے پینے اور اشیائے ضرورت کی خریداری کر سکتے ہیں۔ کیونکہ جیل کی فراہم کی جانے والی اشیا کی کوالٹی بہت ناقص ہوتی ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ نے بتایا کہ 12 اکتوبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں عافیہ کی رہائی کیلئے یوم دعا منایا جائے گا۔ اس کے تمام انتظامات کرلئے گئے ہیں۔٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

’’مہرین فاروق‘‘ پاکستانی نژاد پہلی آسٹریلوی مسلمان خاتون سینیٹر

’’مہرین فاروق‘‘ پہلی مسلمان خاتون سینیٹر

ایک طرف الیکشن میں ہمارے ملک کے مخصوص علاقوں میں خواتین کو پہلی بار ووٹ ڈالنے ...