ورلڈ کپ ابھی دور ہے فی الحال توجہ ایشیا کرکٹ کپ پر

ورلڈ کپ ابھی دور ہے

ایشیا کرکٹ کپ میں شریک چھ میں سے پانچ ٹیمیں آئندہ سال انگلینڈ میں ہونے والے ورلڈ کپ میں حصہ لیں گی۔

ان ٹیموں کے کپتان یہ کہتے ہیں کہ عالمی مقابلہ ابھی آٹھ ماہ کی دوری پر ہے فی الحال ان کی توجہ ایشیا کپ پر مرکوز ہے۔

ایشیا کپ میں حصہ لینے والی چھ ٹیموں کے کپتان سرفراز احمد۔ روہیت شرما، مشرفی مرتضی،ٰ اینجیلو میتھیوز، اصغر افغان اور انشومن رتھ جمعہ کی شام دبئی سٹیڈیم میں ایشیا کپ کی ٹرافی کی تقریب رونمائی کے لیے یکجا ہوئے تو ان میں سے پانچ کپتانوں سے کیے گئے سوالات کا زیادہ تر حصہ ورلڈ کپ سے متعلق تھا۔

پانچوں کپتانوں کا یہ کہنا تھا کہ ورلڈ کپ میں ابھی کافی وقت پڑا ہے لہٰذا پہلے موجودہ ٹورنامنٹ یعنی ایشیا کپ پر توجہ مرکوز رکھی جائے لیکن اسے ورلڈ کپ کی تیاری کے حصے کے طور پر بھی دیکھا جائے۔

دبئی میں موجود نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق انڈین کپتان روہیت شرما کا کہنا تھا کہ ایک لحاظ سے آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایشیا کپ ورلڈ کپ کی تیاری کے عمل کا ایک حصہ ہے کیونکہ ہر ٹیم اپنے کامبی نیشن اور قوت کا اندازہ لگانے کے بعد ہی ورلڈ کپ میں جانا چاہتی ہے لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس وقت جو ذمہ داری آپ کو سونپی گئی ہے اس پر توجہ رکھی جائے بجائے اس کے کہ بہت دور کے بارے میں سوچا جائے۔

روہیت شرما کا کہنا تھا کہ اس ایشیا کپ میں ہر ٹیم کی نظر اس بات پر ہو گی کہ ورلڈ کپ کے لیے اس کا درست کامبی نیشن تیار ہو جائے اور اس کے لیے وہ بھرپور کوشش کرے گی۔ ورلڈ کپ سے پہلے ہر ٹیم کو کافی میچز کھیلنے ہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ کی طرف پاکستانی ٹیم کا سفر جاری ہے اور وہاں تک پہنچنے کے لیے اسے ایشیا کپ کے بعد آسٹریلیا نیوزی لینڈ جنوبی افریقہ اور انگلینڈ کے خلاف سیریز کھیلنی ہے لہٰذا کوشش کریں گے کہ اپنی کارکردگی میں بہتری لاتے جائیں تاکہ جب ورلڈ کپ میں پہنچیں تو ہمیں پتہ ہو کہ ٹیم کہاں کھڑی ہے۔

انڈین کرکٹ ٹیم بارہ سال کے طویل عرصے کے بعد پہلی مرتبہ متحدہ عرب امارات میں بین الاقوامی ون ڈے میچز کھیلنے آئی ہے۔

روہیت شرما سےجب پاک انڈیا کرکٹ کے روایتی جوش وخروش کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یقینی طور پر پاک انڈیا کرکٹ کی اپنی روایتی دلچسپی ہوتی ہے اور وہ بھی پاک بھارت میچ کے منتظر ہیں لیکن یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اس ٹورنامنٹ میں دوسری ٹیمیں بھی موجود ہیں جن کی نظریں ٹائٹل پر لگی ہوئی ہیں لہٰذا اس ٹورنامنٹ کے تمام میچز میں اچھا مقابلہ ہوگا اور توجہ صرف ایک میچ پر نہیں ہو گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

فاسٹ بولر محمد عامر کو جنوبی افریقا کے دورے میں پاکستان ٹیم میں دوبارہ شامل کئے جانے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ ایشیا کپ میں خراب کارکردگی کے بعد سلیکٹرز نے محمد عامر کو تینوں فارمیٹس کی ٹیم سے ڈراپ کر دیا تھا۔ اس دوران محمد عامر نے سوئی سدرن گیس کی جانب سے فرسٹ کلاس اور ون ڈے ٹورنامنٹ میں شرکت کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد عامر کو آف اسپنر بلال آصف کی جگہ ٹیم میں شامل کیا جائے گا جب کہ تیسرے اوپنر کی حیثیت سے شان مسعود کو ٹیم میں شامل کئے جانے کا امکان بھی روشن ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک رائے یہ بھی ہے کہ جنوبی افریقا کے دورے میں دو وکٹ کیپرز شامل ہوں، ایسے میں محمد بھی رضوان ٹیم کا حصہ بن سکتے ہیں۔ کپتان سرفراز احمد کی موجودگی میں پاکستان ٹیم میں ایک ریزرو وکٹ کیپر محمد رضوان کو شامل کیا جا رہا ہے۔ محمد رضوان پاکستان اے کی کپتانی کر رہے ہیں اور بیٹنگ کے شعبے میں مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ رضوان 649 رنز کے ساتھ 20 کیچ بھی وکٹوں کے پیچھے لے چکے ہیں۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ وکٹ کیپر محمد رضوان نے پاکستان کی جانب سے واحد ٹیسٹ نیوزی لینڈ کے خلاف ہیملٹن میں نومبر 2016 میں کھیلا تھا، جس میں وہ صرف 13 رنز تک محدود رہے۔ رضوان اب تک 25 ایک روزہ میچوں اور 10 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں پاکستان کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔ فخر زمان گھٹنے کی انجری کے باعث جنوبی افریقا کے خلاف سیریز کے پہلے ٹیسٹ سے آوٹ ہو چکے ہیں۔ ہیڈ کوچ مکی آرتھر ان فٹ اوپنر کو کھلاتے رہے جس سے فخر زمان کی تکلیف میں اضافہ ہو گیا۔ فخر زمان زمان آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں گھٹنے کی تکلیف کا شکار ہوئے تھے اور انہوں نے گھٹنے کی تکلیف کے بارے میں ٹیم انتظامیہ کو آگاہ کر دیا تھا۔ سلیکٹرز اور ٹیم انتظامیہ پُرامید ہے کہ فاسٹ بولر محمد عباس اہم سیریز سے قبل مکمل فٹ ہو جائیں گے۔ محمد عباس کی ٹیم میں شمولیت ان کی فٹنس سے مشروط ہے۔ جنوبی افریقا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستان ٹیم کو حتمی شکل دی جانے لگی ہے۔ تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ 26 دسمبر سے کھیلا جائے گا۔ ٹیسٹ سیریز سے قبل 19 دسمبر سے تین روزہ پریکٹس میچ بھی کھیلا جائے گا۔ ٹیسٹ ٹیم کے لئے پاکستان کی ممکنہ ٹیم میں کپتان سرفرازاحمد، محمد حفیظ، امام الحق، بابر اعظم، حارث سہیل، اظہر علی، سعد علی، حسن علی، میر حمزہ ،محمد عامر، فہیم اشرف، شاہین شاہ آفریدی، اسد شفیق اور یاسر شاہ شامل ہوں گے۔

دورہ جنوبی افریقا، محمد عامر کے ٹیم میں شمولیت کا امکان

فاسٹ بولر محمد عامر کو جنوبی افریقا کے دورے میں پاکستان ٹیم میں دوبارہ شامل ...