برطانوی رکن پارلیمنٹ شیرخوار بچے کے ہمراہ دارالعوام میں

برطانوی رکن پارلیمنٹ شیرخوار بچے کے ہمراہ دارالعوام میں

برطانیہ میں دارالعوام کے کسی بھی اجلاس میں پہلی بار اپنے بچے کو ساتھ لانے والی خاتون رکن کے مطابق وہ پرامید ہیں کہ پارلیمان میں جدت پسندی کی جانب پہلا قدم ہے۔

لبرل ڈیموکریٹ کی ڈپٹی رہنما جو سونسن جمعرات کے اجلاس میں پراکسی ووٹنگ پر بحث میں اپنے بیٹے گیبرل کے ساتھ شرکت کرنے آئی تھیں۔

جمعے کو بی بی سی سکاٹ لینڈ سے بات کرتے ہوئے جو سونسن نے کہا کہ انھیں محسوس ہوا کہ’ فطری کام کرنا چاہیے۔‘

اجلاس میں پہلے ہونے والی بحث میں وہ اپنے 11 ہفتے کے بیٹے کو ساتھ نہیں لائی تھیں لیکن بحث کے دوران ایوان سے اٹھ کر چلی گئیں تاکہ اپنے بیٹے کو خوراک دے سکیں اور اسی دوران ان کا بیٹا سو گیا۔

اور امید تھی کہ وہ اجلاس میں اختتامی تقاریر کو سننے کے لیے دوبارہ ایوان میں آئیں گی۔

ایسٹ ڈانبارٹونشائر سے منتخب رکن پارلیمان نے کہا کہ’ ان کے پاس آپشنز تھیں کہ اس( بیٹے) کو نیند سے جگایا جائے اور اس کے 20 منٹ کے لیے کسی کے حوالے کر دیا جائے یا اندر جائیں اور بیٹھ جائیں، اس میں کوئی نقصان بھی نہیں تھا اور وہ( بیٹا) زیادہ تر وقت میں سوتا رہا۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ پارلیمان میں جدت لانے کی جانب ایک قدم ہے جس میں یہ پیغام دینا ہے کہ والدین اپنے بچوں کے حوالے سے ذمہ داریاں اپنے کام کے ساتھ نبھا سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ہمیشہ اپنے بچوں کو کام پر ساتھ لائیں لیکن جب معاملہ چھوٹے بچوں کا ہو تو وہ لوگ جو کام کر رہے ہوتے تو اس میں ایک طریقہ یہ ہے کہ کام کی جگہ میں جدت پسندی لائی جائے اور اس کو ممکن بنانے کے لیے لچک دکھائی جائے۔

انھوں نے کہا کہ’جب حمل سے متعلق امتیازی رویے کے سبب ہر برس 54 ہزار خواتین اپنے نوکریاں کھو دیتی ہیں، تو بالخصوص یہ اہم ہے کہ ہم اس طرح کی چیزوں کو درست کریں کیونکہ یہ نہ صرف پارلیمان بلکہ ملک بھر میں کرنے کی ضرورت ہے جس میں کام کے جگہوں پر جدت پسندی لائی جائے تاکہ والدین اپنی ذمہ داریوں میں توازن پیدا کر سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

آسٹریلیا میں پاکستانی طالبعلم پر نسل پرستوں کا بہیمانہ تشدد

سڈنی: آسٹریلیا کی نیوکاسل یونیورسٹی کے پاکستانی طالب علم پر نسل پرستوں نے بہیمانہ تشدد کیا اور انہیں وطن واپس جانے کے لیے ...