مراکش کے مقبوضہ علاقے

تحریر:اظہر فاروق

انسانیت،خود مختاری ، جینے کی آزادی اور فریڈم آف سپیچ ایسے نعرے ہیں جو یورپ کے گلی کوچوں سے بلند ہوتے سنائی دیتے ہیں۔ انہی نعروں می بدولت ترقی یافتہ ممالک ترقی پذیر اور غریب ممالک میں مداخلت کرتے بھی نظر آتے ہیں۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا کو لاحق خطرات کو کم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ قائم ہوا جس کا مقصد سرحدوں کا احترام کروانا،ممالک کے درمیان تصفیہ طلب مسائل کا حل نکالنا۔ امن کا قیام یقینی بنانا اور انسانیت کی بھلائی اور ترقی کے لیے مل کر کام کرنا تھا۔

آج کے اس ترقی یافتہ اور آزادی کے دور میں دنیا کے چند خطے ایسے بھی ہیں جہاں کے باسی آزادی کی نعمت کو ترس رہے ہیں۔ ان میں مقبوضہ کشمیرکا علاقہ بھارتی تسلط سے آزادی کے لیے سسکیاں لے رہا ہے تو دوسری جانب فلسطین کے مسلمان قبلہ اول کی آزادی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں کے لیے میانمار کی زمین پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔

یہ چند علاقے تو ایسے ہیں جن کے بارے میں دنیا جانتی ہے لیکن اس کے علاوہ ایک اور مسلمان ملک بھی غیر ملکی تسلط کا غم سہہ رہا ہے اور وہ ہے مراکش

مراکش اسلامی تہذیب کا اہم مرکز ۔مراکش افریقہ کے شمال مغربی کونے پر واقع ساحلی ملک ہے۔ اس لیے یہ بہت سی تہذیبوں کی آماجگاہ ہے۔طلوع اسلام کے بعد اسلامی تہذیب اور پھر صدیوں تک عربوں کے زیر اثر رہنے کے باعث عرب تہذیب بھی یہاں مٹی میں شامل ہو گئی،، مراکش اور یورپ میں صرف ایک سمندری پٹی حائل ہے اسی لیے یورپی تہذیب بھی تیرتی ہوئی مراکش کے ساحلوں پر پہنچ چکی ہے،،

مراکش افریقہ میں سب سے دولت مند ملک اور بحیرہ روم میں داخلے کے راستے پر قائم ہے،،،اپنے بہترین محل وقوع کے باعث بیسویں صدی کے آغاز سے ہی فرانس کے حکمران مراکش میں بہت دخل اندازی کرنے لگے ۔1906ء میں الجزایرکانفرنس کے ذریعے مراکش میں فرانس کی “خصوصی حیثیت”اور فرانس اور اسپین کے مشترکہ قبضے کو تسلیم کیا گیا۔ یورپی قوتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ساتھ مراکش کا دوسرا بحران برلن نے پیدا کیا اور 30 مارچ 1912ء کو معاہدہ فاس کے تحت مراکش کو فرانس کی کالونی بنادیا گیا،، معاہدے کے تحت اسی سال 27 نومبر کو اسپین کو شمالی و جنوبی علاقوں کا قبضہ دیا گیا۔

قبضہ تو آخر قبضہ ہوتا ہے ،،، آزادی کی چنگاریاں جب جوانوں کے دلوں میں پھوٹ پڑیں تو پھر کوئی طاقت آزادی کے حصول کو روک نہیں سکتی،،دوسری جنگ عظیم کے بعد طے پانے والے میثاق اوقیانوس کے تحت مراکش کی کئی قومی سیاسی جماعتوں نے ملک کی آزادی کا مطالبہ کیا اور استقلال پارٹی نے پہلی مرتبہ 1944ء میں عوامی سطح پر آزادی کی آواز اٹھائی۔1953ء میں سلطان محمد پنجم کی مڈغاسکر جلاوطنی اور ان کی جگہ غیر مقبول محمد بن عارفہ کی تقرری نے ملک بھر میں فرانس کے خلاف زبردست ردعمل پیدا کیا۔ اس دوران سب سے مشہور واقعہ اوجدا میں مراکشی باشندوں کو فرانس اور دیگر یورپی باشندوں کی رہائش گاہوں پر حملہ تھا۔ فرانسیسی قبضے کے خلاف یکم اکتوبر 1955ء کو “آرمی ڈی لبریشن”قائم کی گئی جس کا قیام “کمیٹی ڈی لبریشن ڈو مغرب عرب” نے قاہرہ، مصر میں کیا۔ اس کا ہدف سلطان محمد پنجم کی وطن واپسی اور الجزائر اور تیونس کی آزادی تھا۔ فرانس نے 1955ء میں محمد پنجم کو وطن واپسی کی اجازت دی اور مذاکرات کا آغاز ہوا جو بالآخر اگلے برس مراکش کی آزادی پر متنج ہوئے۔

آزادی کے حصول کے بعد مراکش نے اسپین کے زیر قبضہ شہروں سیوٹا اور میلیلا کا کنٹرول واپس لینے کے لیے بھی دعویٰ کیا۔ ان علاقوں میں ہسپانوی شہری لاکھوں کی تعداد میں آباد ہیں۔اسپین ان علاقوں کو اپنا حصہ مانتا ہے اور وہاں اسپین کا ہی قانون نافذ ہے۔ مراکش کے شہریوں کو اپنی سر زمین پر اپنے ہی شہروں میں جانے کے لیے ویزے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ظلم و بربریت اور قبضے کا دور کتنا ہی لمبا کیوں نہ ہو ایک دن آزادی کا سورج ضرور طلوع ہوتا ہے۔ اور مراکش کے شہری بھی اس امید پر سیوٹا اور میلیلا کی آزادی کے لیے پر امید ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

وفادار غدار کیو ں بنتے ہیں

انتخابات دو ہزار اٹھارہ کل کے دوست آج کے دشمن بنے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں اور کل کے ...