فیصل آباد میں جیت کس کی ہوگی؟

دو گھنٹے کے آرام دہ سفر کے بعد ہم پنجاب کے دل لاہور سے نکل کر اس کے دوسرے بڑے شہر فیصل آباد پہنچے جو کے پنجاب کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ سال 2017 کی مردم شماری کے مطابق شہر کی کل آبادی سات لاکھ کے قریب ہے جس کی وجہ سے لاہور کے بعد یہ دوسرا شہر ہے جس میں 10قومی اور 21 صوبائی حلقے ہیں۔ لاہور کی طرح فیصل آباد میں بھی اکثریت مسلم لیگ ن کی ہے۔ گزشتہ انتخابات کی مثال لی جائے تو فیصل آباد میں مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی کی 11 میں سے 10 اور صوبائی اسمبلی کی 22 میں سے 21 نشستیں حاصل کی تھیں۔

لیکن اس با ر جیت کس کی ہوگی؟ کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔

این۔اے 102 سے گزشتہ سال جیت کا تاج پہننے والے طلال چوہدری اس بار پھر میدان میں ہیں۔ سال 2013 میں این۔اے 102 میں ایک لاکھ ووٹوں کے ساتھ انھوں نے شاندار جیت حاصل کی تھی۔ لیکن اس بار قومی اسمبلی کے سابق رکن ، پی ٹی آئی کے نواب شیر وسیر ایک مضبوط حریف کی شکل میں ان کے مد مقابل ہیں۔

نواب شیر وسیر نے اپریل میں پاکستان پیپلز پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔ شیر وسیر نے 2008 میں یہ حلقہ اپنے نام کیا لیکن 2013 میں طلال چوہدری نے انہیں شکست دی ۔

طلال چوہدری اس وقت ایک زخمی شیر کی طرح خطرناک ہیں کیونکہ سپریم کورٹ میں ان کے خلاف توہین عدالت کیس چل رہا ہے۔ ان تمام مشکلات کے باوجود 44 سالہ طلال چوہدری اس حلقے میں اپنے قدم مضبوط کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے ہی مد مقابل اپنے چچا کو دستبردار کروا کے اس حلقے میں اپنی پوزیشن کافی بہتر کر چکے ہیں۔

سال 2013 میں عمران خان کی سیاسی جماعت تحریک انصاف آئی قدرے کمزور اور منتشر جماعت کی طرح نظر آئی تھی لیکن اب 2018 میں تحریک انصاف ایک بہت ہی منظم اور مضبوط جماعت بن کر ابھری ہے۔ پاکستان کے دیگر شہروں کی طرح فیصل آباد میں اپنے قدم جمانے کے لئے تحریک انصاف اپنے منتخب شدہ نمائندوں اور قابل سیاستدانوں پر منحصر کر رہی ہے۔ شہر کے بہت سے حلقوں میں بظاہر مقابلہ مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ن کے سابق ارکان کے درمیان ہی دکھائی دے رہا ہے۔

این۔اے 101میں اس بار تحریک انصاف نے غلام رسول ساہی کے بیٹے ظفر ذوالقرنین ساہی سمیت ساہی خاندان کے تین لوگوں کو پارٹی ٹکٹ دیا ہے۔ ساہی صاحب اس جماعت کے ایک نئے کھلاڑی ہیں۔ سال 2013 میں انہوں نے بطور مسلم لیگ ن امیدوار این اے 75 (موجودہ این اے101 ) سے کامیابی حاصل کی تھی لیکن مئی میں انہوں نے پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔

فیصل آباد سے مسلم لیگ ن کے ایک اور منجھے ہوئے مضبوط امیدوار رانا ثنااللہ پہلی بار قومی اسمبلی کی سیٹ سے کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہے جب وہ پارلیمانی سیٹ کے لئے الیکشن لڑیں گے اور ان کے مدمقابل مسلم لیگ ن چھوڑ کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والے ڈاکٹر ثاقب جٹ ہوں گے۔

سیاسی ماہرین کے مطابق یہاں اصل اور سخت مقابلہ نثار جٹ اور رانا ثنااللہ کے درمیان ہی ہوگا جب کہ دوسری طرف مذہبی رہنماؤں کا بھی شہر میں کافی بڑا ووٹ بینک موجود ہے، جن میں سب سے زیادہ پیر خواجہ حمیدالدین سیالوی ہیں جو فیصل آباد، چنیوٹ، جھنگ اور سرگودھا میں کافی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ گزشتہ سال پیر سیالوی نے مسلم لیگ ن سے علیحدگی کا اعلان کیا اور اس مہینے کے شروع میں وہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ساتھ ایک تصاویر میں نظر آئے۔ یہ تمام چیزیں الیکشن میں کیا کردار ادا کریں گی یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔

جیو الیکشن سیل کے سینئر پروڈیوسر ماجد نظامی کا کہنا تھا کہ این اے 148 میں اس بار بلے کے امکانات زیادہ دکھائی دے رہے ہیں۔ تحریک انصاف نے بہت ہی شاندار طریقے سے مسلم لیگ ن مخالف ووٹ بینک کو اپنی پارٹی کی چھت تلے جمع کر لیا ہے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق کے بہت سے مضبوط امیدوار اب تحریک انصاف کا حصہ ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فیصل آباد سے قومی اسمبلی کی دس میں سے 6 سیٹوں پر ابھی بھی مسلم لیگ ن کا کافی مضبوط ہے تاہم بقیہ نشستیں تحریک انصاف کے پاس جا سکتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

تحریک انصاف کی طرح تحریک لبیک سے بھی درگزر کیا جائے، مفتی منیب الرحمان

تحریک انصاف کی طرح تحریک لبیک سے بھی درگزر کیا جائے

مفتی منیب الرحمان نے کہا ہے کہ مقتدر قوتوں نے جس طرح 2014 کے دھرنے ...