اجتماعی تشدد: سپریم کورٹ کو یاد کیوں دلوانا پڑا؟

انڈیا کی سپریم کورٹ نے ملک میں ہجوم کے ہاتھوں بڑھتے ہوئے‎ تشدد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گائے کے تحفظ یا بچوں کے اغوا کے شبہے میں کیا جانے والا اجتماعی تشدد ایک سنگین جرم ہے اور اسے روکنا سبھی ریاستوں کی ذمے داری ہے۔

عدالت عظمٰی نے یہ ریمارکس راجستھان، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں کے خلاف توہین عدالت کی ایک درخواست کی سماعت کے دوران دیے۔ اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان ریاستوں نے ہجومی تشدد روکنے کے لیے ‏عدالت عظمی کی ہدایات پر عمل نہیں کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے ستمبر میں یہ حکم دیا تھا کہ ’ماب لنچنگ‘ روکنے کے لیے ملک کے ہر ضلع میں ایک اعلی پولیس افسر مقرر کیا جائے جو اس طرح کے واقعات روکنے کے لیے حالات پر گہری نظر رکھے۔

اس مدت میں ملک کی مختلف ریاستوں میں بیس سے زیادہ افراد کو ہجومی تشدد کے ذریعے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ تازہ ترین واقعہ گذشتہ ہفتے مہاراشٹر میں رونما ہوا جس میں ہزاروں کے پر تشدد ہجوم نے پولیس کی موجودگی میں پانچ افراد کو مار مار کر ہلا کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

مسلمان بھی ہجومی تشدد میں کسی سے کم نہیں

لنچنگ رپبلک آف انڈیا

ماب لنچنگ کے واقعات گائے کے تحفظ کے نام پر شروع ہوئے تھے لیکن تازہ ترین واقعات میں بچوں کے اغوا کرنے والوں کے شبہے میں لوگوں کو بے دردی سے مارا گیا ہے۔ آسام میں کچھ دنوں پہلے ایک نوجوان موسیقار اور ایک آرٹسٹ کو جنونی بھیڑ نے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔

ملک میں سوشل میڈیا پر مسلمانوں اور لبرل خیالات کے حامل صحافیوں اور دانشوروں کے خلاف نفرت کے پیغامات کی ایک لہر چل رہی ہے۔ ہر روز سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف جھوٹے پیغامات اور فرضی ویڈیو کے ذریعے نفرت پیدا کی جا رہی ہے۔

ہر اجتماعی تشدد کے خوفناک منظر با قاعدہ طور پر ویڈیو پر ریکارڈ کیے جاتے ہیں اور اجتماعی اور عوامی قتل کے اس پورے منظر کو بالخصوص گائے کے نام پر ہونے والے تشدد کے ویڈیوز پورے اعتماد کے ساتھ سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا جاتا ہے۔

ہندوتوا

سماجی ماہرین کا خیال ہے کہ اس کا مقصد مسلمانوں اور دوسرے کمزور طبقوں کو خوفزدہ اور مغلوب کرنا ہے۔ بیشتر واقعات میں پولیس مظلوم کے خلاف مقدمے درج کرتی ہے اور قاتل ہجوم کے خلاف کوئی عمومآ کوئی کارروائی نہیں ہو پاتی۔

حقوق انسانی کے سرکردہ کارکن ہرش میندر نے ہجوم کے ہاتھوں تشدد میں ہلاک ہونے والے بیشترافراد کے رشتے داروں سے ملاقات کی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ انڈیا کی طرح دنیا کے کئی ممالک میں مذہبی اقلیتوں اور نسلی مائگرینٹس کے خلاف نفرت اور انتہا پسند قوم پرستی کے رحجانات ملتے ہیں لیکن کہیں پر بھی ایسا نہیں ہے کہ اقلیتی شناخت کے لوگوں پر حملے کرتے رہنے کے لیے ہجوم کی حوصلہ افزائی ہوتی ہو۔

انھوں نے لکھا ہے ‘ہم اپنے ملک میں ایسے لوگوں کو منتخب کر رہے ہیں جو جذبات سے عاری لگتے ہیں جو نفرتوں کے تشدد پر کبھی دکھ کا اظہار نہیں کرتے۔ یہاں رہنما اور پولیس مقتول کے خلاف قاتلوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسا معاشرہ ہو چکا ہے جہاں بچے اور نوجوان دوسرے انسانوں سے صرف اس لیے نفرت کرتے ہیں، انہیں سنگسار کر کے یا زد و کوب کر کے قتل کر دیتے ہیں کیونکہ وہ ان کے مذہب یا ذات کے نہیں ہیں۔’

ہرش میندر نے لکھا ہے کہ انڈیا ‘ نفرتوں کی جمہوریت ‘ بن گیا ہے۔

انڈیا کے سینکڑوں نیوز چینل مختلف زبانوں میں تقریباً روزانہ کسی نہ کسی ریاست میں رونما ہونے والے ہجوم کے ہاتھوں تشدد کا منظر دکھاتے ہیں۔

مذہبی اور ذات پات پر مبنی تشدد بی جے پی سے پہلے بھی ہوتے رہے لیکن انہیں عموماً اجتماعی یا سیاسی حمایت حاصل نہیں ہوتی تھی۔ بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد شدت پسند ہندو تنظیموں نے مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف کھلے عام نفرت انگیز بیانات اور پیغامات دینا شروع کیا ہے۔ بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں مسلمان خوفزدہ ہیں۔ پولیس اور حکومتی اہلکار بھی حکمراں جماعت سے وابستہ وجے لانتے گروپوں کے شدید دباؤ میں ہیں۔

حکومت ان واقعات پر عمومآ خاموش ہے یا اس کا مبہم رویہ نفرت پرمبنی تشدد روکنے میں ناکام رہا ہے۔ ہجومی تشدد اب گائے کے تحفظ سے نکل کر دلت، قبائلی اور دوسرے کمزور طبقوں تک پھیل گیا ہے۔ ایسا لگنے لگا ہے کہ اس کی لپیٹ میں اب کوئی بھی آ سکتا ہے۔

ہجومی تشدد کے واقعات نے دنیا میں انڈیا کی شبیہ کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا حالیہ عشروں میں شاید کسی اور واقعے نے نہیں پہنچایا۔ حال ہی میں دلی میں پوری دنیا میں میں مامور انڈیا کے تقریباً ڈیڑھ سو سفیروں کی ایک کانفرنس میں حکومت نے زور دیا کہ وہ ملک کی خراب ہوتی ہوئی امیج کو بہتر بنانے کے لیے موثر اقدامات کریں۔

حکمراں بی جے پی غیر ملکی اخبارات اور غیر ملکی میڈیا سے برہم ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ غیر ملکی میڈیا انڈیا کی امیج بین الاقوامی سطح پر جان بوجھ کر خراب کر رہا ہے۔ ملک کے اخبارات اور بیشتر ٹی وی چینل حکومت کے ہمنوا ہو چکے ہیں۔

ملک میں چند مہینوں میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے نفرت کی سیاست اور ہجومی تشدد میں ملک کے رائٹ ونگ ہندوتوا کے نظریے اور اس کی سیاست کا بڑا دخل تھا ۔ مذہبی شناخت لوگوں کے انفرادی شعور میں داخل ہو چکی ہے۔ اور اس کے اثرات ملک کی سیاست اور معاشرے پر بہت گہرے ہوں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

فرانس ’حلال ٹیکس‘ کیوں نافذ کرنا چاہتا ہے؟

فرانس ’حلال ٹیکس‘ کیوں نافذ کرنا چاہتا ہے؟

اگر فرانس کے صدر امانوئل میکخواں نے ایک نئی رپورٹ تسلیم کر لی تو ملک ...