اب کسی بھی ملک کو امریکا سے تجارتی فائدہ نہیں اٹھانے دیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ

اب کسی بھی ملک کو امریکا سے تجارتی فائدہ نہیں اٹھانے دیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے یورپی اتحادیوں پر واضح کیا ہے کہ امریکا اب کسی طور پر  کسی ملک کو تجارتی فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنگاپور پہنچتے ہی سوشل میڈیا پر اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ اگر دو طرفہ تجارت شفاف اور برابری کی بنیاد پر نہ ہو تو اسے بے وقوفانہ تجارت کہا جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید لکھا کہ ’’کینیڈا کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وہ امریکا کے ساتھ تجارت کے ذریعے 100 ارب ڈالر کماتا ہے۔( اندازہ لگائیں کہ انہوں نے شیخیاں بکھیریں اور پکڑے گئے)۔ کم سے کم 17 ارب ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو سے کچھ کہا جائے تو انہیں برا لگتا ہے۔

ان کا کہنا تھا میں بطور امریکی صدر کیوں دوسرے ممالک کو اجازت دوں کہ وہ ہم سے بڑے پیمانے پر منافع کمائیں جیسا کہ وہ دہائیوں سے کما رہے ہیں جس کی ہمارے کسان، ورکرز اور ٹیکس دہندگان کو بڑی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ 800 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ امریکی عوام کے ساتھ انصاف نہیں ہے۔

امریکی صدر نے اپنی ٹوئٹ میں یاد دہائی بھی کرائی کہ امریکا نیٹو کے بجٹ کا بڑا حصہ ادا کرتا ہے اور ان ممالک کی حفاظت کرتا ہے جو ہمیں تجارت میں نقصان پہنچاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ممالک نیٹو کے بجٹ کا چھوٹا سا حصہ دے کر ہنستے ہیں، یورپی یونین کا تجارتی منافع 151 ارب ڈالر ہے تو انہیں نیٹو کے فوجی اخراجات بھی زیادہ ادا کرنے چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’جرمنی جیسا ملک اپنی جی ڈی پی کا صرف ایک فیصد نیٹو کو دیتا ہے جب کہ امریکا ایک بڑی معیشت ہوتے ہوئے اپنی جی ڈی پی کا 4 فیصد نیٹو کو دیتا ہے۔ کیا اس چیز کو ذہن قبول کرتا ہے، ہم بڑے معاشی نقصان کے ساتھ یورپ کی حفاظت کرتے ہیں اور بدلے میں ہمیں غیر شفاف تجارتی خسارہ ملتا ہے۔ تبدیلی آ رہی ہے۔‘‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں معذرت کرتے ہوئے لکھا کہ ہم اپنے دوستوں اور دشمنوں کو ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ امریکا سے مزید تجارتی فائدہ اٹھائیں، ہماری اولین ترجیح امریکی ملازمین ہوں گے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا میں ہونے والی جی سیون کانفرنس میں شرکت کی تھی تاہم وہ شرکت کے اعلامیے کی توثیق کیے بغیر ہی شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ ان سے ملاقات کے لیے سنگاپور روانہ ہو گئے تھے۔

کانفرنس میں شریک ممالک نے امریکی صدر کے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

مصر :السیسی 92 فیصد ووٹ لیکر دوبارہ صدر منتخب

  عبدالفتح السیسی 92 فیصد ووٹ لے کر دوسری مدت کیلئے مصر کے صدر منتخب ہوگئے۔ مصر کے سرکاری میڈیا کے مطابق عبدالفتح ...