ماں کے پیارے جھوٹ

مہر منظور جونیئر، ساہیوال

میں ایک غریب فیملی کا اکلوتا بیٹا تھا۔ والد صاحب وفات پا چکے تھے۔ ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہ تھا اور اگر کھانے کو کچھ مل جاتا تو ماں اپنے حصے کا کھانا بھی مجھے دیتی اور کہتی۔ تم کھا لو، مجھے بھوک نہیں ہے۔ یہ میری ماں کا پہلا جھوٹ تھا۔

ایک روز میرا فائنل امتحان تھا۔ اس نے ضد کی وہ بھی میرے ساتھ چلے گی۔ میں اندر پیپر دے رہا تھا اور وہ باہر دھوپ میں کھڑی میرے لئے دعا کررہی تھی۔ میں باہر آیا تو اس نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا اور مجھے ٹھنڈا جوس دیا جو اس نے میرے لئے خریدا تھا۔ میں نے جوس کا ایک گھونٹ لیا اور ماں کے پسینے سے شرابور چہرے کی طرف دیکھا تو میں نے جوس ان کو دیا۔ وہ بولی۔ نہیں بیٹا! تم پیو، مجھے پیاس نہیں ہے۔ یہ میری ماں کا دوسرا جھوٹ تھا۔

جب میں نے تعلیم مکمل کرلی تو مجھے ایک اچھی ملازمت مل گئی۔ ماں دوسروں کے گھروں میں کام کرتی تھی، ملازمت ملنے کے بعد میں نے ماں کو گھروں میں کام کرنے سے منع کردیا اور اپنی تنخواہ میں سے ان کیلئے کچھ رقم مختص کردی۔ اس نے لینے سے انکار کردیا اور کہا۔ میرے پیسے پاس ہیں، مجھے پیسوں کی ضرورت نہیں۔ یہ میری ماں کا تیسرا جھوٹ تھا۔

میری ماں بہت بوڑھی ہوگئی اور انہیں کینسر ہوگیا۔ ان کی دیکھ بھال کے لئے کسی مدد گار کی ضرورت تھی۔ میں سب کچھ چھوڑ کر ان کے پاس پہنچ گیا۔ وہ بستر پر لیٹی ہوئی تھی۔ مجھے دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کی۔ میرا دل ان کی حالت پر خون کے آنسو رو رہا تھا۔ وہ بہت لاغر ہوگئی تھی۔ میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ وہ کہنے لگی، مت رو بیٹا! میں ٹھیک ہوں، مجھے کوئی تکلیف نہیں۔ یہ میری ماں کا چوتھا جھوٹ تھا۔

دو دن بعد میری ماں نے ہمیشہ کیلئے آنکھیں بند کرلیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

ڈیرہ غازی خان میں خوفناک حادثہ،20 افراد جاں بحق

حادثہ ڈیرہ غازی خان کے علاقے سرور والی کے قریب اس وقت پیش آیا جب ...