رمضان کے دوران چینلز پرناچ گانے،لاٹری،جوا،سرکس والے پروگرامز پرپابندی

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز نے سحر اور افطار ٹرانسمیشن میں اچھل کود،ڈانس لاٹری،جوااورسرکس پر مشتمل پروگراموں پر پابندی عائدبند کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ عامر لیاقت، وسیم بادامی، ساحر لودھی اور فہد مصطفیٰ باز آجائیں ورنہ پابندی لگا دیں گے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں رمضان ٹرانسمیشن اور مارننگ شوز کے ضابطہ اخلاق سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران ہائی کورٹ جج نے فریقین کے دلائل مکمل کرنے کے بعد کیس کا محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ رمضان کے دوران لاٹری، جوا اور سرکس پر مشتمل پروگراموں پر پابندی عائد کی جائے، جب کہ وزارت اطلاعات، داخلہ اور پیمرا عدالتی حکم پر عمل درآمد کرائیں۔ عدالت نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ رمضان میں تمام چینلز5وقت مسجدالحرام اور مسجد نبوی کی اذان نشرکریں، تمام چینلز یقینی بنائیں کہ رمضان کے تقدس پر سمجھوتہ نہ ہو۔

 

اس سے قبل جسٹس شوکت عزیز نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی موضوعات پر کرکٹرز اور اداکاروں کو بیٹھا دیا جاتا ہے، اسلام پر پی ایچ ڈی اسکالر سے کم کوئی بات نہیں کرے گا، حمد، نعت اور تلاوت سب موسیقی کے ساتھ چل رہے ہیں، ملک کے 117 ٹی وی چینلز میں سے صرف 3 ہی اذان نشر کرتے ہیں۔

 

جسٹس شوکت نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ حمد ،نعت اور تلاوت، سب موسیقی کے ساتھ یہ سب کیا تماشا ہے؟ ، یہ اچھل کود کلچر ڈاکٹر عامر لیاقت نے متعارف کرایا، باقی سب تو شاگرد ہیں۔

 

متعلقہ شوز کے میزبانوں کو انتباہ جاری کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ عامر لیاقت، ساحر لودھی، فہد مصطفے اور وسیم بادامی ایسی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ان پر تاحیات پابندی لگا دی جائے گی، سحر اور افطار کے اوقات میں ناچ گانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

 

فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ کرکٹ میچ پر تبصرے کیلئے غیر ملکی ماہرین کی خدمات لی جاتی ہیں اور اسلام پر بات کرنے کیلئے کرکٹرز اور اداکاروں کو بٹھا دیا جاتا ہے، اداروں کیخلاف بات سنسر ہوتی ہے تو دین کیخلاف کیوں نہیں ہوسکتی۔

 

انہوں نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ مغرب کی اذان سے پانچ منٹ پہلے اشتہارات نہیں بلکہ درود شریف یا قیصدہ بردہ شریف نشر کیا جائے، جب کہ پاکستان میں انڈین چینلز کو آپریٹ کرنے سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔

علماء کا رد عمل

رمضان ٹرانسمیشن کو اخلاقی ضابطے میں لانے کے عدالتی حکم پر علماء نے فیصلہ پسندیدہ قرار دے دیا۔ سماء سے خصوصی گفت گو میں بلال قطب کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر سختی سے عمل درآمد ہونا چاہیئے۔ مفتی رشید احمد خورشید نے فیصلے کو پسندیدہ قرار دے دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

قرض کیلئے اگلے ماہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کرینگے :اسد عمر

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض کے ...