میری یہ پہلی شادی ہے اور تجربہ بھی نہیں لہٰذا۔۔۔ “محکمہ صحت خانیوال کے ملازم نے چھٹی کیلئے ایسی درخواست دیدی کہ پڑھ کر آپ کیلئے بھی ہنسی روکنا مشکل ہوجائے گا

محکمہ صحت کے ملازم کی شادی پر چھٹی کی انوکھی درخواست

شادی ہر مرد اور خاتون کی زندگی میں بہت اہم مرحلہ ہے اور اس مرحلے کو بخوبی انجام دینے کے لیے ہر لڑکا اپنی بھر پور کوشش کرتا ہے ۔نوکری پیشہ افراد شادی کے موقع پر اپنے اداروں سے چھٹیاں بھی حاصل کرتے ہیں تاکہ ان لمحات کو بھر پور طریقے سے گزارا جا سکے اور شادی کی تقریبات سے متعلق تمام تر ذمہ داریا ں بھی بخوبی طریقے سے ادا کی جا سکیں ۔اسی طرح ایک شخص نے اپنی شادی کے موقع پر اپنے ادارے سے چھٹی مانگنے کے لیے ایسی درخواست دے دی کہ پڑھ کر آپ بھی ہنسنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔
جہانیاں کا رہائشی غلام مرتضی محکمہ صحت کا ملازم ہے ،اس نے اپنی شادی کے موقع پر دفتر کو درخواست میں کہا کہ مودبانہ گزارش ہے کہ فدوی کی شادی خانہ آبادی اپریل کے مہینے میں مورخہ 6,7,8کو سرانجام ہونا قرار پائی ہے ۔فدوی کی یہ پہلی شادی ہے اور فدوی کے پاس تجربہ بھی نہیں ہے ۔لہذا محکمہ صحت اپنے مفید مشوروں سے بھی نوازے اور چھٹیوں سے بھی کیونکہ بندہ نے آج تک کوئی بھی چھٹی نہیں لی ہے ،فدوی کے برداری رسوم و رواج کے مطابق شادی سے پانچ روز قبل دولہا کو گھر سے نکلنے کی اجازت نہ ہے اور شادی کے بعد فدوی کو بذات خود سنبھلنے کے لیے بھی ایک ہفتہ درکار ہے ۔مہر بانی فرما کر کل ملا کر 15یوم کی رخصت مورخہ 2/4/18تا16/4/18عنائت کی جائے ۔حضور کی سر آنکھوں پر نوازش و کرم نوازی ۔سوشل میڈ یا پر لوگ چھٹی کی اس درخواست کو دیکھ کر خوب لطف اندوز ہوئے ۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

سپریم کورٹ آف پاکستان میںسی ڈی اے میں ڈیپوٹیشن پر آئے افسران سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار اور وکیل نعیم بخاری کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ٹی وی پر بیٹھ کر آپ بھی بہت باتیں کرتے ہیں، عدلیہ پر جائز تنقید کرنی چاہیے، جائز تنقید سے ہماری اصلاح ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ روز کسی نے چیف جسٹس پاکستان کے کراچی میں لگے اشتہارات کےبارے میں بات کی، ان کو یہ نہیں معلوم میں نے خود وہ اشتہارات ہٹانے کا حکم دے رکھا ہے،اگرمیں آج پابندی لگادوں تو بہت سے لوگوں کا کام بند ہوجائےگا۔ نعیم بخاری نے کہا کہ جوڈیشل مارشل لاء کےبارے میں بہت سی باتیں ہو رہی ہیں۔ چیف جسٹس نے ان سے سوال کیا کہ جوڈیشل این آر او کیا ہوتا ہے؟ میں واضح کردوں، کچھ نہیں آرہا، ملک میں نہ جوڈیشل این آر او اور نہ ہی جوڈیشل مارشل آرہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں صرف آئین رہے گا، باقی کچھ نہیں ہوگا، ملک میں صرف جمہوریت ہوگی باقی کچھ نہیں رہے گا۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ اگرمیں یہ کہہ دوں کچھ نہیں آرہا تو کئی لوگوں کے ٹی وی پروگرام بند ہو جائیں گے۔

ٹی وی پر بیٹھ کر آپ بہت باتیں کرتے ہیں، چیف جسٹس

سپریم کورٹ آف پاکستان میںسی ڈی اے میں ڈیپوٹیشن پر آئے افسران سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان ...