عالمی اُفق: حسن روحانی کا دورئہ بھارت ، خطے پر اثرات

فروری کے وسط میں ایرانی صدر، حسن روحانی نے بھارت کا تین روزہ دورہ کیا، جو اُن کا اپنے دَورِ صدارت میں دہلی کا دوسرا دورہ تھا۔ اس دوران دیگر مختلف معاہدوں کے ساتھ ایرانی بندر گاہ، چاہ بہار سے متعلق یہ فیصلہ بھی ہوا کہ یہ بندرگاہ18ماہ کے لیے بھارت کو ٹھیکے پر دی جائے گی، تاکہ وہ اس کا نظم و نسق چلاسکے۔ اس موقعے پر بھارت اور ایران نے افغانستان میں مختلف اُمور پر ایک دوسرے سے تعاون کا اظہار کیا اور دِفاع، سیکوریٹی، توانائی اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں مل کر کام کرنے کے معاہدوں اور ایم او یوز پر دست بھی خط ہوئے۔ نیز، ایران نے بھارت کو اپنے گیس و تیل کے ذخائر میں حصّہ دار بنانے اور بھارتی شہریوں کے لیے ویزے میں نرمی کا بھی اعلان کیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، بھارتی وزیرِ اعظم، نریندر مودی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں صدر روحانی کا کہنا تھا کہ ’’دونوں ممالک کے عوام کے رشتے سیاسی و اقتصادی تعلقات سے کہیں بالاتر ہیں۔‘‘ خیال رہے کہ پاکستان کے لیے چاہ بہار بندر گاہ اور افغانستان دونوں ہی بہت اہم ہیں اور ان دونوں معاملات کی اہمیت ایسے میں مزید بڑھ جاتی ہے کہ جب ان میں پاکستان کا دیرینہ دشمن اور برادر اسلامی مُلک دِل چسپی لے رہا ہو۔

ایرانی صوبے، سیستان کی اہم بندر گاہ، چاہ بہار میں بھارت کا عمل دخل اب کوئی ڈھکی چُھپی بات نہیں رہی اور اس ضمن میں ایران، بھارت اور افغانستان کے درمیان معاہدے بھی ہو چُکے ہیں۔ خطّے میں پائی جانے والی کشمکش کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے چاہ بہار کی تجارتی و فوجی اہمیت کسی طور نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ خیال رہے کہ اس وقت ایران اور عرب ممالک کے درمیان مختلف محاذوں پر علاقائی برتری کی جنگ جاری ہے۔ یہ دونوں فریق شام اور عراق میں مختلف متحارب گروہوں کی حمایت کرتے ہیں اور ساتھ ہی تیل کے کاروبار میں بھی ایک دوسرے کے حریف ہیں۔ ماضی میں بحرِ ہند میں ایران کے پاس کوئی ایسی بندرگاہ موجود نہیں تھی کہ جو جدّت اور وُسعت کی حامل ہو، جب کہ اقتصادی پابندیاں اُٹھنے کے بعد ایران میں اپنی معاشی ضروریات کے پیشِ نظر تیل کی رسد بڑھانے کی خواہش پیدا ہوئی، جس میں چاہ بہار پورٹ کا کردار اہم ہو گا۔ اس بندرگاہ کی مدد سے ایران نہ صر ف بحرِ ہند کے راستے بھارت کو تیل سپلائی کر سکے گا، بلکہ چین، جاپان، مشرقِ بعید کے دوسرے ممالک اور برِ اعظم امریکا تک رسائی حاصل کرنے میں کام یاب ہو جائے گا۔ نیز، صرف ایک سو میل کے فاصلے پر چین کے تعاون سے تعمیر ہونے والی پاکستان کی گوادر بندرگاہ پر بھی نظر رکھ سکے گا اور چاہ بہار پورٹ پر بھارت کی موجودگی اس کے لیے تجارتی و فوجی طور پر اہمیت کی حامل ہو گی۔ یہاں یہ اَمر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ممبئی اور چاہ بہار پورٹ کا درمیانی فاصلہ ممبئی اور دہلی کے درمیان فاصلے سے بھی کم ہے اور چاہ بہار پورٹ کی صورت بھارت کو خلیجِ اومان میں ایک ایسی بندرگاہ مل گئی ہے کہ جو مشرقِ وسطیٰ سے آنے والے مال بردار جہازوں کے اسٹرٹیجک رُوٹ پر ہے۔ پھر ایرانی بندرگاہ کی وجہ سے بھارتی بحریہ کو بحرِ ہند میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے میں بھی سہولت ہو گی، جس کا ممبئی کی جدید بھارتی بندرگاہ سے بہ آسانی رابطہ ہو گا۔

یوں تو بھارت اور ایران کے درمیان ہمیشہ ہی سے قریبی روابط رہے ہیں، لیکن ان میں مزید مضبوطی اُس وقت پیدا ہوئی کہ جب ایران پر اقتصادی پابندیاں عاید ہونے اور امریکا اور یورپی ممالک کے دبائو کے باوجود بھارت نے اس سے تیل کی خریداری جاری رکھی۔ بھارت، ایران سے اپنی ضرورت کا 11فی صد تیل خریدتا ہے، جس پر تہران، دہلی کا شکر گزار ہے اور ایران پر سے پابندیاں اُٹھنے کے بعد بھارت ترقّیاتی منصوبوں میں بھی اس کی مدد کر رہا ہے۔ اقتصادی مشکلات کا شکار ہونے کے باوجود ایران 600ارب ڈالرز کی اقتصادی قوّت ہے اور اس نے چاہ بہار سے افغانستان تک 800کلو میٹر طویل سڑک بھی تعمیر کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چاہ بہار پورٹ کی وجہ سے گوادر بندرگاہ کی اہمیت پر ا ثر پڑے گا کہ ایران، پاکستان سے ناراض ممالک کو اپنی مصنوعات کی ترسیل کے لیے چاہ بہار پورٹ کی سہولت فراہم کر سکتا ہے۔

بھارت سب سے زیادہ تیل استعمال کرنے والی دُنیا کی چار معیشتوں میں شامل ہوچُکا ہے اور وہ اپنی توانائی کی 33فی صد ضروریات تیل سے پوری کرتا ہے، جس میں سے 65سے 70فی صد تیل زیادہ تر خلیجی ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، مستقبل میں بھارت، ایران سے اپنی ضرورت کا 90فی صد تیل خریدے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ2030ء تک بھارت دُنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا مُلک بن سکتا ہے اور اسے اپنی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بحرِ ہند پر زیادہ توجّہ دینا ہوگی۔ آج بھارت، کوئلہ جنوبی افریقا، انڈونیشیا اور آسٹریلیا سے منگواتا ہے، جب کہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) ملائیشیا ور انڈونیشیا سے درآمد کرتا ہے۔ دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس وقت خلیجی ممالک میں 35لاکھ سے زاید بھارتی باشندے کام کر رہے ہیں، جو ہر سال اپنے مُلک میں 4ارب ڈالرز سے زاید کا زرِ مبادلہ بھیجتے ہیں اور اب اپنے ان تارکینِ وطن اور زرِمبادلہ کی حفاظت کے لیے بھی بحرِ ہند بھارت کے لیے اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ بھارت نے ایران کے ساتھ اربوں ڈالرز کا ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت ایران آیندہ 25برس تک اس کی تیل کی ضروریات پوری کرے گا۔ اس معاہدے کے اسلامی دُنیا پر خاصے گہرے اثرات مرتّب ہوں گے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارتی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اسلامی ممالک میں مقیم ہے اور ان تمام ممالک کے اقتصادی مفادات بھارت کو مغربی بحرِ ہند میں مضبوط کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

ایرانی صدر، حسن رُوحانی کے دورۂ بھارت میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ بھارت اور ایران، افغانستان میں ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔ البتہ اس تعاون کی نوعیت نہیں بتائی گئی، جب کہ پاکستان کے لیے بھارت کی افغانستان کے کسی بھی عمل میں شمولیت، مداخلت کے مترادف اور نا قابلِ قبول ہے۔ پاکستان کا مٔوقف ہے کہ بھارت، افغانستان میں بیٹھ کر سازشوں کے ذریعے اسے غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات میں پیدا ہونے والی تلخی کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی ایشیا سے متعلق اپنی پالیسی میں افغانستان میں بھارت کا کردار بڑھانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ سو، اس پس منظر کو دیکھتے ہوئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام آباد میں اس نئی پیش رفت کو کس طرح دیکھا جائے گا اور کیا ایران نے اس سلسلے میں پاکستان کو اعتماد میں لیا ہے؟ پھر چاہ بہار پورٹ اور ایران سے افغانستان جانے والی تجارتی شاہ راہ دونوں ہی سی پیک منصوبے کے مقابل منصوبوں کی حیثیت رکھتے ہیں اور چین کا ایران اور بھارت کے درمیان ہونے والے معاہدوں پر کیا ردِ عمل ہو گا؟ خیال رہے کہ گوادر پورٹ سے چین کو تقریباً وہی فواید ملیں گے، جو بھارت کو چاہ بہار بندر گاہ سے۔ اور پھر دونوں میزبان ممالک نے اپنی بندرگاہیں ٹھیکے پر دے دی ہیں۔ دوسری جانب گوادر سے وسطی ایشیا جانے والی شاہ راہ کا بھی تقریباً وہی کردار ہو گا، جو چاہ بہار کی 800کلومیٹر طویل چاہ بہار، حاجی گاج شاہ راہ کا ہے۔ اس راہ داری پر سامان کی منتقلی کے لیے ایک ریلوے لائن بھی بنائی جا رہی ہے، جو ایران اور پاکستان کے سرحدی شہر، زاہدان تک بھی جائے گی۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ ایک طرف ایران، بحرِ ہند میں امریکا کی موجودگی کی مخالفت کرتا ہے، تو دوسری جانب امریکا کے ایک اہم اسٹرٹیجک پارٹنر یعنی بھارت کو اپنی بندر گاہ کا نظم و نسق بھی دے رہا ہے، جسے وہ چین کے مقابلے پر کھڑا کرنا چاہتا ہے۔ ایرانی صدر اور بھارتی وزیرِ اعظم کی مشترکہ پریس کانفرنس میں نریندر مودی نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں قیامِ امن کے سلسلے میں دونوں ممالک یکساں مٔوقف رکھتے ہیں۔ دورۂ بھارت کے موقعے پر ایرانی صدر نے گاندھی کی سمادھی پر پُھول بھی چڑھائے اور ان سے قبل اسرائیلی وزیرِ اعظم، نیتن یاہو نے بھارت کا دورہ کیا تھا۔ یہاں ماہرینِ بین الاقوامی اُمور کے لیے یہ اَمر دِل چسپی کا باعث ہے کہ ایران اور اسرائیل ایک دوسرے کے سب سے بڑے دشمن ہیں اور بھارت نے ان دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن پیدا کر رکھا ہے۔

ایرانی صدر نے بھارت کے سہ روزہ دورے کا آغاز کسی سرکاری تقریب میں شرکت کی بہ جائے جنوبی بھارت کے شہر، حیدر آباد دکن سے کیا اور وہاں انہوں نے آصف جاہی دَور میں تعمیر ہونے والی معروف مکّہ مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد خطاب کیا۔ خیال رہے کہ آج سے 600برس قبل گول کنڈہ پر حُکم رانی کرنے والے آصف جاہی خاندان کا تعلق ایران سے تھا اور اسی خانوادے سے تعلق رکھنے والے ایک حُکم ران، علی قُلی شاہ نے 1591ء میں حیدر آباد دکن کی بنیاد رکھی تھی اور اس کی عمارات کا ڈیزائن بھی ایک ایرانی ماہرِ فنِ تعمیرات نے تیار کیا تھا۔ گو کہ مکّہ مسجد کا تعلق سُنّی مسلک سے ہے، لیکن حسن روحانی نے اس مسجد کے امام کے پیچھے نماز ادا کی۔ مکّہ مسجد میں خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ’’اسلامی ممالک میں نفاق کا فائدہ امریکا اور اسرائیل اُٹھاتے ہیں۔ اگر یہ نفاق نہ ہوتا، تو ٹرمپ کو یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کی ہمّت نہ ہوتی۔‘‘ اس موقعے پر انہوں نے شیعہ سُنّی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ حسن روحانی کا مزید کہنا تھا کہ’’بھارت مختلف مذاہب اور عقاید سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان ہم آہنگی کی ایک مثال ہے۔‘‘

ایران اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے، ہمیں اُنہیں بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آج ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے کو خطرات لاحق ہیں۔ امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کو ایک بدترین معاہدہ قرار دیا ہے اور گزشتہ برس دسمبر میں انہوں نے اس کی مشروط توثیق کی۔ گرچہ یورپ، رُوس اور چین اس معاہدے کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم، امریکا کی طرح یورپ کا بھی یہ مانناہے کہ ایران کو مشرقِ وسطیٰ میں فوجی طاقت اور جنگ جُو تنظیموں کے بل پر برتری قائم کرنے کے اپنے اقدامات پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔ اوباما انتظامیہ کے دَور میں نیوکلیئر ڈِیل کے وقت امریکا میں یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ اس کے نتیجے میں ایران، شام کے بُحران کے حل میں مدد فراہم کرے گا اور بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے کا مطالبہ قبول کر لے گا، لیکن ایسا کچھ نہ ہوا اور آج شامی حکومت، رُوس اور ایران کی فوجی مدد کے نتیجے میں پہلے سے زیادہ پُر اعتماد اور اپنے حریفوں پر فتح حاصل کرنے کے قریب ہے۔ امریکی انتظامیہ، ایران کو مشرقِ وسطیٰ میں انتشار پھیلانے اور خون ریزی کا ذمّے دار اور ایرانی ملیشیاز کو دہشت گردی کا موجب قرار دیتی ہے، جب کہ ایران کا یہ الزام مسترد کرتے ہوئے کہنا ہے کہ وہ داعش اور دہشت گردی کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ جوہری معاہدے کے نتیجے میں ایران سے اقتصادی پابندیاں اُٹھائی گئیں، جس سے اُسے اپنے منجمد اربوں ڈالرز واپس ملے۔ تاہم، ابھی تک ایرانی معیشت اپنے پائوں پر کھڑی نہیں ہو سکی اور اسے مزید وقت اور وسائل کی ضرورت ہے۔ ناقدین کے مطابق، حال ہی میں ایران میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے، جن میں21افراد ہلاک ہوئے، معاشی ابتری کی وجہ سے ایرانی عوام میں پائی جانے والی بے چینی کی عکّاسی کرتے ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں اقتصادی معاونت کے لیے ایران کو اُن ممالک کی طرف جانا پڑے گا کہ جو اس کی مدد کر سکتے ہیں اور حسن رُوحانی کا دورۂ بھارت بھی اسی سلسلےکی ایک کڑی ہے۔

ایران اور بھارت میں ایک قدرِ مشترک یہ ہے کہ دونوں ہی خود کو علاقائی طاقت سمجھتے ہیں اور ایران کی تاریخ اور دُنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے چوتھے بڑے مُلک کی حیثیت کو دیکھتے ہوئے اس کا یہ دعویٰ قابلِ فہم بھی ہے۔ ایران نے جوہری معاہدے کے وقت امریکا اور عالمی طاقتوں سے اپنی یہ حیثیت ماننے کا مطالبہ کیا تھا اور اوباما انتظامیہ کسی حد تک اسے تسلیم کرنے پر آمادہ بھی تھی۔ تاہم، اس موقعے پر امریکا نے اپنی دیرینہ حلیف عرب ریاستوں کو اعتماد میں لینے سے گریز کیا، جس کی وجہ سے ایران، عرب کشمکش شدّت اختیار کر گئی اور پھر ٹرمپ نے صدر بننے کے بعد اوباما انتظامیہ کی مشرقِ وسطیٰ سے متعلق پالیسی کو بالکل نظر انداز کرتے ہوئے اس خطّے میں عربوں کو مرکزی اہمیت دی۔ ناقدین کے مطابق، اس وقت ایران شدید دبائو میں ہے اور وہ رُوس، چین اور بھارت کے ساتھ مل کر اس دبائو سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، اس موقعے پر ایران کے لیے ایک مشکل یہ کھڑی ہو گئی ہے کہ امریکا اور بھارت کے درمیان بہت اچّھے تعلقات ہیں اور پھر رُوس اور چین بھی اپنے مفادات کو درپیش خطرات کے پیشِ نظر براہِ راست امریکا کے مقابل نہیں آئیں گے۔

پاکستان نے ہمیشہ ایران، عرب کشمکش کا حصّہ نہ بننے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتّب ہوتے ہیں۔ پاکستان کے اپنے قیام ہی سے ایران سے برادرانہ تعلقات رہے ہیں اور پاکستان کو سب سے پہلے تسلیم کرنے والا مُلک بھی ایران ہی ہے۔ نیز، ایرانی صدر، حسن رُوحانی اور ان کے وزیرِ خارجہ، جواد ظریف مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش بھی کر چُکے ہیں۔ اُدھر سعودی عرب سمیت دوسرے خلیجی ممالک میں کم و بیش47لاکھ پاکستانی تارکینِ وطن ملازمت کرتے ہیں، جو زرِ مبادلہ بھیجنے کا اہم ذریعہ ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دِفاعی تعاون کے کئی معاہدے بھی ہیں اور اس وقت پاکستان کے سابق آرمی چیف، جنرل (ر) راحیل شریف سعودی عرب کی قیادت میں بننے والی اسلامی ممالک کی اتحادی فوج کے سربراہ بھی ہیں اور حال ہی میں پاکستان نے تربیت و مشاورت کے لیے سعودی عرب میں اپنا فوجی دستہ بھیجنے کا اعلان بھی کیا ہے، جس پر سینیٹ میں وزیرِ دفاع، خرم دستگیر کو سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ناقدین اس اَمر کی جانب بھی توجّہ دِلاتے ہیں کہ ایران، شام میں گزشتہ سات برس سے فوجی مداخلت کر رہا ہے اور اس کی حمایت یافتہ جنگ جُو تنظیمیں بھی وہاں برسرِ پیکار ہیں۔ نیز، یہ یمن میں بھی حوثی باغیوں کی پُشت پناہی کر رہا ہے، لیکن کیا تہران نے کبھی اسلام آباد کو ان معاملات پر اعتماد میں لینے کی کوشش کی، حالاں کہ ان تمام واقعات کے پاکستان پربراہِ راست اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔ ایران عموماً ایک بڑی علاقائی طاقت کے طور پر اپنی خارجہ پالیسی پر عمل درآمد کرتا ہے، لیکن ناقدین کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات میں ایران کو اپنے پڑوسی ممالک کو بھی اعتماد میں لینا ہو گا، جن میں عرب ممالک، پاکستان اور وسطی ایشیا کے اسلامی ممالک بھی شامل ہیں۔ حسن روحانی اور اُن کے وزیرِ خارجہ، جواد ظریف غیر معمولی سفارتی مہارت کے حامل ہیں اور اگر وہ امریکا اور عالمی طاقتوں سے نیوکلیئر ڈِیل جیسا پیچیدہ معاہدہ کر سکتے ہیں، تو کیا اسلامی ممالک کے مابین اتحاد کے لیے لچک دِکھانا کوئی بڑی بات ہے۔ایرانی صدر پاکستان اور بھارت کے کشیدہ تعلقات سے بہ خوبی واقف ہیں اور انہیں اس بات کا بھی علم ہے کہ پاکستان کو یہ یقین ہے کہ بھارت اسے نقصان پہنچانے کی ہر کوشش میں ملوّث ہوتا ہے اور ایسے میں پاکستان ایک برادر مُلک کی حیثیت سے ایران سے بہت زیادہ توقّعات رکھتا ہے۔ تاہم، اب دیکھنا ہو گا کہ جنوبی ایشیا میں ایران کیا کردار ادا کرتا ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

فرانس ’حلال ٹیکس‘ کیوں نافذ کرنا چاہتا ہے؟

فرانس ’حلال ٹیکس‘ کیوں نافذ کرنا چاہتا ہے؟

اگر فرانس کے صدر امانوئل میکخواں نے ایک نئی رپورٹ تسلیم کر لی تو ملک ...