چاروں طرف ایک ہی قصہ

چاروں طرف ایک ہی قصہ

طیبہ تشدد کیس ہو یا زینب قتل کیس، چھرا مار گروپ کی غنڈہ گردی ہو یا بچوں کے ساتھ بد فعلی، یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ جب ہم پرایک قصہ، سانحہ عیاں ہوتا ہے تو اس جیسے کوئی ہزارقصوں کی قطار ہمارے سامنے لگ جاتی ہے اور پھر یوں لگتا ہے کہ چاروں طرف شاید یہ ہی سب ہورہا ہے اور اب آہستہ آہستہ سب منظر عام پر آرہا ہے اور ایک ہی طرح کے واقعات سن سن کر ، ان سے متعلق پوری تفصیل جان کر ہم پتھر دل کے ہوجاتے ہیں اور پھر ایسا سانحہ یا واقعہ جو پہلی بار ہمیں ہلا کر رکھ دیتا ہے پھر اس جیسے واقعات پر ہم ذرا سے افسوس کے ساتھ خاموش ہوکر بیٹھ جاتے ہیں اور ہم پر پھر وہ واقعات اس انداز میں اثرانداز نہیں ہوتے جس طرح پہلی بار میں ہوتے ہیں اور پھر ہماری دنیا اور ہمارے معاملات۔۔۔۔۔ جو چلتے ہی رہتے ہیں اورہم ان میں مگن ہوجاتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ہم سب عادی ہوگئے ہیں یا ہم یہ سوچ کربیٹھ جاتے ہیں کہ یہ تو معاشرہ ہی ایسا ہے، اسے تو ابھی اورخراب ہونا ہے بلکہ خراب سے خراب ترکی جانب جانا ہے، اس میں ردو بدل نہیں آئے گا اورکسی ایک کے کرنے سے کیا ہونا ہے یا وغیرہ وغیرہ اورپھروہی ہماری مصروفیات اورہم ان مصروفیات میں گم ہوجاتے ہیں۔

بچے ہوں یا بچیاں، لڑکے ہو یا لڑکیاں، مرد ہوں یا عورتیں، روح کتنی کانپتی ہوگی، جب ان کے ساتھ درندگی کی جاتی ہوگی۔ کراچی کے ایک علاقے میں چند روز قبل 7 سالہ بچے کے ساتھ بد فعلی کی گئی پھر اس کے بعد اسے قتل کردیا گیا، اسی طرح شہر قائد میں بھی بہت سے واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں، زینب کی مثال لے لیں یا بڑے سے بڑے شہریا چھوٹے سے چھوٹے سے گاؤں اوران کے کھیت کھلیانوں کی، سب کو معلوم ہے کہاں کہاں کیا کیا ہوتا ہے اور کون کون ان سرگرمیوں میں معانت تک کرتا ہے۔

احتجاج، مظاہرے، ہڑتالیں، اپنے ہی املاک کونقصان، یہ تو ہر گز انصاف نہیں بلکہ یہ تو خود کو تباہی کے دہانے پرلے جانے کے مترادف ہے۔ ہم یک زبان بھی ہوجاتے ہیں، سارے چیزیں پیچھے چھوڑتے ہوئے جب کوئی بھی ایسا واقعہ پیش آتا ہے تو ہماری آواز ایک ہوجاتی ہے، ہمارا ایک نعرہ بن جاتا ہے، ہم انصاف مانگنے کی دوڑ میں بھی لگ جاتے ہیں پر یہ سب کچھ ایک خاص وقت کے لیے ہی کیوں۔۔۔۔؟

دنیا بھر میں انقلاب آئے ، شہریوں نے جس جائز چیز کا مطالبہ کیا پھر اس سے  پیچھے نہیں ہٹے اور اپنی بات اور مطالبے پر ڈٹے رہے اور وہ حاصل کر دکھایا جس کی وہ خواہش رکھتے تھے۔

ابلاغ عامہ کی ایک تھیوری (اسپائرل آف سائلنس تھیوری) ہے، جس کی مثال آج کے معاشرے سے بلاشبہ با آسانی جوڑی جاسکتی ہے، جہاں عوام مظالم کے خلاف، غلط کے خلاف اپنی آواز نہیں اٹھا پاتے تھے پر اب ایسا نہیں ہے ، اب عوام اپنے حق کے لیے نکل رہے ہیں قطع نظر اس بات کہ کہ وہ اکثریت میں ہیں یا اقلیت میں، وہ آگے بڑھ رہے اور بہت حوصلے کے ساتھ بڑھ ہے ہیں کہ انہیں ان کا حق ملے گا۔

ہمیں ذرا سی دیر کے لئے نہیں بلکہ ہر معاملے سے متعلق یک زبان ہونا ہوگا، ہمیں ایک ہونا ہوگا، ہمیں متحد ہونا پڑے گا ، اُن مطالبات کے لیے جو ہمارے جائز مطالبات ہیں، تو ہم بہتری کی جانب سے بڑھ سکتے ہیں ورنہ معاشرہ واقعی بد سے بدتر ہی ہوگا، دراصل اگرہمیں تبدیلی چاہیئے تو اس کے لیے ہمین مستقل مزاج پہلے ہونا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

لعنت یافتہ پارلیمنٹ اور پارلیمنٹیرینز

پانچ سال مکمل کرنے کا سبق

اکہتر سالوں میں اٹھارہ منتخب وزرائے اعظم کے نامکمل ادوار اور سات نگران وزرائے اعظم ...