پاکستانی شوبز خواتین اپنے ساتھ ہوئی جنسی زیادتیوں پر بول پڑیں

پاکستانی شوبز خواتین اپنے ساتھ ہوئی جنسی زیادتیوں پر بول پڑیں

ہالی ووڈ سے شروع ہونے والی انگنت اور ناقابل فراموش آبیتوں کا سلسلہ جب پاکستان پہنچا تو یہاں بھی عام اور خاص کی زندگیوں میں زہر گھولنے والے واقعات کو گویا زبان مل گئی۔

قصور سے تعلق رکھنے والی سات سالہ بچی زینب سے زیادتی اور اس کے بعد قتل کے واقعے کے بعد ملک میں بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے

اس سلسلے میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات آگے آرہی ہیں اور اس مکروہ فعل کی شدید انداز میں مذمت کررہی ہیں۔ مختلف لوگوں کی جانب سے بچوں کے لیے محفوظ معاشرہ فراہم کرنے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے بچپن میں جنسی ہراساں ہونے کے واقعات بھی عوام سے شیئر کیے تاکہ لوگوں کو اس معاملے کی سنجیدگی کا احساس ہو۔

عام گلیوں سے نکل پر بات جب بڑی اسکرین پر پہنچی تو پتا چلا اس چکاچوند زندگی کے پیچھے بھی لوگوں کی کچھ زندگیوں کے ایسے بھی راز ہیں، جسے وہ کبھی زبان پر نہ لا سکے۔ زندگی کے ان چھپے رازوں کو “می ٹو” کی مہم نے گویا زبان دے دی۔ ہمیں انٹرنینمنٹ کے ذریعے تفریح فراہم کرنے والے کئی ایسے چمکتے چہرے ہیں، جن کی حقیقی زندگی دکھوں کا انبار ہے۔

کچھ مسکراہٹوں کے پیچھے ایسے درد ناک کرب چھپے ہیں، جنہیں زیر لب پہلے نہ کبھی لایا جاسکا۔ اسے فرسودہ زمانے کی روایات کہیں یا بات بات پر مذہبی پابندیاں کہ خواتین اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے خلاف پہلے کبھی اتنا کھل کر آواز نہ اٹھا سکیں۔ اپنی زندگی کے ان چھپے رازوں سے پردہ ہٹاتے ہوئے کچھ شوبز خواتین آگے بڑھیں اور زندگی میں کس کس مقام پر وہ جنسی استحصال کا شکار ہوئیں، بلکہ ایک انجانے خوف میں مبتلا ہو کر درد بھی اٹھایا بلکہ دن رات خوف میں بھی گزارے۔

نادیہ جمیل ، فریحہ الطاف اور انشا شاہ سمیت ایسی کئی خواتین ہیں جنہوں نے آگے بڑھ کر اپنی آپ بیتیاں بیان کی اور لوگوں کو اس بات پر حوصلہ دیا کہ وہ ایسے واقعات سے آنکھیں نہ چرائیں، ایسی چیزوں کو نہ چھپائیں اور ان کے خلاف آواز اٹھائیں۔ شوبز خواتین کی جانب سے قصور کی کمسن زینب کے اغواء، زیادتی اور قتل کے واقعہ کے تناظر میں یہ بیانات سامنے آئے ہیں۔ معروف اداکارہ نے مزید کہا ہے کہ جب بھی کسی بچی یا بچے کے ساتھ زیادتی ہوگی تو وہ میں ہوں گی، اور میں کبھی خاموشی اختیار نہیں کروں گی۔

نادیہ جمیل

اپنے گزشتہ بیان میں نادیہ جمیل کا کچھ یہ کہنا تھا کہ انہیں بچپن میں زیادتی کا نشانہ بنیا گیا، قاری صاحب اور ڈرائیور نے زیادتی کا نشانہ بنایا، تو والدین بدنامی کے ڈر سے خاموش رہے۔

نادیہ جمیل نے اپنے سیریز آف ٹویٹس میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کے ساتھ پہلا برا واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ 4 سال کی تھیں۔

نادیہ جمیل جو اب شادی شدہ اور بچوں کی ماں ہیں، نے اپنے بچپن سے متعلق انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کئے ہیں، کہتی ہیں کہ مجھے اس گھناؤنے عمل کا نشانہ قاری صاحب، ڈرائیور اور انتہائی تعلیم یافتہ اونچے گھرانے سے تعلق رکھنے والے شخص نے بنایا۔

فریحہ الطاف:

کیٹ واک ایونٹ میجنمنٹ کی چیئرپرسن فریحہ الطاف بھی ان خواتین میں شامل ہیں، جو زندگی کے کسی دور میں جنسی زیادتی کا شکار بنی۔

اپنی اوپر بیتے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے فریحہ الطاف کا کہنا تھا کہ مجھے جنسی زیادتی کا شکار اس وقت بنایا گیا، جب میں فقط چھ سال کی تھی۔ میرے گھر کے باورچی نے مجھے اپنی ہوس کا شکار بنایا۔ میرے والدین نے میرے لیے ایکشن لیا، تاہم دوسروں نے مجھے چپ رہنے کا کہا، جیسے یہ کوئی میرا قصور ہو۔ 34 سال کی عمر میں مجھے اس بات کا انداز ہوا کہ کیسے اس نے میری زندگی کو متاثر کیا۔

اس معاملے میں اگر کوئی بات کرنے پر شرم کی بات ہے تو وہ یہ کہ اس کو چھپایا جائے۔

اشنا شاہ :

معروف ماڈل اور اداکارہ اشنا شاہ نے بھی خواتین اور بچوں کے ساتھ ہونے والے زیادتی کے واقعات پر آواز اٹھانے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

ماہین خان

فیشن انڈسٹری کی دنیا میں بڑا نام ماہین خان بھی دیگر خواتین کا حوصلہ بڑھانے آگے آئیں اور کم عمری میں ایک مولوی کی جنسی ہوس کا شکار ہونے پر دنیا کو بتایا۔

ماہین خان کا کہنا تھا کہ مجھے کسی اور نے نہیں بلکہ میرے ہی گھر میں آکر ایک ایسے شخص نے مجھے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جس کا کام مجھے قرآن شریف پڑھانا تھا۔ مجھے مولوی نے چھوٹی سی عمر میں ایک ایسا صدمہ دیا، جو ہر گزرتے وقت کے ساتھ مجھے خوف میں مبتلا کرتا ہے۔

اس سے قبل امریکا میں امریکی جریدے ٹائم نے اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کے خلاف آواز اٹھانے والی خواتین کو سال کی شخصیت قرار دیا اور انہیں اپنے سرورق پر جگہ دی۔

می ٹو کا پس منظر:

ہالی ووڈ کے پروڈیوسر ہاروی وائن اسٹین کے خلاف جنسی زیادتی کے الزامات لگنے کے بعد ٹوئٹر پر “می ٹو” ہیش ٹیگ کے ساتھ خواتین اور مردوں نے اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتیوں کے معاملات کو اجاگر کیا تھا۔ جریدہ انتظامیہ نے کہا کہ می ٹو ہیش ٹیگ تصویر کا صرف ایک رخ ہے مکمل تصویر نہیں۔جریدے کے ایڈیٹر ایڈورڈ فیلسنتھال نے کہا کہ عورتوں اور مردوں نے اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کو جس طرح اجاگر کیا وہ عشروں میں آنے والی سب سے بڑی معاشرتی تبدیلی ہے۔

انہوں نے امریکی ٹی وی این بی سی کے پروگرام ٹوڈے کو بتایا کہ اس معاشرتی تبدیلی کا سہرا ان کئی سو بہادر خواتین اور مردوں کے سر ہے۔ جھنوں نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو انفرادی طور پر بیان کرنا شروع کیا اور پھر یہ تحریک بن گئی۔جریدے کے سرورق پر پانچ خواتین کی ایک تصویر ہے۔ اور اس میں دو کا تعلق ہالی ووڈ سے ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

سلمان خان: ‘ایک خوبصورت اور مہذب لڑکی کا استقبال ہے’

جب اداکارہ پرینکا چوپڑہ نے سلمان خان کی نئی فلم ‘بھارت’ چھوڑی تو لوگوں نے ...