زینب قتل : ٹی وی اینکر کے انکشافات پر عدالت کا تحقیقات کا حکم

زینب کاقاتل آزاد،انصاف مانگنےوالے2افرادجاں بحق

منگل کو زیادتی کے بعد قتل ہونےوالی 7سالہ بچی زینب کامعاملہ سنگین رخ اختیارکرگیا۔ ڈی پی او کےدفترکےباہر مظاہرےکے دوران پولیس کی فائرنگ سے 2افرادجان سےگئے۔ علاقے میں صورتحال کشیدہ ہے۔ڈی پی او نے خط لکھ کرفوری طورپر رینجرزکوطلب کرنےکی درخواست کی ہے۔ وزیراعلی شہبازشریف نے واقعےکانوٹس لےلیاہے۔ چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نےبھی قصورمیں بچی کےقتل کانوٹس لےلیا اور سیشن جج قصورسےواقعہ کی رپورٹ طلب کرلی۔

سماءکےمطابق منگل کی صبح قصورمیں کچرےکےڈھیرسے 7سالہ زینب کی لاش تھیلے سے برآمدہوئی۔ اس کےوالدین عمرےکےلیے سعودی عرب گئے ہوئے تھے جب ان کی بچی کےساتھ یہ گھناؤناکھیل کھیلاگیا۔

بچی کی لاش ملنےکےبعد علاقےمیں کشیدگی پھیل گئی۔ مکینوں نے قصورآنےوالےراستوں پرشدید احتجاج کیا۔ یہ قصور میں ڈیڑھ برس کےاندرہونےوالے11واں واقعہ تھا۔پولیس اور علاقائی انتظامیہ صورتحال پرقابو پانےمیں ناکام رہی۔

بدھ کی صبح صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی۔ ڈنڈہ بردارمظاہرین نے ڈی سی اوکےدفترکےباہر شدید احتجاج کیا اوردروازہ توڑکردفترکےاحاطےمیں داخل ہوگئے۔ اس دوران پولیس کی جانب سے شدید فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ کامقصد مظاہرین کومنتشرکرناتھا۔ تاہم پولیس کی براہ راست فائرنگ سے 2 افرادجان  سے گئے اور 2زخمی ہوگئے۔

قصورمیں احتجاجی مظاہرین پرفائرنگ اور جانی نقصان کےبعد لوگوں میں اشتعال بڑھ گیا۔ زینب کے قتل پرشہریوں میں غم وغصہ پہلے ہی پایا جاتاتھا،مظاہرین کے مارے جانےپرلوگ مزید اشتعال میں آگئے۔علاقےمیں تمام کارروباری مراکز بند کردئیے گئے اور پولیس کاگشت بڑھادیاگیا۔ ڈی پی او نے فوری طور پر رینجرزطلب کرنےکےلیے خط لکھ دیاہے۔ حالات کی سنگینی بھانپتےہوئے رینجرزکوقصوربلوانے کی درخواست کی گئی ہے۔

وزیراعلی شہبازشریف نے واقعےکانوٹس لےلیاہے۔انھوں نے کہاہےکہ اس واقعےپرشدید تکلیف پہنچی ہے۔ وزیراعلی نےمتعلقہ حکام کوفوری طورپر ملزمان کوپکڑنےکی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلی نے کہاہےکہ جب تک ملزمان کوپکڑانہیں جاتا،چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نےبھی قصورمیں بچی کےقتل کانوٹس لےلیا اور سیشن جج قصورسےواقعہ کی رپورٹ طلب کرلی۔ڈی پی او قصور ذوالفقار احمد نے کہا ہے کہ قصور میں بچیوں سے زیادتی کے واقعات پر پانچ ہزار سے زائد افراد سے تفتیش کی گئی ہے،جب کہ67افراد کا میڈیکل چیک اپ کرایاگیا۔ انہوں نے کہا کہ شہرمیں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے تفتیش جاری ہے۔آر پی او کا کہنا ہے کہ قصور میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں ایک یا دو افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے۔ پانچ کیسز میں ڈی این اے اور طریقہ واردات ایک جیسے تھے۔ بہت جلد ملزمان کو گرفتار کرلیا جائے گا۔ آر پی او نے تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ قصور میں ہونے والے پانچ کیسز میں ڈی این اے اور طریقہ واردات میں مماثلت ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایک یا دو افراد کارروائیوں میں ملوث ہوں

زینب کی نماز جنازہ علامہ طاہرالقادری نے پڑھائی۔ نماز جنازہ میں ہزاروں افرادنے شرکت کی۔ وہاں موجود ہرآنکھ اشکبارتھی اورلوگ اس واقعےمیں ملوث افرادکی فوری گرفتاری کامطالبہ کررہےتھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

لاہورہائیکورٹ نے گورنر ہاﺅس کی دیوار گرانے سے روک دیا

لاہورہائیکورٹ نے گورنر ہاؤس کی دیوار گرانے سے روک دیا

لاہور ہائیکورٹ نے حکومت کو گورنر ہاﺅس کی دیواریں گرانے سے روک دیا،عدالت نے ریمارکس ...