بغیر تحقیق، توہین مذہب کا الزام لگانے کی تیزی سے پروان چڑھتی روایت

جیو نیوز کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں میزبان شاہزیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایک روایت تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے، تحقیق اور حقائق جانے بغیر کسی پر کوئی بھی سنگین الزام لگادو،چاہے اس کی اور اس کے گھر والوں کی زندگیاں ہی خطرے میں نہ پڑجائیں،اس حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اہم پیشرفت ہوئی ہے کہ آئندہ کوئی جھوٹا الزام نہ لگائے، کسی کی زندگی خطرے میں نہ ڈالے، سماجی کارکن جبران ناصر نے کہا کہ لاپتہ بلاگرز کیس میں ایف آئی اے کی طرف سے شواہد نہ جمع کروانے کے باوجود کیا ان پانچ افراد کو معاشرے میں تحفظ مل سکے گا، ان پانچ افراد میں سے چار ملک سے باہر ہیں جبکہ ایک ابھی تک جبری گمشدگی کا نشانہ ہے، ان چار افراد اور ان کے خاندان کو خطرہ ہوگیا تھا اس لئے وہ اپنی جان بچا کر بھاگے۔ نومنتخب وزیرمملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل نے کہا کہ اگلے ایک دو دنوں میں عہدے کا حلف لے لوں گا، وزیراعظم جو وزیرخزانہ بھی ہیں اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر معیشت سے متعلق لائحہ عمل طے کریں گے، ہمارے لئے سب سے بڑا چیلنج زرمبادلہ کو برقرار رکھنا ، برآمدات بڑھانا اور تجارتی خسارے کو کم کرنا ہے۔ صدر ایف پی سی سی آئی زبیر طفیل نے کہا کہ پچھلے کچھ عرصہ سے وزارت خزانہ پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے اہم فیصلوں میں تاخیر ہورہی تھی، بزنس کمیونٹی وزیرخزانہ یا وزیر مملکت برائے خزانہ لگانے کا مطالبہ کررہی تھی، رانا محمد افضل چار پانچ سال سے بجٹ بنانے کے عمل میں ایف بی آر میں اور وزیر خزانہ کے ساتھ رہے ہیں، رانا محمد افضل کو معاشی معاملات کا کافی تجربہ ہے۔شاہزیب خانزادہ نے مزید کہا کہ کسی کے گھر والوں کو اس بات پر مجبور نہ کردے کہ وہ شہر اوریہاں تک کہ ملک چھوڑ دیں، اپنی صفائیاں دیتے پھریں۔ شاہزیب خانزادہ کا کہناتھا کہ اس سال کے آغاز میں سوشل میڈیا پر سرگرم چند بلاگرز اچانک غائب ہوگئے، انہیں کس نے اٹھایا، کیوں اٹھایا، کس کے کہنے پر اٹھایا، اب تک پتا نہیں چل سکا، ان بلاگرز پر اس وقت سنگین الزامات لگائے گئے جب ان کا معاملہ سوشل میڈیا اور ٹی وی پروگرامز میں اٹھا، نکتہ یہ تھا کہ وہ لاپتہ ہوئے ہیں اگر انہوں نے کوئی گناہ یا جرم کیا ہے تو اس جرم کی سزا انہیں پاکستان کے عدالتی عمل کے ذریعہ دی جائے، مگر انہیں گمشدہ نہیں ہونا چاہئے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں پروفیسر سلمان حیدر، احمد وقاص گورایا، عاصم سعید اور احمد رسا نصیر کے خلاف کارروائی کی درخواست کی گئی اور دعویٰ کیا گیا کہ وہ فیس بک اور ٹوئٹر پر ایسے صفحات چلاتے ہیں جن پر توہین آمیز مواد شائع ہوتا ہے، جمعہ کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں گستانہ خانہ مواد کے خلاف فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق مقدمہ کی سماعت ہوئی، ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے عدالت کو بتایا کہ توہین رسالت میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، چار ملزمان کو گرفتار کرکے ٹرائل کورٹ میں چالان پیش کردیا گیا ہے جبکہ چار بیرون ملک فرار ملزمان کو واپس لانے کے لئے ایف آئی اے نے انٹرپول سے رابطہ کرلیا ہے، ایف آئی اے کا دعویٰ ہے ان کے خلاف ثبوت بھی اکٹھے کرلیے گئے ہیں، مگر جن پانچ افراد کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں کارروائی کی درخواست کی گئی ان کے حوالے سے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے عدالت کے سامنے تسلیم کی کہ پٹیشن میں جن پانچ افراد پر الزام لگایا گیا ان کے خلاف شواہد نہیں ملے، جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ یہ فیصلہ ٹرائل کورٹ کرے گی کہ الزام لگانے والا جھوٹا ہے یا شواہد ناکافی ہیں، اب یہ اہم معاملہ ہے کہ ایف آئی اے نے تسلیم کیا کہ شواہد نہیں ملے، جسٹس شوکت صدیقی نے معاملہ ٹرائل کورٹ تک بھیج دیا ہے۔ شاہزیب خانزادہ نے بتایا کہ ملکی قوانین میں واضح ہے کہ جھوٹا الزام لگانے والوں کے ساتھ کیا ہونا چاہئے، قانون کے مطابق اگر ایسا الزام لگا ہے جس کے تحت سزائے موت ہوسکتی ہے تو جھوٹا الزام لگانے والے کو سات سال تک سزا ہوسکتی ہے، اسی طرح اگر ایسا الزام لگا ہے جس کے تحت عمرقید کی سزا ہوسکتی ہے تو جھوٹا الزام لگانے والے کو پانچ سال تک کی سزا ہوسکتی ہے، اسی طرح عدالت میں جھوٹے شواہد پیش کرنے والوں کو عمرقید کی سزا ہوسکتی ہے، قوانین موجود ہی مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا،پاکستان کا ہتک عزت کا قانون مغربی دنیا کے بعض ممالک کے قوانین سے بھی زیادہ سخت ہے مگر کوئی مثال نہیں بنتی، پاکستان میں قانون سخت ہے مگر کیونکہ عملدرآمد نہیں ہوتا اس لئے جس کا دل چاہتا ہے ہتک عزت کرتا ہے۔ شاہزیب خانزادہ نے بتایا کہ سال کے آغاز میں سوشل میڈیا پر سرگرم پانچ بلاگرز لاپتہ ہوگئے، ان پر سنگین الزامات لگا کر توہین مذہب کا مرتکب قرار دیا گیا، کسی نے بھی ان الزامات کی تحقیق نہیں کی اور سوشل میڈیا پر بدترین پراپیگنڈہ مہم شروع کردی گئی جبکہ ٹی وی چینلز بھی اس مہم کا حصہ بن گئے، اس دوران نام لے کر، تصویریں چلا کر ان افراد کو گستاخی کا مرتکب قرار دیا گیا، اس نفرت انگیز مہم کی وجہ سے ان لاپتہ افراد کے گھر والوں کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈالا گیا، ان افراد کے گھر والوں کو میڈیا کے سامنے آکر اپنے مسلمان ہونے، اپنے گھر کے لاپتہ فرد کے مسلمان ہونے، اس کی طرف سے کبھی گستاخی نہ کی جانے کی گواہیاں تک دینی پڑیں، جب ہم نے یہ معاملہ اٹھایا تو ہم پر بھی الزام تراشی شروع ہوگئی، ہم پر بھی الزامات لگائے گئے، ہمیں بھی ان افراد کا ساتھی قرار دیا گیا، سوشل میڈیا اور بعض ٹی وی چینلز پر نفرت انگیز مہم چلائی گئی، ہم نے اس حوالے سے ملک کے معروف اور معتبر علمائے کرام سے رائے بھی لی کہ جو توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگائے اس کے ساتھ کیا ہونا چاہئے۔ علمائے کرام کی 2فروری 2017ء کے پروگرام میں رائے : مفتی تقی عثمانی: واضح اصول ہے کہ جو شخص الزام لگاتا ہے ثبوت فراہم کرنا بھی اس کی ذمہ داری ہوتا ہے، جس شخص پر الزام لگایا گیا اپنی بے گناہی کا ثبوت پیش کرنا اس کے ذمہ نہیں ہوتا ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی بہت بڑا جرم ہے، اگر کوئی اس حوالے سے الزام لگاتا ہے تو اس پر واجب ہے کہ ثبوت بھی فراہم کرے۔ مفتی راغب نعیمی: الزام لگانے والا شخص ثبوت مہیا کرے گا، شریعت کا قاعدہ ہے کہ گواہ لانے، شواہد دینے او رالزام ثابت کرنے کی ذمہ داری اس پر آدمی پر ہے جس نے کسی پر کوئی الزام لگایا ہے۔ علامہ امین شہیدی: توہین رسالت قانون منظور ہونے کے بعد سے بہت سے لوگوں نے اپنی ذاتی دشمنیاں نکالنے اور انتقام لینے کیلئے اس حربے کو استعمال کیا ہے اور بہت سے بے گناہ کو اس کا شکار کیا ہے ۔ہمیں ایسی قانون سازی کرنی چاہئے جس کے نتیجے میں الزام لگانے والا اگر الزام ثابت نہ کرسکے تو وہی سزا اسے ملنی چاہئے جس میں ایک بے گناہ شخص پر الزام لگا کر اس کی جان کو خطرے سے دوچار کیا گیا، یہاں پر ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ آئین و قانون کی رٹ کو قائم رکھتے ہوئے ایسے اشخاص کو جو بے گناہوں پر الزام لگاتے ہیں انہیں کٹہرے میں کھڑا کر کے سزا دے۔ مفتی محمد نعیم: توہین رسالت بہت اہم مسئلہ ہے، توہین رسالت پر سزائے موت ہے، اگر کوئی شخص کسی پر الزام لگاتا ہے لیکن اسے ثابت نہیں کرسکتا تو یہ اس سے بڑا جرم ہے، اس طرح تو لوگ آپس کی لڑائی میں توہین رسالت کا الزام لگا کر اس قانون کا غلط استعمال کرسکتے ہیں جس کے نتائج بہت خراب ہوں گے، حکومت وقت کو ان کے بارے میں موثر اقدام اٹھانا چاہئے۔ شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ لاپتہ افراد میں سے چار افراد سلمان حیدر، احمد وقاص گورایا، عاصم سعید اور احمد رضا نصیر جنوری کے آخر میں واپس آگئے لیکن ان کی واپسی کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ انہیں آخر کون لے گیا تھا، مگر اب اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ان ریمارکس کے بعد کہ جھوٹا الزام لگانے والے دہرے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں اور جھوٹا الزام لگانے کی روایت کو ختم کرنا ہوگا۔ شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کے معاملہ پر تمام ممالک کو دھمکی دی۔شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ بیت المقدس کے معاملہ پر دنیا کے اکثریتی ممالک امریکی فیصلے کے خلاف متحد ہوگئے، برطانیہ فرانس اور جاپان جیسے ممالک بھی بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کے خلاف کھڑے نظر آئے، حیران کن طور پر بھارت جو امریکا اور اسرائیل کے قریب آتا دکھائی دے رہا تھا اس نے بھی امریکی فیصلے کی مخالفت میں ووٹ دیا، اس پوری صورتحال پر امریکا کا موقف ہے کہ اسے جنرل اسمبلی کی قرارداد سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اس کے برعکس عالمی میڈیا کوریج سے واضح لگتا ہے کہ امریکا کی اس معاملہ میں سبکی ہوئی ہے، امریکا اپنے یکطرفہ فیصلوں کی وجہ سے تنہا ہوتا جارہا ہے، اس حوالے سے امریکا کے معروف اخبارات میں شائع ہونے والی ہیڈ لائنزبھی اہم ہیں، نیویارک ٹائمز کی سرخی تھی کہ ’ٹرمپ کو للکارتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے امریکی فیصلے کو مسترد کردیا‘، واشنگٹن پوسٹ کی خبر کی سرخی تھی کہ ’اقوام متحدہ نے پرزور طریقے سے امریکی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے امریکا پر براہ راست تنقید کردی‘ ، لاس اینجلس ٹائمز نے لکھا کہ ’ ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود اقوام متحدہ نے بھاری اکثریت سے امریکی فیصلے کے خلاف ووٹنگ کردی‘۔ شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ امریکا واضح کرچکا ہے جو ملک بیت المقدس کے حوالے سے امریکی فیصلے کی مخالفت کرے گا ہم اس کی امداد میں کٹوتی کریں گے، واشنگٹن پوسٹ کی خبر کے مطابق امریکا نے 2017ء میں غیرملکی امداد کی مد میں 43ارب ڈالر مختص کیے، ان 43ارب ڈالرز میں سے 26ارب ڈالرز معاشی امداد کیلئے جبکہ 17ارب ڈالرز عسکری معاونت کیلئے مختص کیے گئے، چھٹے نمبر پر پاکستان ہے جس کی معاشی و سیکیورٹی معاونت کیلئے 742ملین ڈالرز مختص کیے گئے۔شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ سخت تنقید اور بار بار مطالبہ کے بعد حکومت نے بلآخر پارلیمانی سیکرٹری خزانہ رانا محمد افضل خان کو وزیرمملکت برائے خزانہ بنانے کا فیصلہ کرلیا، خبریں ہیں کہ یہ فیصلہ بھی کل وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے مشاورتی اجلاس میں کیا گیا، جبران ناصر کا کہنا تھا کہ جب عدالت کو شواہد کے حوالے سے مس لیڈ کیا جاتا ہے یا پولیس بطور گواہ بلائے اور اس میں آپ جھوٹی گواہی دیتے ہیں تو اس میں قذف اور باقی سارے قوانین کا اطلاق ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

شہباز شریف کی گرفتاری کی اندرونی کہانی

نیب لاہور کی تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے شہباز شریف کو گرفتار کرنے کی اندرونی ...