احسان اللہ احسان کو رہا نہ کیا جائے

پشاور ہائی کورٹ نے حکومت پر پابندی عائد کی ہے کہ وہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کو رہا نہیں کر سکتی اور کہا ہے کہ احسان اللہ احسان کے خلاف تحقیقات مکمل کی جائیں۔

یہ فیصلہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں قائم بینچ نے بدھ کو سنایا۔

اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ احسان اللہ احسان کو عدالتی حکم کے بغیر رہا نہ کیا جائے اور حکومت اس بارے میں تفصیلی فیصلے سے بھی آگاہ کرے۔

یہ فیصلہ آرمی پبلک سکول کے حملے میں ہلاک ہونے والے طالبعلم کی والد کی درخواست پر دیا گیا ہے۔

فضل خان ایڈووکیٹ نے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دی تھی کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے سابق ترجمان نے گرفتاری دی ہے لیکن احسان اللہ احسان کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

انھوں نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کو معافی دے سکتی ہے یا رہا کر سکتی ہے اس لیے حکومت کو اس سے روکا جائے۔

فضل خان نے بی بی سی کو بتایا بدھ کو عدالت نے حکومت کے جواب پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت احسان اللہ احسان کے بارے میں تفصیلی جواب سے آگاہ کرے جس سے عدالت کو تسلی ہو۔

انھوں نے کہا کہ درخواست میں کہا گیا تھا کہ احسان اللہ احسان نے آرمی پبلک سکول پر حملے سمیت متعدد واقعات کی ذمہ داری قبول کی تھی اس لیے احسان اللہ احسان کو سزا دی جائے۔ انھوں نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ احسان اللہ احسان کو رہا نہ کیا جائے اور مقدمہ فوجی عدالت میں سنا جائے۔

فضل خان ایڈووکیٹ کے مطابق جس طرح احسان اللہ احسان کو میڈیا پر پیش کیا گیا اس سے انھیں ایسا لگا کہ شاید حکومت احسان اللہ احسان کو رہا کرنے کا سوچ رہی ہے۔

پیمرا نے احسان اللہ احسان کے انٹرویو پر پابندی تو عائد کی تھی لیکن یہ بھی کہا تھا کہ کسی بھی پروگرام میں ان کے اعترافی بیان کا وہ حصہ نشر کیا جا سکتا ہے جس میں ‘مذہب کے غلط استعمال’ اور ‘غیر ملکی ایجنسیوں کے ساتھ تعلقات’ کا اعتراف ہو

عدالت نے حکومت سے جواب طلب کیا تھا اور کہا تھا کہ تفصیل سے بتایا جائے کہ کیا حکومت احسان اللہ احسان کو عام معافی دینے کا سوچ رہی ہے اور یہ بھی کہ احسان اللہ احسان کے بارے میں کیا فیصلہ کیا گیا ہے؟ تو اس بارے میں حکومت کی جانب سے صرف یہی جواب ملا کہ احسان اللہ احسان کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

فضل خان ایڈووکیٹ نے مزید بتایا کہ بدھ کو بھی حکومت کی جانب سے ایک سطر کا یہ جواب اٹارنی جنرل نے پڑھ کر سنایا کہ احسان اللہ احسان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں جس پر عدالت نے کہا کہ اس بارے میں تفصیلی جواب دیا جائے۔

فضل خان ایڈووکیٹ کے بیٹے عمر خان آٹھویں جماعت کے طالبعلم تھے جو ایک سو چالیس سے زیادہ طالبعلموں کے ساتھ سولہ دسمبر سال دو ہزار چودہ کو شدت پسندوں کے آرمی پبلک سکول پر حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ احسان اللہ احسان نے رواں سال فروری کے مہینے میں گرفتاری دی تھی اور پھر اپریل کے مہینے میں انھیں میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔

فضل خان نے بتایا کہ احسان اللہ احسان کو ایک ’مفکر‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا جس پر انھیں تشویش ہوئی اور انھوں نے عدالت سے درخواست کی کہ حکومت کو پابند کیا جائے کہ احسان اللہ احسان کو رہا نہ کیا جائے بلکہ پابند سلاسل رکھا جائے۔

فضل خان ایڈووکیٹ کے مطابق آرمی پبلک سکول کے حملے میں ہلاک ہونے والے تمام بچوں کے والدین کا یہ مطالبہ ہے کہ اس واقعے میں ملوث تمام افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

قرض کیلئے اگلے ماہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کرینگے :اسد عمر

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض کے ...