I’m ready to retire, says Michael Phelps

No means no. No amount of cajoling, arm-twisting and pleading by his team mates and swimming fans around the world will make Michael Phelps change his mind about retiring after the Rio Olympics.

The great American swimmer made that abundantly clear on Friday after winning the 27th Olympic medal of his career, a three-way dead-heat silver in the men’s 100 meters butterfly.

“No,” he said as the question was still leaving the journalist’s lips, a succession of further ‘no’s following in close succession.

“Done. (South African co-silver medalist) Chad (Le Clos) asked me in the award area and the Dwyers were chanting ‘four more years’.

“They did the same thing in London. The 800 free relay guys said four more years … No. I am NOT going four more years.

“And I’m standing by that,” he insisted.

“I’ve been able to do everything I’ve ever put my mind to in this sport. And 24 years in the sport. I’m happy with how things finished.”

Phelps said in 2012 he was retiring but he came back for one last hurrah after feeling he wanted to bow out on his own terms.

That meant winning back the men’s 200m butterfly title that Le Clos took from him four years ago, and he declared ‘mission achieved’ on that last Wednesday.

He has won four golds and a silver in Rio so far, taking his tally to 22 golds, and is not finished completely yet even if Friday was his last individual race. The 4×100 medley relay on Saturday will be his final farewell.

After that, Phelps will hang up his cap — not the one he ripped in half before the 4×200 freestyle relay — and spend more time with his loved ones.

“Being able to close the door on this sport how I want to, that’s why I’m happy now,” he said.

“I’m ready to retire. I’m happy about it. I’m in a better state of mind this time than I was four years ago. And yeah. I’m ready to spend some time with (baby son) Boomer and (fiancee) Nicole.”

With team mate Anthony Ervin winning the 50 freestyle gold on Friday at the age of 35, 16 years after he first won it, there will always be those who wonder if the 31-year-old Phelps might do another tumble turn and turn up in Tokyo in 2020.

“I will be in Tokyo,” he said. “But I won’t be competing in Tokyo.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

فاسٹ بولر محمد عامر کو جنوبی افریقا کے دورے میں پاکستان ٹیم میں دوبارہ شامل کئے جانے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ ایشیا کپ میں خراب کارکردگی کے بعد سلیکٹرز نے محمد عامر کو تینوں فارمیٹس کی ٹیم سے ڈراپ کر دیا تھا۔ اس دوران محمد عامر نے سوئی سدرن گیس کی جانب سے فرسٹ کلاس اور ون ڈے ٹورنامنٹ میں شرکت کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد عامر کو آف اسپنر بلال آصف کی جگہ ٹیم میں شامل کیا جائے گا جب کہ تیسرے اوپنر کی حیثیت سے شان مسعود کو ٹیم میں شامل کئے جانے کا امکان بھی روشن ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک رائے یہ بھی ہے کہ جنوبی افریقا کے دورے میں دو وکٹ کیپرز شامل ہوں، ایسے میں محمد بھی رضوان ٹیم کا حصہ بن سکتے ہیں۔ کپتان سرفراز احمد کی موجودگی میں پاکستان ٹیم میں ایک ریزرو وکٹ کیپر محمد رضوان کو شامل کیا جا رہا ہے۔ محمد رضوان پاکستان اے کی کپتانی کر رہے ہیں اور بیٹنگ کے شعبے میں مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ رضوان 649 رنز کے ساتھ 20 کیچ بھی وکٹوں کے پیچھے لے چکے ہیں۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ وکٹ کیپر محمد رضوان نے پاکستان کی جانب سے واحد ٹیسٹ نیوزی لینڈ کے خلاف ہیملٹن میں نومبر 2016 میں کھیلا تھا، جس میں وہ صرف 13 رنز تک محدود رہے۔ رضوان اب تک 25 ایک روزہ میچوں اور 10 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں پاکستان کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔ فخر زمان گھٹنے کی انجری کے باعث جنوبی افریقا کے خلاف سیریز کے پہلے ٹیسٹ سے آوٹ ہو چکے ہیں۔ ہیڈ کوچ مکی آرتھر ان فٹ اوپنر کو کھلاتے رہے جس سے فخر زمان کی تکلیف میں اضافہ ہو گیا۔ فخر زمان زمان آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں گھٹنے کی تکلیف کا شکار ہوئے تھے اور انہوں نے گھٹنے کی تکلیف کے بارے میں ٹیم انتظامیہ کو آگاہ کر دیا تھا۔ سلیکٹرز اور ٹیم انتظامیہ پُرامید ہے کہ فاسٹ بولر محمد عباس اہم سیریز سے قبل مکمل فٹ ہو جائیں گے۔ محمد عباس کی ٹیم میں شمولیت ان کی فٹنس سے مشروط ہے۔ جنوبی افریقا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستان ٹیم کو حتمی شکل دی جانے لگی ہے۔ تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ 26 دسمبر سے کھیلا جائے گا۔ ٹیسٹ سیریز سے قبل 19 دسمبر سے تین روزہ پریکٹس میچ بھی کھیلا جائے گا۔ ٹیسٹ ٹیم کے لئے پاکستان کی ممکنہ ٹیم میں کپتان سرفرازاحمد، محمد حفیظ، امام الحق، بابر اعظم، حارث سہیل، اظہر علی، سعد علی، حسن علی، میر حمزہ ،محمد عامر، فہیم اشرف، شاہین شاہ آفریدی، اسد شفیق اور یاسر شاہ شامل ہوں گے۔

دورہ جنوبی افریقا، محمد عامر کے ٹیم میں شمولیت کا امکان

فاسٹ بولر محمد عامر کو جنوبی افریقا کے دورے میں پاکستان ٹیم میں دوبارہ شامل ...